طبلہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
طبلہ

طبلہ جنوبی ایشیا کاایک معروف آلۂ موسیقی ہے جو کہ کلاسیکی اور مذہبی موسیقی، جو کہ جنوبی ایشیائی ممالک اور ہندوستانی کلاسیکی موسیقی کا خاصہ ہے، میں استعمال کیا جاتا ہے۔ موسیقی کا یہ آلہ دو ہاتھ سے بجائے جانے والے چھوٹے ڈھولوں پر مشتمل ہوتا ہے، جو کہ مختلف جسامتوں میں لکڑی کی کئی قسموں سے تیار کیے جاتے ہیں۔ لفظ طبلہ، عربی زبان سے مستعار لفظ ہے، جس کا لفظی مطلب ڈھول کے ہیں۔

تاریخ[ترمیم]

طبلہ کی ایجاد قدیم بھارت میں ہوئی اس بات کےثبوت پائے جاتے ہیں۔ [1]بھارتی ریاست مہاراشٹرا میں بھاجا غاروں میں کندہ نقوش ہیں جن میں ایک عورت طبلہ بجا رہی ہے اور دوسری ناچ رہی ہے۔یہ کندہ نقوش 200 قبل مسیح سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس کی جڑ بھارت میں وید یا اپنشد کے زمانے میں تک جاتی ہے.


نتیجے کے طور پر پشکر وجود میں بھی Pakhawaj سے بہت پہلے تھا. یہ طبلہ مشابہت ایک آلہ زیادہ سے پہلے وجود میں تھا کہ بہت امکان ہے. بھاجا غاروں میں کندہ کے میں پایا مستحکم ثبوت کے ساتھ، یہ ہے کہ طبلہ ایک ہندوستانی ایجاد ہے کہ بیان کیا جا سکتا ہے. تمام بھارت کے دوران مندروں پر طبلہ کے بہت سے دوسرے کندہ کے ہیں. مثال کے طور پر، کرناٹک میں ہویسال مندر پر 12 صدی کے کندہ، بھارت طبلہ کھیلنے عورت سے پتہ چلتا ہے.

بجانے کا طریقہ[ترمیم]


اس آلۂ موسیقی کو استعمال کرنے میں انگلیوں کی پوروں اور ہتھیلیوں کا زیادہ استعمال ہوتا ہے، جبکہ صحیح طور بجانے کے لیے مختلف طریقے رائج ہیں۔ انگلیوں اور ہتھیلی کے مختلف زاویوں اور طریقہ کار سے بجانے پر مختلف آوازیں پیدا کی جا سکتی ہیں جو کہ علم موسیقی کے عین مطابق ہیں۔ ہاتھ کے بالکل زیریں حصے کو بڑے ڈھول پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جس سے پیدا ہونے والی آواز کی سرعت اور باریکی کو ماپ کر سر کے عین مطابق ڈھالا جاتا ہے۔

200 BC carvings from at بھاجی غاریں, مہاراشٹر, ایک عورت طبلہ بجا رہی ہے اور دوسری ناچ رہی ہے

حوالہ جات[ترمیم]