ظفر اللہ خان جمالی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
میر ظفراللہ خان جمالی


در منصب
21 نومبر 2002 – 26 جون 2004
صدر پرویز مشرف
پیشرو پرویز مشرف (عبوری)
جانشین چوہدری شجاعت حسین

پیدائش 1 جنوری 1944 (1944-01-01) ‏(70)
بلوچستان ، برطانوی راج (اب پاکستان)
سیاسی جماعت پاکستان مسلم لیگ ق
مادر علمی گورنمنٹ کالج لاہور
مذہب اسلام

میر ظفر اللہ خان جمالی پاکستان کے سابق وزیر اعظم ہیں۔ وہ یکم جنوری 1944ء کو بلوچستان کے ضلع نصیرآباد کے گائوں روجھان جمالی میں پیدا ہوئے ۔ ابتدائی تعلیم روجھان جمالی میں ہی حاصل کی ۔ بعد ازاں سینٹ لارنس کالج گھوڑا گلی مری، ایچیسن کالج لاہور اور 1965ء میں گورنمنٹ کالج لاہور سے تاریخ میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ ظفر اللہ جمالی صوبہ بلوچستان کی طرف سے اب تک پاکستان کے واحد وزیر اعظم ہیں۔

ظفر اللہ جمالی انگریزی، اردو، سندھی، بلوچی، پنجابی اور پشتو زبان پر عبور رکھتے ہیں۔

شخصیت[ترمیم]

جمالی کی پہچان ایک سنجیدہ اور منجھے ہوئے سیاستدان کی رہی ہے۔ وہ روایات کے پابند ہیں جن میں دوستی اور تعلقات نبھانا اور دوسروں کو ساتھ لے کر چلنا شامل ہے۔

خاندانی پس منظر[ترمیم]

جمالی خاندان قیام پاکستان سے ہی ملکی سیاست میں سرگرم رہی ہے ۔ ظفر اللہ جمالی کے تایا جعفر خان جمالی قائداعظم کے قریبی ساتھی تھے ۔جب محترمہ فاطمہ جناح ایوب خان کے خلاف اپنی انتخابی مہم کے سلسلے میں ان کے علاقے میں آئیں تو ظفراللہ جمالی محافظ کے طور پر ان کے ساتھ تھے۔جمالی خاندان کے افراد ہر دور میں صوبائی اور وفاقی سطح پر حکومتوں میں شامل رہے ہیں۔ان کے چچا زاد بھائی میر تاج محمد جمالی (مرحوم) ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں وفاقی وزیر رہے۔ میر عبدالرحمٰن جمالی اور میر فائق جمالی صوبائی کابینہ میں رہے ہیں۔ اس کے علاوہ سن اٹھاسی کے بعد سے ان کے آبائی گاؤں روجھان جمالی سے تین وزراء اعلیٰ بلوچستانمنتخب ہو چکے ہیں جن میں تاج محمد کے علاوہ ظفراللہ کے بھتیجے جان جمالی بھی شامل ہیں۔میر ظفراللہ کے والد میر شاہنواز جمالی پرانے مسلم لیگی رہنما میر جعفر خان جمالی کے بھائی تھے جنہوں نے تحریک پاکستان میں بھرپور حصہ لیا تھا۔ ظفراللہ کی شادی خاندان میں ہی ہوئی جس سے ان کے تین بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔ دو بیٹے، شاہنواز اور جاوید، پاک فوج میں افسر ہیں جبکہ تیسرے، فریداللہ باپ کی طرح سیاست میں ہیں اور سن ستانوے میں رکن قومی اسمبلی بھی منتخب ہو چکے ہیں۔ان کے قبیلے کا ایک بڑا حصہ بلوچستان کے علاوہ صوبہ سندھ میں بھی آباد ہے۔ یوں ان کا سیاسی اور قبائلی اثر و رسوخ دو صوبوں پر محیط ہے۔ [1]

عملی سیاست[ترمیم]

ذوالفقار علی بھٹو، میر جعفر خان جمالی کو اپنا سیاسی مرشد مانا کرتے تھے۔17 اپریل 1967ء کو جعفر خان جمالی کی وفات کے موقع پر جب ذوالفقار علی بھٹو روجھان جمالی گئے تو ظفر اللہ جمالی کے والد شاہ نواز جمالی سے انہوں نے کہا کہ اس گھرانے سے سیاست کے لئے مجھے ایک فرد دے دیجیئے ، جس کے جواب میں شاہ نواز جمالی نے ظفر اللہ جمالی کا ہاتھ ذوالفقار علی بھٹو کے ہاتھ میں دے دیا تھا ۔ یہی سے ظفر اللہ خان جمالی نے باقاعدہ عملی سیاست میں قدم رکھا ۔ [2]

1970ء کے انتخابات میں صوبائی اسمبلی کے امیدوار کھڑے ہوئے لیکن کامیاب نہ ہوسکے ۔ 1977ء میں بلا مقابلہ صوبائی اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے اور صوبائی وزیر خوراک اور اطلاعات مقرر کئے گئے۔ 1982ء میں وزیر مملکت خوراک و زراعت بنے۔ 1985ء کے انتخابات میں نصیرآباد سے بلا مقابلہ قومی اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے۔ 1986ء میں وزیراعظم محمد خان جونیجو کی کابینہ پانی اور بجلی کے وزیر رہے ۔ 29ء مئی 1988ء کو جب صدر جنرل محمد ضیاء الحق نے جونیجو حکومت کو برطرف کیا تو انہیں‌وزیر ریلوے لگادیا۔ 1986ء کے انتخابات میں صوبائی اور قومی اسمبلی کی نشست پر منتخب ہوئے ۔ قومی اسمبلی کی نشست سے مستعفی ہوگئے اور صوبائی اسمبلی کے ممبر بنے۔ 1988ء میں وہ بلوچستان کے نگران وزیر اعلیٰ مقرر ہوئے ۔ اس کے بعد ہونے والے انتخابات میں منتخب ہونے کے بعد انہوں نے وزارت اعلیٰ کا منصب تو برقرار رکھا لیکن اسمبلی توڑ دی جسے بعد میں عدالت کے حکم سے بحال کیا گیا۔ اس کے بعد نواب اکبر بگٹی وزیراعلیٰ بنے ۔ 1990ء کے انتخابات میں قومی اسمبلی کے امیدوار تھے لیکن ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ جبکہ 1993ء میں کامیاب ہوگئے ۔ 9 نومبر 1996ء تا 22 فروری 1997ء دوبارہ بلوچستان کے نگراں وزیراعلیٰ رہے ۔ 1997ء میں سینٹ کے ممبر منتخب کئے گئے ۔

مسلم لیگ (ق)[ترمیم]

1999ء نواز شریف کی جلاوطنی کے بعد جب مسلم لیگ دو حصوں میں تقسیم ہو گئی تو جمالی مسلم لیگ (ق) لیگ کے جنرل سیکریٹری بنے۔ یہ جماعت نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹانے والے صدر جنرل پرویز مشرف کی زبردست حمایت کررہی تھی۔مخالف دھڑے میں ہونے اور وزیر اعظم کی نامزدگی کے امیدوار ہونے کے باوجود وہ نواز شریف اور بینظیر بھٹو کو وطن واپس آنے اور انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دینے کے خواہشمند تھے ۔

وزارتِ اعظمٰی[ترمیم]

انتخابات 2002اکتوبر کے نتیجے میں ان کو پارلیمنٹ نے 21 نومبر 2002 میں وزیر اعظم منتخب کیا۔ وزیراعظم کا انتخاب کئی سیاسی جماعتوں‌کے مذاکرات کے بعد عمل میں آیا۔ یہ مرحلہ اس وقت روبہ عمل ہوا جب پیپلز پارٹی کا ایک دھڑا الگ ہو کر مسلم لیگ (ق) کی حمایت پر آمادہ ہوا۔

  • جمالی دور میں پرویز مشرف کے حمایتوں اور مخالفین کے درمیان جاری رہنےو الی رسہ کشی ایک سال کے بعد دسمبر 2003ء میں متحدہ مجلس عمل کی مدد سے ستارہویں ترمیم کی منظوری کے بعد ختم ہوئی ۔متحدہ مجلس عمل اور پرویز مشرف کے درمیان یہ معاہدہ طے پایا کہ ستارہویں ترمیم منظور کرانے کے بعد پرویز مشرف 31‌ دسمبر 2004ء تک وردی اتارلیں گے ۔لیکن پرویز مشرف نے یہ وعدہ وفا نہ کیا۔
  • اپنے وزارت عظمیٰ میں ظفر اللہ جمالی نے کئی وسط ایشیائی ، خلیجی ممالک سمیت امریکہ کا بھی دورہ کیا ۔ بش سینئر سے 90ء کی دہائی میں تعلق قائم تھا ۔پرانے تعلق کو استعمال کرتے ہوئے دورہ امریکہ کے دوران صدر بش سے تعلق استوار کیا ۔[3]
  • ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی امریکا منتقلی کے لئے کاغذات پر دستخط سے انکار کیا ۔ [4]
  • جمالی اپنے دور اقتدار میں کوئی بڑا عوامی ریلیف دینے میں ناکم رہے تاہم ان کی سب سے بڑی کامیابی یہ رہی کہ انہیں کے دور میں کوئی بڑا بحران نہیں رہا، متحدہ مجلس عمل سے مذاکرات کو چلائے رکھنا بھی ان کی بری کامیابی سمجھی گئی ۔

جمالی کابینہ[ترمیم]

وزیراعظم ظفر اللہ خان جمالی کی کابینہ میں خورشید قصوری،فیصل صالح حیات، راؤ سکندر اقبال، شیخ رشید احمد، عبدالستار لالیکا، ہمایوں اختر، کنور خالد یونس، نواز شکور، غوث بخش مہر، لیاقت جتوئی، اولیس لغاری، سمیر املک اور سردار یار محمد رند شامل تھے۔

استعفٰی[ترمیم]

وزیراعظم بننے کے بعد صدر جنرل پرویز مشرف کے قریبی ساتھی سمجھے جانے لگے ، انھوں نے دورانِ حکومت صدر کی پالیسیوں کی مکمل حمایت بھی کی۔ ظفر اللہ جمالی ہمیشہ ایک وسیع تر سیاسی اتحاد کے لئے کوشاں رہے اور جمہوریت کی بحالی کی طرف روبہ عمل رہنے کا وعدہ کیا تاہم وہ اپنی یہ پوزیشن برقرار نہ رکھ سکے اور 26 جون 2004ء کو وزیراعظم کے عہدہ سے مستعفی ہوگئے ۔[5]

استعفے کی وجوہات[ترمیم]

  • وزیراعظم جمالی کے استعفٰے کی وجہ واضح طور پر بیان تو نہیں کی گئی تاہم تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ سب چوہدری شجاعت حسین اور ظفر اللہ جمالی کے درمیان اختلافات کا نتیجہ تھا جو اس کے بعد ملک کےعبوری وزیراعظم بنے ۔ تجزیہ کاروں‌ کے مطابق جنرل مشرف نے میر ظفر اللہ خان جمالی سے وعدہ لیا تھا کہ وہ تمام ایگزیکٹیو تقرریاں ان کی منظوری اور مسلم لیگ کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین سے مشاورت سے کرینگے تاکہ گڈ گورننس کا مقصد پورا ہوتا رہے لیکن ایسا نہ ہوسکا اور میر ظفراللہ جمالی نے چند وفاقی سیکرٹریوں کے تبادلے اپنے طور پر کردیئے جس سے ابتداء ہی میں بد اعتمادی کی فضاء پیدا ہوگئی ۔

بلوچستان سے تعلق رکھنے والے پہلے وزیراعظم جمالی کے لئے اقتدار پہلے دن سے ہی پھولوں کی سیج ثابت نہیں ‌ہوا ۔ ان کی جماعت کے ارکان پارلیمنٹ میں‌اکثریت کا تعلق پنجاب سے تھا جن پر چوہدری برادران کی گرفت خاصی مضبوط تھی ۔مئی 2004ء تک جمالی اور شجاعت اختلافات شدت اختیار کرگئے اور اسمبلی ٹوٹنے اور وسط مدتی انتخابات کی باتیں ہونے لگیں ۔[6] [7]

  • جنرل پرویز مشرف سے انڈر سٹینڈنگ میں دوسرا فیصلہ یہ شامل تھا کہ پارٹی بالادست ہوگی یعنی وزیراعظم اور حکومت پارٹی فیصلوں پر عمل درآمد کرے گی ۔ اس اصول کا اعلان چوہدری شجاعت حسین نے مسلم لیگ ہاؤس میں‌منعقد ہونے والے اجلاس عام میں‌کیا تھا۔ ظفراللہ جمالی نے بھی یہ اعلان کیا کہ یہ اصول کہ حکومت پارٹی کو نہیں‌پارٹی حکومت کو چلائے گی ہم نے مل بیٹھ کر طے کیا ہے اور وہ اس اصول پر کاربند رہیں گے ۔ میر ظفر اللہ جمالی اپنے اس اعلان پر قائم نہ رہ سکے ۔
  • اختلاف کی ایک بڑی وجہ وزیراعظم جمالی کی کابینہ میں چوہدری شجاعت کی توسیع کی خواہش پر عملدرآمد کرنے سے گریز بھی تھا ۔
  • صدر مشرف کے وزیراعظم جمالی سے اختلاف کا ایک اہم واقعہ اپریل 2004ء میں نیشنل سیکیورٹی کونسل کے بل کی منظوری کے وقت پیش آیا۔ نیشنل سیکیورٹی کونسل کا مسودہ قانون وزیراعظم جمالی نے کابینہ کی منظوری کے لیے پیش کردیا اور کابینہ میں کہا کہ ’ہم پر ذمہ داری آگئی ہے اور ہم اسے اس طرح منظور کریں کہ پارلیمینٹ کا وقار قائم رہے‘۔جمالی کی کوششوں سے نیشنل سکیورٹی کونسل کا اصلی مسودہ قانون جسے صدر مشرف کے ساتھیوں نے تیا رکیا تھا اس میں تبدیلی کی گئی۔ ا س کے دائرہ کار میں سے جمہوریت، اچھا نظم ونسق اور بین الاصوبائی امور پر مشاورت کو نکال دیا گیا اور ان کی جگہ کرائسس مینجمینٹ (ہنگامی حالات سے نپٹنے) کے الفاظ شامل کیے گئے۔
  • اپریل 2004ء میں نیشنل سیکورٹی کونسل کا بل پاس ہوتے ہی پیپلز پارٹی پیٹریاٹ کے ارکان وفاقی وزراء فیصل صالح حیات اور راؤ سکندر اقبال نے کھلے عام صدر مشرف سے کہا کہ وہ وردی نہ اتاریں اس سے ملک میں عدم استحکام پیدا ہوگا۔ بظاہر نرم مزاج جمالی اندر سے قدرے سخت سیاستدان ثابت ہوئے- انہوں ‌نے آخر تک صدر پرویز مشرف کی وردی کے معاملے پر حمایت کرنے سے انکار کردیا اور بطور وزیراعظم نازک سیاسی معاملات پر اپنی آزاد رائے پر اصرار کیا ۔ [8] سرکاری پارٹی اور اس کے حلیفوں کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات کو دیکھتے ہوئے صدر پرویز مشرف نے دھمکی دی کہ وہ پورا نظام لپیٹ دیں گے(ستارہویں ترمیم کے ذریعے صدر کو اسمبلی تحلیل کرنے کا اختیار واپس مل گیا ۔) اس پر ارکان پارلیمنٹ خوفزدہ ہوگئے اور انہوں‌نے صدر کو کوئی درمیانی راہ نکالنے کے لئے کہا۔ اس دوران متحدہ مجلس عمل اور اے آر ڈی کی جانب سے میر ظفر اللہ خان جمالی کی حمایت میں بیان آنے لگے۔ یہ وہ صورتحال تھی جس نے صدر کو برہم کردیا جس کے بعد ظفر اللہ جمالی پر استعفیٰ کے لئے دباؤ بڑھ گیااور وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے ۔

"اسپورٹس مین جمالی"[ترمیم]

سیاستدان ہونے کے علاوہ جمالی ایک اسپورٹسمین بھی ہیں۔ جوانی کے دور میں انہوں نے سندھ بھر میں والی بال کے کئی ٹورنامنٹ منعقد کروائے اور یوں اس صوبے میں اس کھیل کو مقبول کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا۔ وہ خود والی بال کے اچھے کھلاڑی اور کرکٹ اور ہاکی کے شوقین ہیں۔ 2006ء سے 2008ء تک وہ پاکستانی ہاکی فیڈریشن کے صدر اور مختلف ادوار میں انتخابی بورڈ کے رکن بھی رہے ہیں۔

حوالہ جات[ترمیم]


سیاسی دفاتر
پیشرو
جام غلام قادر خان
وزیراعلیٰ بلوچستان
1988ء
جانشین
خدا بخش مری
پیشرو
ذوالفقار علی مگسی
وزیراعلیٰ بلوچستان (نگران)
1996ء  –  1997ء
جانشین
اختر مینگل
خالی
عہدے پر پچھلی شخصیت
نواز شریف
وزیراعظم پاکستان
2002 – 2004
جانشین
چوہدری شجاعت حسین