عاطف اسلم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
عاطف اسلم
عاطف اسلم
عاطف اسلم
فنکار موسیقی
پیدائشی نام عاطف اسلم
ولادت 12 مارچ، 1983ء
ابتدا Baldia Town Karachi، Flag of Pakistan (bordered).svg پاکستان
اصناف موسیقی پاپ
راک
پیشہ گلوکار
موسیقار
سرگرم دور 2004ء تا حال
ریکارڈنگ کمپنی فائر میوزک


عاطف اسلم ایک پاکستانی مشہور گلوکار ہیں جو کہ پاکستانی شہر وزیرآباد میں پیدا ہوئے اور راولپنڈی، لاہور میں تعلیم حاصل کی۔ وہ 12 مارچ، 1983ء میں پیدا ہوئے۔ ان کے مشہور گیت، عادت، ہم کس گلی جارہے ہیں، وہ لمحے، دوری اور تیرے بن ہیں۔

ابتدائی دور[ترمیم]

9 سال کی عمر میں وہ اپنے اہل خانہ کے ہمراہ وزیرآباد سے لاہور منتقل ہو گئے جہاں انہوں نے ڈویژنل پبلک اسکول میں داخلہ لیا۔ 1995ء میں وہ لاہور آئے اور ڈویژنل پبلک سکول ماڈل ٹاؤن لاہور میں اپنی تعلیم جاری رکھی۔ انہیں سکول کی کرکٹ ٹیم میں گیند باز کی حیثیت سے منتخب کر لیا گیا۔ انہوں نے پاکستان کرکٹ ٹیم میں جانے کے لیے سر توڑ کوشش کی۔

انھوں نے اپنی ثانوی تعلیم، پی اے ایف کالج لاہور میں جاری رکھی اس دور میں انھیں موسیقی سے محبت ہو گئی۔ ان کے بڑے بھائی کے پاس 8000 گیتوں کا مجموعہ موجود تھا جس میں ہر قسم کے گیت موجود تھے۔ وہ انھیں سنتے رہتے اور اسی دور میں انہوں نے اپنی آواز میں نکھار پیدا کیا اور بہت جلد گلوکاری سیکھنے لگے۔ انہیں کرکٹ کا جنون کی حد تک شوق تھا۔ وہ شیپز کرکٹ کلب میں مشق کیا کرتے، جہاں انہیں ماضی کے مایہ ناز کرکٹر عمران خان مختلف مشورے دیتے تھے۔

موسیقی کا دور[ترمیم]

عاطف اسلم نے گلوکاری کا آغاز جل بینڈ میں مرکزی صداکار کی حثیت سے کیا ۔ اس کا پہلا گانا عادت بہت جلد پاکستان اور انٹرنیٹ کے زریعے باقی دنیا میں مشہور ہو گیا ۔اس گانے نے عاطف اسلم کو ایک الگ پہچان دی۔اس کے بعد جل میں عاطف اور دوسرے رکن گوہر میں اختلافات پیدا ہو گئےاور اس کے بعد عاطف نےاکیلا گانا شروع کیا اور اپنی پہلی البم جل پری ریلیز کی۔

بالی وڈ[ترمیم]

جل پری اپنی منفرد موسیقی اور عاطف اسلم کی دلکش آواز کی بدولت بہت مقبول ہوئی ۔اس مقبولیت نے بالی وڈ فلموں کے دروازے ان پر کھولے اورانھیں نے بھارتی فلموں میں پس پردہ گلوکاری کا آغاز شروع کیا۔بہت جلد عاطف پاکستان و ہندوستان دونوں میں نوجوان نسل کے پسندیدہ گلوکار بن گئے۔

تنقید[ترمیم]

عاطف کی مقبولیت اور موسیقی کی باقاعدہ تعلم نہ ہونے کی وجہ سے بہت سے سینئر گلوکار ان سے خوش نظر نہیں آتے اور ان کے گانوں کو خاطر خواہ اہمیت نہیں دیتے۔مگر اس کے باوجود ان کو عوام میں پسند کا درجہ حاصل ہے۔