عالم آراء

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

ہندوستان کی پہلی بولتی فلم۔ 14 مارچ 1931ء کو ممبئی کے میجسٹک تھیٹر میں پیش کی گئی ۔

پوسٹر[ترمیم]

اس وقت بھارت میں اردو زبان کا بول بالا تھا اور فلم کے پوسٹرز پر چونکانے والے جملے لکھے گئے تھے مثلاً ’اٹھہتر مردہ انسان زندہ ہو گئے انہیں بولتے دیکھو‘۔ اس انداز نے لوگوں کی بھیڑ اکٹھا کر دی۔ پولیس کے لیئے اس بھیڑ پر قابو پانا مشکل ہو گیا [[ تصغیر ]] ۔ اس فلم کے ٹکٹ بلیک بھی ہوئے۔

فلم کمپنی[ترمیم]

اس زمانے میں فلمی کمپنیاں فلم پروڈیوس کرتی تھیں اور پہلی بولتی فلم عالم آراء امپیریل مووی ٹون کے بینر تلے بنی ۔فلم کے ہدایت کار اردشیر ایرانی تھے ۔ اس وقت فلمسازی کے میدان میں بڑی تعداد میں پارسی فرقے کے لوگ حاوی تھے اور ان کی کئی کمپنیاں تھیں ۔

مشکلات[ترمیم]

اسٹوڈیو میں جہاں فلم بن رہی تھی ، قریب ہی ریل کی پٹٹری تھی اور ہر چند منٹ پر ریل گزرتی تھی اس لیئے رات کے وقت ساؤنڈ ریکارڈنگ کی جاتی تھی اور سیٹ پر مائیکروفون چھپا کر رکھے جاتے تھے ۔

اداکار[ترمیم]

فلم کے ہیرو کا کردار مراٹھی تھیئٹر کے اداکار ماسٹر وٹھل نے کیا۔ ہیروئین زبیدہ تھیں جو اپنے دور کے امیر گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں۔ فلم میں پرتھوی راج کپور اور ایل وی پرساد بھی تھے۔ فلم میں بائیس نغمے تھے۔