عباس ابن فرناس

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
مسلم سائنسدان
ابن فرناس
اندلسی سائنسدان عباس ابن فرناس
ولادت 810ء
اذن رند اوندا ، اندلس (حالیہ روندا، اسپین )
وفات 887ء
قرطبہ ، اسپین
وجۂ وفات اڑان کے تجربے سے حادثہ
آخری آرامگاہ اسپین
پورا نام عباس ابوالقاسم ابن فرناس ابن ورداس التکورینی
آبائی وطن اندلسی
دور مسلم اسپین
خطہ اندلس
پیشہ مہندس ، موجد ، ریاضی دان، ماہر طبعییات ،حکیم ، شاعر و موسیقار
قابل ذکر کام اڑان پر تجربات، آبی گھڑی

ابن فرناس جن کا پورا نام عباس قاسم ابن فرناس تھا ۔ وہ ایک موجد ، مہندس، طیارچی ، حکیم ، شاعر اور موسیقار ، طبعیات ، ماہر فلکیات اور کیمیا دان تھے ۔

ابتدائی حالات[ترمیم]

وہ اندلس ( مسلم اسپین ) کے شہر اذن ۔ رند ۔ اوندا (Izf-Rand Onda) میں 810 ء میں پیدا ہوئے اور بعد میں 'قرطبہ' میں رہائش اختیار کی ۔ عباس ابن فرناس بربرنژاد اور جنوبی اسپین کے ضلع تکرنہ (Ronda) کا باشندہ تھا۔ اس نے اپنی تمام عمر قرطبہ میں بسر کی اور اپنے علم و حکمت کی بنا پر اُس زمانے کا عظیم ترین سائنسدان کہلایا ۔ اس کی ایجادات اور اختراعات بے شمار ہیں اور اگر اسے اپنے زمانے کا نابغہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا ۔

علمی کارنامے[ترمیم]

وہ علم ریاضی ،شاعری ، طبعیات ، پراسرار علوم کا ماہر اور پیچیدہ گتھیوں کو سلجھانے میں یکتا تھا ۔ اس نے پانی کی گھڑی ایجاد کی ، کرسٹل بنانے کا فارمولا بنایا اور تو اور اپنی تجربہ گاہ میں اس نے شیشے اور مشینوں کی مدد سے ایک ایسا پلانیٹیریم بنایا جس میں لوگ بیٹھ کر ستارے ، بادلوں کی حرکت اور ان کی گرج چمک کا مظاہرہ دیکھ سکتے تھے ۔

اس کی ریاضی میں مہارت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے ایک دفعہ ایک تاجر بلاد مشرق کے سفر سے واپسی پر مشہور مسلمان عالم خلیل بن احمد کی کتاب اپنے ساتھ لایا ۔ خلیل ایک عالم، شاعر اور ماہر لسانیات تھا جو آٹھویں صدی میں بغداد میں ہو گذرا تھا ۔ اس کا ایک کارنامہ عربی کی پہلی لغت تیار کرنا ہے ۔ اس نے شاعری میں علم عروض اورحسابی تقطیع کی بنیاد ڈالی تھی ۔ یہ کتاب سپین میں بالکل نئی آئی تھی اور کوئی اس کے مندرجات سے واقف نہیں تھا اور نہ اس کی تشریح کرنے پر قادر تھا چنانچہ یہ کتاب ابن فرناس کے سپرد کی گئی ۔ وہ اسے لے کر ایک گوشے میں چند ساعت کے لئے بیٹھ گیا اور اس کے بعد اُس نے اس کتاب کی ریاضیاتی ترکیب اور مطالب بڑی وضاحت سے اپنے حاضرین کو بیان کیے جسے سن کر وہ اس کی مہارت اور یادداشت پر ششدر رہ گئے ۔

کارہائے نمایاں[ترمیم]

822 میں جب نیا خلیفہ عبدالرحمان دوئم تخت نشین ہوا تو اس نے دنیا سے تمام با صلاحیت افراد کو اکٹھا کرنا شروع کیا ۔ تو ان میں سے ایک ابن عباس تھے ۔

خلیفہ عبدالرحمان دوئم کے زیر سرپرستی 852ء میں ایک بہادر شخص جس کا نام ارمن فرمن (Armen Firman) تھا اس نے پروں کی طرح کی ایک بڑی سی چادر کے ذریعے قرطبہ کی ایک اونچی عمارت سے اڑنے کی کوشش کا مظاہرا کیا اس کے لیے لوگوں سے شرط بھی لگائی کیا مگر وہ فوراً ہی نیچے گر گیا اور اس کو معمولی سی چوٹیں آئیں ۔ ارمن کسی حد تک اپنی شرط جیت گیا تھا ۔ اس کو دنیا کا سب سے پہلا پیرا شوٹ بھی کہا جاتا ہے ۔ عباس ابن فرناس بھی یہ دیکھنے کے لیے وہاں پر موجود تھے ۔ اس کے بعد ابن فرناس نے بھی اڑان پر تجربات کرنا شروع کر دیے اور تیئس سال بعد ان کا تجربہ کسی حد تک کامیاب بھی رہا ۔

عباس ابن فرناس کے بنائے ہوئے اڑان مشین کا خاکہ


اس کا سب سے بڑا کارنامہ تاریخ میں پہلی انسانی پرواز ہے ۔ وہ گھنٹوں پرندوں کو محو پرواز دیکھ کر انہیں کی طرح اڑنے کا خواہشمند تھا ۔ اس نے کئی برس پرندوں کی پرواز کی تکنیک یعنی ایروڈائنامیکس کا بغور مطالعہ کیا اور ایک دن یہ اعلان کیا کہ انسان بھی پرندوں کی طرح اڑ سکتا ہے ۔ جب اس کے ناقدین نے اُس کا مذاق اڑایا تو اس نے اپنی تھیوری کا عملی مظاہرہ بذات خود کرنے کا اعلان کر دیا ۔

اس نے پرندوں کے سے دو پر سائز میں اپنے وزن کے مطابق تیار کئے اور ان کے فریم ریشم کے کپڑے سے منڈھ دیے ۔ پھر قرطبہ سے دو میل دور شمال مغرب میں واقع امیر عبد الرحمن الداخل کے بنائے ہوئے محل رصافہ کے اوپر واقع ایک پہاڑی پر چڑھ گیا اور کئی سو تماش بینوں کی موجودگی میں چٹان کے اوپر کھڑا ہو کر دونوں پر اپنے جسم کے ساتھ باندھ لئے ۔ تماشائی بڑی حیرت اور تعجب سے یہ ساری کاروائی دیکھ رہے تھے ان کا خیال تھا کہ ابھی اسی کوشش میں اس پاگل سائنسدان کی ھڈیاں تک سلامت نہیں بچیں گی ۔

اپنی تیاریاں مکمل کرنے کے بعد ابن فرناس نے تماشائیوں کی جانب ایک نظر دیکھا اور پھر پہاڑی سے چھلانگ لگا دی ۔ وہ اپنے پروں کی مدد سے ہوا میں کچھ دیر تیرتا رہا اور پہاڑ سے کچھ فاصلے پر واقع ایک میدان میں بحفاظت اتر گیا اگرچہ اس کی کمر لینڈنگ کے دوران دباو کی وجہ سے تھوڑی بہت متاثر ہوئی ۔ اس وقت اس کی عمر 65 یا 70 برس بیان کی جاتی ہے ۔ یہ واقعہ نویں صدی کے دوسرے ربع میں پیش آیا اور اس طرح وہ انسانی تاریخ کا ہوا میں پہلا اڑنے والا انسان کہلایا ۔


اس نے اپنا تجربہ اسی جگہ پر ارمان کی چھلانگ کے تقریبا تئیس برس بعد کیا ۔ یہ جگہ ایسی پہاڑیوں پر مشتمل تھی جس کے نیچے ایک بہت بڑا ہموار قطعہ زمیں واقع تھا ۔ اس جگہ ہوا نیچے زمین سے ہو کر پہاڑیوں سے ٹکراتی تھی اور اس کے بعد بلندی کی جانب جاتی تھی ۔ وہاں پرندے ہوا کی اس قوت کی وجہ سے دوران پرواز فضا میں معلق رہنے کا مزہ اٹھاتے تھے ۔ ابن فرناس نے پچھلے تئیس برس ایروڈانامیکس کا مطالعہ کرتے ہوئے گذارے تھے ۔ مقررہ دن چھلانگ لگانے کے بعد ابن فرناس ہوا میں کچھ روایات کے مطابق دس سیکنڈ پرواز کرتا رہا مگر لینڈنگ کے دوران زمین سے بری طرح ٹکرایا ۔ اس کی کمر اور چند دوسری ہڈیاں متاثر ہوئیں جس کی وجہ سے وہ ایک عرصہ صاحب فراش رہا ۔ مگر وہ کچھ مدت بعد اپنی اس معذوری اور بڑھاپے کے باوجود چلنے پھرنے کے قابل ہو گیا ۔ یہ درد اور معذوری اس کی بقیہ عمر کے بارہ سال تک اس کے ساتھ رہی ۔ قدامت پرست لوگوں کا کہنا تھا کہ خدا نے اس کو سزا دی ہے کیونکہ اس نے فانی انسان ہوتے ہوئے خدا کی دوسری مخلوق کی طرح بلندی پر جانا چاہا تھا ۔ اس طرح کے طعنے وہ اپنی بقیہ عمر جب بھی عوام کے درمیان جاتا لوگوں سے سنتا رہا ۔ اپنی جسمانی تکلیف کو کم کرنے کی خاطر وہ شراب اور نشہ آور ادویات کا سہارا لیتا رہا ۔ تاہم ان بقیہ سالوں میں اس نے اپنے پلانیٹیریم کو امیر اندلس کی فرمائش پر موبائل بنایا ۔ ریت سے بلور بنانے کا کام جاری رکھا ، پانی اور دوسری قسم کی گھڑیاں بنانا بھی جاری رکھا ۔

اپنے فارغ وقت میں وہ اکثر غور کرتا کہ آخر پرواز کرنے والے سوٹ میں کیا خرابی تھی جس کی وجہ سے اسے چوٹ کا صدمہ اٹھانا پڑا ۔ اس کی سمجھ میں یہی آیا کہ پرندے اپنی پرواز اور لینڈنگ کے دوران اپنی دم کا استعمال کرتے ہیں ۔ اس نے پر تو بنا لئے تھے مگر دم کی اہمیت کو اچھی طرح سمجھ نہیں سکا تھا ۔ اسے اپنی اس غلطی کا احساس شاید آخری سانس تک رہا ۔


ابن فرناس کے گزرنے کے کئی سال بعد تقریبا 1010ء میں ایک یورپی راہب ایلمر مالسمبری (Eilmer of Malmesbury)نے بھی عباس ابن فرناس کے بنائے ہوئے ڈیزائن کے مطابق اڑن مشین بنائی ۔ اور اس کے مزید کچھ صدیوں بعد پندھویں صدی میں لیونارڈو ڈاؤنچی میں اس میں اضافہ کیا ۔

علم ہئیت اور فلکیات (Astronomy) اور علوم نجوم (Astrology) کے ضمن میں اندلسی مسلمان سائنسدانوں میں اگرچہ علی بن خلاق اندلسی اور مظفرالدین طوسی کی خدمات بڑی تاریخی اہمیت کی حامل ہیں، مگر ان سے بھی بہت پہلے تیسری صدی ہجری میں قرطبہ (Cordoba)کے عظیم سائنسدان ”عباس بن فرناس“ نے اپنے گھر میں ایک کمرہ تیار کر رکھا تھا جو دور جدید کی سیارہ گارہ (Planetarium) کی بنیاد بنا۔ اس میں ستارے، بادل اور بجلی کی گرج چمک جیسے مظاہرِ فطرت کا بخوبی مشاہدہ کیا جاسکتا تھا۔ عباس بن فرناس وہ عظیم سائنسدان ہے جس نے دنیا کا سب سے پہلا ہوائی جہاز بناکر اڑایا۔ بعد ازاں البیرونی (Al-berouni) اور ازرقیل (Azarquiel) وغیرہ نے (Equatorail Instruments) کو وضع کیا اور ترقی دی۔ [1]

اس نے قلمی چٹانوں کو توڑنے کے لیے مشین بنائی اور تال ترازُو (Metribine) بھی بنائی ۔ اس کے علاوہ آبی گھڑی بھی ایجاد کی ۔ ۔ no |title= specified

یادگار[ترمیم]

٭ عباس ابن فرناس کے نام پہ چاند میں ایک گڑھے کا نام بھی رکھا گیا ہے۔ [2]

٭ اسپین میں ابن فرناس کے نام پر ایک برج بنایا گیا

٭ دبئی کے ابن بطوطہ شاپنگ مال میں ابن فرناس کا مجسمہ اڑان کے تجربات کے حالت میں نصب کیا گیا

٭ اسپین میں اس کا مجسمہ بناکر نصب کیا گیا ۔

تنازعہ[ترمیم]

٭ کہا جاتا ہے کہ اس کی موت کی وجہ پرواز کے تجربات تھے ۔ جس کے متعلق اس دور کے قدامت پسند طبقے اس کی موت کو خود کشی قرار دے کر اسے قابل نفرت بنانا چاہتے تھے ۔

٭ چند مورخین کہتے ہیں کہ ارمان فرمان دراصل ابن فرناس کا لاطینی نام ہے

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ الطاف حسین میمن طاہری (رسالہ الطاہر ) (شمارہ 48، ذیقعد 1428ھ بمطابق دسمبر 2007ء)، "مسلمان سائنسدان"، جماعت اصلاح المسلمین، http://www.islahulmuslimeen.org/urdu/attahir/48/11.htm
  2. ^ http://www.essortment.com/all/firstflight_rrri.htm

٭ مائیکل ہملٹن مورگن کی کتاب ” ” لوسٹ ہسٹری”( جو نیشنل جیو گرافک سوسائٹی واشنگٹن ڈی سی نے 2007 میں شائع کی) ٭ ابن فرناس پر یوٹیوب فلم

مزید مطالعہ[ترمیم]