عبدالقادر الجزائری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
عبدالقادر الجزائری

الجزائر کو فرانس کے تسلط سے بچانے کے لیے جس رہنما نے نمایاں اور قابل قدر کوشش کی اور تحریک آزادی کو عوامی مزاحمت بنادیا، وہ عبدالقادر الجزائری ہیں۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

عبدالقادر 1808ء میں ایک دیندار گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اپنے وطن میں حاصل کرنے کے بعد 21 سال کی عمر میں حج کرنے مکہ معظمہ گئے۔ اس سفر کے دوران ان کو بغداد، دمشق اور قاہرہ میں قیام کرنے اور علماء سے ملنے کا موقع بھی ملا۔ محمد علی پاشا والئ مصر اپنے ملک کو ترقی دینے کی جو کوششیں کررہا تھا، عبدالقادر اس سے بہت متاثر ہوئے۔

وہ اپنے سفر اس سے سال واپس الجزائر آئے جس سال فرانس الجزائر پر قابض ہوا تھا۔ نئی صورتحال نے عبدالقادر کو بے چین کردیا اور انہوں نے فرانس سے جنگ کرنے کا عزم کرلیا۔

اعلانِ جہاد[ترمیم]

اس زمانے میں اندرون ملک مسلمانوں کی چھوٹی چھوٹی ریاستیں قائم تھیں جو آپس میں لڑتی رہتی تھیں اوراس قابل نہیں تھیں کہ متحد ہوکر فرانس کا مقابلہ کرسکیں۔ عبدالقادر نے مختلف قبائل کے اختلافات ختم کیے اور ان کو اس پر آمادہ کرلیا کہ وہ متحد ہوکر فرانس کا مقابلہ کریں۔ ان قبائل نے 22 نومبر 1832ء کو عبدالقادر (جن کی عمر اس وقت صرف 25 سال تھی) کو اپنا امیر مقرر کرلیا۔

الجزائری مسلمانوں کی قیادت سنبھالنے کے بعد امیر عبدالقادر نے قصبہ مسکرہ کی مسجد میں فرانسیسیوں کے خلاف جہاد کا اعلان کردیا۔ انہوں نے جلد ہی مغربی الجزائر کے قبائل کو اپنے جھنڈے تلے متحد کردیا اور فرانسیسی فوجوں کو کئی شکستیں دیں یہاں تک کہ فروری 1834ء میں فرانس عبدالقادر کو مغربی الجزائر کا امیر تسلیم کرنے پر مجبور ہوگیا لیکن اگلے سال فرانس سے پھر تصادم شروع ہوگئے اور جنگوں کا یہ سلسلہ کئی سال جاری رہا۔

شکست و نظر بندی[ترمیم]

1839ء تک امیر عبدالقادر الجزائر کے ایک تہائی حصے پر قابض ہوگئے۔ اس کے بعد ان کی مشکلات بڑھ گئیں اور فرانسیسی فوجوں کی کثرت اور جدید اسلحے کی وجہ سے عبدالقادر 21 دسمبر 1847ء کو امام شامل کی طرح ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہوگئے۔

چند سال نظر بند رکھنے کے بعد فرانسیسیوں نے امیر عبدالقادر کو رہا کردیا۔ وہ شروع میں بروصہ (ترکی) گئے اور پھر دمشق میں مستقل رہائش اختیار کرلی۔ یہاں سلطان عبدالمجید کے دور میں 1860ء میں جب دروزیوں نے عیسائی آبادی کا قتل عام کیا تو امیر عبدالقادر نے اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر ہزاروں عیسائیوں کی جانیں بچائیں اور اپنے اس طرز عمل کی وجہ سے سارے یورپ میں خراج تحسین وصول کیا۔ امیر عبدالقادر 26 مئی 1883ء میں انتقال کرگئے۔

انتظامِ مملکت[ترمیم]

امیر عبدالقادر نے جو نظام حکومت قائم کیا تھا اس میں آزاد علاقے دارالاسلام کہلاتے تھے اور فرانسیسی علاقے دارالکفر اور مسلمانوں کے لئے دارالکفر سے دارالاسلام میں آنا واجب تھا۔ امیر عبدالقادر نے اپنے لیے امیر المومنین کا لقب اختیار کیا تھا اور مشورے کے لیے ایک مجلس شوریٰ بنائی تھی جو گیارہ علماء پر مشتمل تھی۔ نظام حکومت مختلف امور کے وزیروں کی مدد سے چلایا جاتا تھا۔ ریاست مختلف انتظامی حصوں میں تقسیم تھی اور ہر حصے میں ایک قاضی ہوتا تھا جو امور مملکت کی شرعی اصولوں سے مطابقت پیدا کرنے کا ذمہ دار تھا۔ مشکل کے وقت علمائے فاس یا جامعہ ازہر کے مالکی شیخ سے فتویٰ منگایا جاتا تھا۔ امیر عبدالقادر نے فوج کی جدید طرز پر تنظیم کی تھی اور اس سلسلے میں یورپی ممالک سے امداد بھی لی۔ بعض صورتوں میں امیر عبدالقادر کی فوج مراکش کی فوج سے بہتر تھی۔ انہوں نے اپنی ریاست میں اسلحہ سازی اور بندوق سازی کا کارخانہ بھی قائم کیا تھا۔ الجزائر میں امیر عبدالقادر کی یہ ریاست بالا کوٹ میں سید احمد کی شہادت کے ایک سال بعد قائم ہوئی۔ دونوں کی قائم کردہ ریاستوں میں بہت مماثلت تھی لیکن ایک بڑا فرق یہ تھا کہ امیر عبدالقادر جدید دور کے تقاضوں اور ضرورتوں کو تحریک مجاہدین کے رہنماؤں کے مقابلے میں زیادہ بہتر طور پر سمجھتے تھے۔ شاید یورپ سے نزدیکی اور محمد علی پاشا سے تعلق اس کی بڑی وجہ ہو۔

الجزائر کی تاریخ میں عقبہ بن نافع اور خیر الدین باربروسا کے علاوہ کسی اور شخص کو وہ شہرت، عظمت اور نیک نامی حاصل نہیں ہوئی جو عبدالقادر الجزائری کو حاصل ہوئی۔ انہوں نے آدمیوں اور وسائل کی کمی کے باوجود جس بے جگری سے فرانسیسی حملہ آوروں کا 15 سال تک مقابلہ کیا، اس کی مثالیں کم ملیں گی۔ مورخین نے ان کی انتظامی صلاحیت اور تدبر کی بہت تعریف کی ہے اور وہ اسلامی تاریخ کی ان ہستیوں میں سے ہیں جن کی ان کے مخالفین نے بھی دل کھول کر تعریف کی۔

ان کی شکست کے بعد الجزائر میں فرانس کا مقابلہ کرنے والا کوئی نہ رہا اور ایک سال کے اندر اندر فرانس پورے الجزائر پر قابض ہوگیا اور اسے فرانس کا ایک حصہ قرار دے دیا گیا۔

امریکی ریاست آئیووا کا ایک شہر القادر (Elkader) انہی سے موسوم ہے۔

متعلقہ مضامین[ترمیم]

امام شامل