عبدالقادر ملا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
Abdul Quader Molla
ملف:AbdulQuaderMollaPP.jpg
پیدائش عبدالقادر ملّا
14 اگست 1948 (1948-08-14)
Amirabad, فریدپور, مشرقی پاکستان
وفات 12 دسمبر 2013 (عمر 65 سال)
ڈھاکہ (ڈھاکہ مرکزی جیل), بنگلہ دیش
وجۂ وفات پھانسی
مدفن Faridpur Sadar, Bangladesh
مادر علمی Dhaka University
پیشہ صحافی
آجر Executive editor of The Daily Sangram
تنظیم Jamaat e Islami
وجہِ شہرت Politics, journalism
مذہب Islam
مجرمانہ الزام Charges of rape and mass murder during the جنگ آزادی بنگلہ دیش. Charged with killing 344 civilians.[1][2]
مجرمانہ سزا Execution by hanging[3]
شریک حیات Sanoara Jahan

عبدالقادر ملّا مشرقی پاکستان میں جماعت اسلامی کا راہنما تھا۔ 1971ء کی خانہ جنگی میں اس نے مذہبی اور قومی وابستگی کی بنیاد پر علیحدگی پسندوں کے خلاف پاکستان کا ساتھ دیا۔ بنگلہ دیش بننے کے بعد پاکستان کے حامیوں پر عتاب کا سلسلہ شروع ہوا جس کا نشانہ جماعت اسلامی بھی بنی۔ 2013ء میں ایک خاص عدالت نے عبدالقادر کو "جنگی جرائم" کے الزام میں موت کی سزا سنائی۔[4] عالمی تنظیموں نے عدالتی کاروائی پر تحفظات کا اظہار کیا۔ 12 دسمبر 2013ء کو بنگلہ دیشی جنتا نے عبدالقادر کو پھانسی دے دی۔ [5]

ردّعمل[ترمیم]

عبدالقادر کی پھانسی پر جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے کارکنوں نے احتجاج کیا۔ جماعت اسلامی پاکستان کے سربراہ سید منور حسن نے مذمت کی۔ پاکستان کے وزیر داخلہ چودھری نثار نے انتہائی افسوسناک اور المناک اقدام قرار دیا۔[6] پاکستان قومی اسمبلی نے اکثریت سے قرادرداد مذمت منظور کی، البتہ پیپلزپارٹی، ایم کیو ایم، اور عوامی نیشنل نے قرارداد پر دستخط نہیں کیے۔ چودھری نثار نے اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے اس واقعہ کو "عدالتی قتل" قرار دیا۔ [7]