عبداللہ بن عباس

وکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش
عبداللہ بن عباس
مکمل نام عبداللہ
تاریخ ولادت 3 قبل ہجرت (617-618ء)
جائے ولادت شعب ابی الطالب ،مکہ مکرمہ
لقب حبر الامّہ، ترحمان القران
کنیت ابوالعباس
والد حضرت عباس رضی اللہ عنہ
والدہ ام الفضل لبابہ رضی اللہ عنہا
تاریخ وفات 68 ہجری (687ء)
جائے وفات مدینہ
وجۂ وفات طبعی موت


حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ ( 3 قبل ہجرت تا 68 ہجری مطابق 618ء تا 687ء) ایک صحابی رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم تھے۔ انہوں نے اپنی کم سنی اور نو عمری کے باوجود حصولِ علم کے ہر طریقے کو اختیار کیا اور اس راہ میں انتہائی جاں فشانی اور ان تھک محنت سے کام لیا ۔ وہ حضرت محمدصلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے چشمہ صافی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی بھر سیراب ہوتے رہے۔ آپ کے وصال کے بعد وہ باقی ماندہ علماء صحابہ کی طرف متوجہ ہوئے اور ان سے بھرپور استفادہ فرمایا۔ وہ اپنے شوقِ علم کا حال بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ

جب کسی صحابی رضی اللہ عنہ کے متعلق مجھے معلوم ہوتا کہ ان کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی کوئی حدیث ہے تو میں قیلولہ کے وقت دوپہر میں ان کے دروازے پر پہنچ جاتا اور اپنی چادر کو سرہانے رکھ کر ان کے گھر کی چوکھٹ پر لیٹ جاتا۔ اس وقت دوپہر کی تیز اور گرم ہوائیں بہت سا گردو غبار اڑا کر میرے اوپر ڈال دیتیں۔ حالانکہ اگر میں ان کے گھر داخل ہونے کی اجازت مانگتا تو مجھے اجازت مل جاتی۔ لیکن میں ایسا اس لیے کرتا تھا کہ ان کی طبیعت مجھ سے خوش ہو جائے، جب وہ صحابی گھر سے نکلتے اور مجھے اس حال میں دیکھتے تو کہتے؛ ابن عمِ رسول DUROOD3.PNG! آپ نے کیوں یہ زحمت گوارا کی، آپ نے میرے یہاں اطلاع بھجوا دی ہوتی، میں خود حاضر ہو جاتا لیکن میں جواب دیتا، میں آپ کی خدمت میں حاضر ہونے کا زیادہ حقدار ہوں کیونکہ حصول علم کے لیے صاحب علم کے پاس جایا جاتا ہے۔ صاحب علم خود طالب علم کے پاس نہیں جایا کرتے۔ پھر میں ان سے حدیث پوچھتا۔ [1]

فہرست

[ترمیم] نام و نسب

آپ کا نام عبداللہ، ابوالعباس کنیت تھا۔ آپ کے والد کا نام حضرت عباس رضی اللہ عنہ اور والدہ کا نام ام‏الفضل لبابہ رضی اللہ عنہاتھا۔ آپ کا شجرہِ نسب یہ ہے۔

عبداللہ بن العباس بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبد مناف۔

آپ کے والد حضرت عباس رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے سگے چچا تھے۔ اس طرح آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ابنِ عم تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ ام المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے خواہرزادہ تھے کیونکہ آپ رضی اللہ عنہ کی والدہ ام الفضل رضی اللہ عنہا اور حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا حقیقی بہنیں تھیں۔

[ترمیم] پیدائش

حضرت عبداللہ ابن عباس کی پیدائش ہجرت سے 3 برس قبل شعب ابی طالب میں محصوریت کے دوران ہوئی تھی۔ آپ کی پیدائش کے بعد حضرت عباس رضی اللہ عنہ آپ کے بارگاہِ رسالت میں لے کر آئے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے انکے منہ میں اپنا لعابِ دہن ڈال کر آپ کے حق میں دعا فرمائی۔

[ترمیم] قبولِ اسلام

آپ کے والد محترم حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے اگرچہ فتح مکہ کے بعد اسلام قبول کیا، لیکن آپ کی والدہ حضرت ام الفضل رضی اللہ عنہا نے ابتدا میں ہی داعی توحید کو لبیک کہا تھا۔ اس لئے آپ کی پرورش توحید کے ساۓ میں ہوئی۔

[ترمیم] ہجرت

حضرت عباس رضی اللہ عنہ 8 ہجری میں اپنے اہل و عیال کے ساتھ ہجرت کر کے مدینہ منورہ پہنچے۔ اس وقت آپ کی عمر تقریباً 11 سال تھی۔ آپ اپنے والد کے حکم سے بیشتر اوقات بارگاہِ نبوت میں حاضر ہوتے تھے۔

[ترمیم] عہد طفویلیت میں مصاحبتِ رسول

آپ کی مصاحبت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا جو زمانہ پایا، دراصل وہ آپ کے لڑکپن کا زمانہ تھا۔ تاہم آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی صحبت میں اکثر رہتے۔ ام المومینین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا آپ کی خالہ تھی اور آپ سے بہت شفقت رکھتیں تھیں اس لۓ آپ اکثر انے خدمت میں حاضر رہتے تھے اور کئ دفع رات میں انکے گھر پر ہی سو جاتے تھے۔ اس طرح انکو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی صحبت سے مستفیض ہونے کا بہترین موقع میسر تھا۔ آپ ایسے ہی ایک رات کا ذکر کرتے ہوۓ فرمایا۔

ایک مرتبہ میں اپنی خالہ کے پاس سو رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم تشریف لاۓ اور چار رکعت پڑھ کر استراحت فرما ہوۓ، پھر کچھ رات باقی تھی کے آپ بیدار ہوۓ اور مشکیزہ کے پانی سے وضو کر کے نماز پڑھنے لگے میں بھی اٹھ کر بائیں طرف کھڑا ہو گیا۔ آپ نے میرا سر پکڑ کر مجھے داہنی طوف کھڑا کر لیا۔

[2]

[ترمیم] آپ کے حق میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی دعا

اسی طرح ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نماز کے لۓ بیدار ہوۓ تو آپ رضی اللہ عنہ نے وضو کے لۓ پنی لا کر رکھ دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے وضو سے فراخت کے بعد پوچھا کے پانی کون لایا تھا۔ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا نے حضرت عبداللہ بن عباس کا نام لیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم خوش ہو کر یہ دعا دی۔

اللهم فقهه في الدين وعلمه التأويل

یعنی اے اللہ اس کو مذہب کا فقیہ بنا اور تاویل کا طریقہ سکھا

[ترمیم] ذکاوت و ذہانت

[ترمیم] علم حدیث کی خدمات

[ترمیم] حدیث بیان کرنے میں احتیاط

[ترمیم] فقہی خدمات

[ترمیم] وصال

[ترمیم] حوالہ جات

  1. ^ زندگیاں صحابہ کی: ڈاکٹر عبدالرحمن رافت پاشا
  2. ^ حضرت عبد اللہ بن عباس کے سو قصّے: مولانا اویس سرور ص 19


[ترمیم] بیرونی روابط

ذاتی اوزار

متغیرات
ایکشنز
رہنمائی
ساتھی منصوبے
آلات
دیگر زبانیں