عبداللہ بن عباس

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
عبداللہ بن عباس
مکمل نام عبداللہ
تاریخ ولادت 3 قبل ہجرت (617-618ء)
جائے ولادت شعب ابی الطالب ،مکہ مکرمہ
لقب حبر الامّہ، ترحمان القران
کنیت ابوالعباس
والد حضرت عباس رضی اللہ عنہ
والدہ ام الفضل لبابہ رضی اللہ عنہا
تاریخ وفات 68 ہجری (687ء)
جائے وفات مدینہ
وجۂ وفات طبعی موت


حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ ( 3 قبل ہجرت تا 68 ہجری مطابق 618ء تا 687ء) ایک صحابی رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تھے۔ انہوں نے اپنی کم سنی اور نو عمری کے باوجود حصولِ علم کے ہر طریقے کو اختیار کیا اور اس راہ میں انتہائی جاں فشانی اور ان تھک محنت سے کام لیا ۔ وہ حضرت محمدصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چشمہ صافی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی بھر سیراب ہوتے رہے۔ آپ کے وصال کے بعد وہ باقی ماندہ علماء صحابہ کی طرف متوجہ ہوئے اور ان سے بھرپور استفادہ فرمایا۔ وہ اپنے شوقِ علم کا حال بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ

جب کسی صحابی رضی اللہ عنہ کے متعلق مجھے معلوم ہوتا کہ ان کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی کوئی حدیث ہے تو میں قیلولہ کے وقت دوپہر میں ان کے دروازے پر پہنچ جاتا اور اپنی چادر کو سرہانے رکھ کر ان کے گھر کی چوکھٹ پر لیٹ جاتا۔ اس وقت دوپہر کی تیز اور گرم ہوائیں بہت سا گردو غبار اڑا کر میرے اوپر ڈال دیتیں۔ حالانکہ اگر میں ان کے گھر داخل ہونے کی اجازت مانگتا تو مجھے اجازت مل جاتی۔ لیکن میں ایسا اس لیے کرتا تھا کہ ان کی طبیعت مجھ سے خوش ہو جائے، جب وہ صحابی گھر سے نکلتے اور مجھے اس حال میں دیکھتے تو کہتے؛ ابن عمِ رسول DUROOD3.PNG! آپ نے کیوں یہ زحمت گوارا کی، آپ نے میرے یہاں اطلاع بھجوا دی ہوتی، میں خود حاضر ہو جاتا لیکن میں جواب دیتا، میں آپ کی خدمت میں حاضر ہونے کا زیادہ حقدار ہوں کیونکہ حصول علم کے لیے صاحب علم کے پاس جایا جاتا ہے۔ صاحب علم خود طالب علم کے پاس نہیں جایا کرتے۔ پھر میں ان سے حدیث پوچھتا۔ [1]

نام و نسب[ترمیم]

آپ کا نام عبداللہ، ابوالعباس کنیت تھا۔ آپ کے والد کا نام حضرت عباس رضی اللہ عنہ اور والدہ کا نام ام‏الفضل لبابہ رضی اللہ عنہاتھا۔ آپ کا شجرہِ نسب یہ ہے۔

عبداللہ بن العباس بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبد مناف۔

آپ کے والد حضرت عباس رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سگے چچا تھے۔ اس طرح آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ابنِ عم تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ ام المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے خواہرزادہ تھے کیونکہ آپ رضی اللہ عنہ کی والدہ ام الفضل رضی اللہ عنہا اور حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا حقیقی بہنیں تھیں۔

پیدائش[ترمیم]

حضرت عبداللہ ابن عباس کی پیدائش ہجرت سے 3 برس قبل شعب ابی طالب میں محصوریت کے دوران ہوئی تھی۔ آپ کی پیدائش کے بعد حضرت عباس رضی اللہ عنہ آپ کے بارگاہِ رسالت میں لے کر آئے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انکے منہ میں اپنا لعابِ دہن ڈال کر آپ کے حق میں دعا فرمائی۔

قبولِ اسلام[ترمیم]

آپ کے والد محترم حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے اگرچہ فتح مکہ کے بعد اسلام قبول کیا، لیکن آپ کی والدہ حضرت ام الفضل رضی اللہ عنہا نے ابتدا میں ہی داعی توحید کو لبیک کہا تھا۔ اس لئے آپ کی پرورش توحید کے ساۓ میں ہوئی۔

ہجرت[ترمیم]

حضرت عباس رضی اللہ عنہ 8 ہجری میں اپنے اہل و عیال کے ساتھ ہجرت کر کے مدینہ منورہ پہنچے۔ اس وقت آپ کی عمر تقریباً 11 سال تھی۔ آپ اپنے والد کے حکم سے بیشتر اوقات بارگاہِ نبوت میں حاضر ہوتے تھے۔

عہد طفویلیت میں مصاحبتِ رسول[ترمیم]

آپ کی مصاحبت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا جو زمانہ پایا، دراصل وہ آپ کے لڑکپن کا زمانہ تھا۔ تاہم آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی صحبت میں اکثر رہتے۔ ام المومینین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا آپ کی خالہ تھی اور آپ سے بہت شفقت رکھتیں تھیں اس لۓ آپ اکثر انے خدمت میں حاضر رہتے تھے اور کئ دفع رات میں انکے گھر پر ہی سو جاتے تھے۔ اس طرح انکو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی صحبت سے مستفیض ہونے کا بہترین موقع میسر تھا۔ آپ ایسے ہی ایک رات کا ذکر کرتے ہوۓ فرمایا۔

ایک مرتبہ میں اپنی خالہ کے پاس سو رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لاۓ اور چار رکعت پڑھ کر استراحت فرما ہوۓ، پھر کچھ رات باقی تھی کے آپ بیدار ہوۓ اور مشکیزہ کے پانی سے وضو کر کے نماز پڑھنے لگے میں بھی اٹھ کر بائیں طرف کھڑا ہو گیا۔ آپ نے میرا سر پکڑ کر مجھے داہنی طوف کھڑا کر لیا۔

[2]

آپ کے حق میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دعا[ترمیم]

اسی طرح ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز کے لۓ بیدار ہوۓ تو آپ رضی اللہ عنہ نے وضو کے لۓ پنی لا کر رکھ دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وضو سے فراخت کے بعد پوچھا کے پانی کون لایا تھا۔ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا نے حضرت عبداللہ بن عباس کا نام لیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خوش ہو کر یہ دعا دی۔

اللهم فقهه في الدين وعلمه التأويل

یعنی اے اللہ اس کو مذہب کا فقیہ بنا اور تاویل کا طریقہ سکھا

ذکاوت و ذہانت[ترمیم]

عمر کا ابن عباس کو گورنری سے دور رکھنا مسعودی نے ابن عباس سے نقل کیا کہ عمر نے مجھے بلایا اور کہا:حمص کا گورنر فوت ہوگیا ہے وہ نیکوکار تھا اور نیکوکار کم ہيں اور مجھے امید ہے کہ تو ان میں سے ہو لیکن میرا تیرے بارے میں میرے دل میں ایک خدشہ ہے، تمہارا کیا خیال ہے؟ ابن عباس:میں ہرگز گورنری قبول نہیں کروں گا جب تک مجھے اپنے خدشے کے بارےمیں نہ بتاو۔ عمر: تجھے اس سے کیا غرض ہے؟ ابن عباس:میں اس کو جاننا چاہتا ہوں،اگر وہ خطرناک ہو تو مجھے بھی اس کے خطرے کی طرف متوجہ ہونا چاہیے جیسے آپ میرے بارے میں فکر مند ہوئے ہيں اور آکر میں اس سے بری ہوں اور مجھے یقین ہوجاتا ہے کہ مجھ میں وہ برائي نہيں تو اس کام کو قبول کروں گا،میں نے آپ کو کم دیکھا کہ جس چيز کے بارے میں فکر مند ہوں اس کی کوئی وجہ ہوتی ہے۔ عمر:اے ابن عباس!میں اس چيز سے خوف زدہ ہوں کہ تیری گورنری میں کوئی حادثہ پیش آئے کہ تمہاری حکومت میں اس کو ہونا ہے کہ تو لوگوں سے کہنے لگے:ہماری طرف آؤ،اور تم اپنے بنی ہاشم کے سوا کسی کو قبول نہيں کرو گے،لیکن میں نے نبی اکرمﷺ کو دیکھا تھا کہ تمہیں دور رکھا اور دوسروں کو کام پہ لگایا۔ ابن عباس:تجھے خدا کی قسم!اگر ایسا ہے تو گورنری کیوں دیتے ہو؟ عمر:خدا کی قسم!معلوم نہيں کیا تم گورنری کے لیے مناسب تھے اور تم سے حسد و بدبینی کی وجہ سے تمہيں دور رکھا یا وہ ڈر گئے کہ تمہاری بیعت کریں تو معاملہ مشکل ہوجائے کہ ایسا ہی ہوا،بہرحال تمہاری رائے کیا ہے؟ ابن عباس:میرا خیال ہےکہ میں تمہارے لیے کام نہ کروں؟ عمر:کیوں؟ ابن عباس:اگر میں اس حالت میں تمہارے لیے کام کروں کہ تم میرے بارےمیں مطمئن نہیں ہو تو ہمیشہ میں تمہاری آنکھوں کا کانٹا بنا رہوں گا ۔ عمر: پس اس معاملے میں کوئی مشورہ دو۔ ابن عباس:کسی ایسے شخص کو کام پر لگاو جو تمہاری نظر میں اور تمہارے لیے زیادہ صالح ہو ۔

  • ابن عبدربہ اس کو ابو بکر بن ابی شیبہ م235ھ سے دوسری طرح نقل کرتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ خلیفہ ثانی کے ابن عباس کو گورنر نہ بنانے کی وجہ یہ بتائے کہ ابن عباس سہم ذوی القربی کے بارے میں بے جا تاویلیں کی ہوئي تھیں اور اس کے لیے امام علی کی طرف منسوب خط کو تائید کے لیے پیش کرتا ہے ابو بکر بن ابی شیبہ نے یہ نقل کیا :ابن عباس عمر کے ہاں سب سے زيادہ محبوب تھے اور عمر انہيں دیگر اصحاب نبوی سے مقدم کرتے تھے لیکن ان کو ہرگز گورنری نہيں دی ان سے ایک دن کہا:شاید میں تجھے گورنر بنادیتا لیکن مجھے ڈر ہے کہ تو تاویل کرکے مال فیئ کو حلال سمجھ لے پس جب امام علیؑ کا دور آیا اور آپ نے ابن عباس کو بصرہ کا والی بنایا تو ابن عباس نے آیت خمس کی تاویل کرکے فیئ کو حلال کرلیا ۔

تبصرہ: ابن ابی شیبہ کی تصریح کے مطابق نبی اکرمﷺکے زمانے سے لیکر عمر کی خلافت کے آخری سال تک سہم ذوی القربی کے متولی امام علی بن ابی طالبؑ تھے،بات ابن عباس جیسے دانشمند افراد سے پوشیدہ نہيں تھی پس وہ کس طرح امام علیؑ کی رائے کے بغیر سہم ذوی القربی میں تصرف کرسکتے تھے ثانیا اگر ابن عباس کے بارے میں تاویل کا خوف انہيں گورنر بنانے سے روکتا تھا تو معاویہ کو شام کی حکومت کے لیے کیوں انتخاب کیا کہ ان کے مالیات میں تاویلیں کرنے کے باوجود باقی رکھا؟ ثالثا ابن عبدربہ نے جس خط کو تائید کے لیے پیش کیا وہ جعلی ہے اس سے ہرگز استدلال نہيں کیا جاسکتا ۔


حوالہ جات:۔العقد الفرید، ابن عبد ربہ،4ص354-359 ۔

علم حدیث کی خدمات[ترمیم]

حدیث بیان کرنے میں احتیاط[ترمیم]

امام علیؑ کے فضائل کا بیان عمرو بن میمون کا بیان ہے کہ میں ابن عباس کے پاس بیٹھا تھا ،آپ کے پاس نو گروہ آئے،ان سے ساتھ چلنے یا خلوت میں بات کرنے کی فرمائش کی، ابن عباس ساتھ چلنے پر راضی ہوگئے، ابن عباس اس وقت نابینا نہيں ہوئے تھے ایک جمع جمع ہوکر باتیں کیں،ہمیں ان کی باتوں کا علم نہيں ہوسکا وہاں سے ابن عباس دامن جھاڑتے ہوئے آئے اور بولے :افسوس! ان لوگوں نے ایسے شخص پر سبّ و شتم کیا ہے جس کے دس فضائل کا حامل کوئي نہيں ہے: 1۔جس کے لیے نبی اکرم ﷺنے فرمایا:میں علم دیکر ایسے شخص کو روانہ کروں گا جو خدا کو محبوب اور وہ خدا کو دوست رکھتا ہے، کسی نے طمع کی نگاہ سے حضور کو دیکھا تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا:علی ؑکہاں ہيں؟

کہاگیا: وہ آٹا پیسنے میں مصروف ہيں۔

آپ نے فرمایا: کیا ان کے سوا آٹا پیسنے والا کوئی نہيں تھا؟

ایسے میں امام علیؑ آئے تو آشوب چشم میں مبتلا تھے حضور نے لعاب دہن لگایا اور پرچم کو تین بار جھٹکا دیکر  امام علی ؑکے حوالے کیا ،امام علیؑ صفیہ بنت حییّ کو لیکر واپس ہوئے۔

2۔نبی اکرم ﷺنے فلاں کو سورہ توبہ دیکر بھیجا پھر پیچھے امام علی ؑکو روانہ کیا،رسول اکرم ﷺنے فرمایا:سورہ توبہ کی تبلیغ کا حق یا مجھے ہے یا اس کو جو مجھ سے ہو ۔ 3۔نبی اکرم ﷺنے اپنے چچا زاد بھائيوں سے پوچھا:تم میں سے کون ہے جو مجھے دنیا اور آخرت میں دوست رکھتا ہے ؟سب ہچکچائے، امام علی نے جواب دیا،نبی اکرم ﷺنے بار بار امام کے جواب سے چشم پوشی کرتے ہوئے سب سے پوچھا لیکن ہربار امام علیؑ کا جواب ملا تو نبی اکرم ﷺنے امام علیؑ سے فرمایا: تم دنیا و آخرت میں میرے محبوب ہو۔ 4۔امام علی ؑخدیجہ کے بعد سب سے پہلے ایمان لانے والے تھے۔ 5۔نبی اکرمﷺ نے اپنی چادر علیؑ و فاطمہؑ اور حسنؑ و حسینؑ پر ڈالی اور آیت تطہیر کی تلاوت کی۔ 6۔امام علی ؑنے اپنی جان بیچ ڈالی ، نبی اکرمﷺ کا لباس پہن کر آپ کے بستر پر سوئے، ابو بکر آئے اور رسول اکرمﷺ کو پکارا امام علیؑ نے جواب دیا:آپ بئر میمون کی طرف چلے گئے ہيں ان کے پیچھے جاو،چنانچہ ابو بکر، نبی اکرم ﷺکے ساتھ غار میں داخل ہوگئے ،مشرکین نے آکر امام علی ؑپر پتھر برسانا شروع کردیئے جس طرح نبی اکرمﷺ پر برساتے تھے، امام علیؑ بسترپر پہوو بدلتے رہے،صبح تک چادر نہيں ہٹائی، صبح کو مشرکین نے علی ؑکی استقامت پر تعجب کیا ۔ 7۔نبی اکرمﷺنے جنگ تبوک میں امام علیؑ کو ساتھ نہيں لیا تو آپ رونے لکے تو حدیث منزلت فرمائي؛کیا تو اس پر راضی نہيں کہ تیری مجھ سے وہی نسبت ہے جو ہارون کو موسی سے تھی مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہيں، اورمیرے لیے جانا مناسب نہيں سوائے یہ کہ تو میرا خلیفہ ہو۔ 8۔نبی اکرمﷺ نے فرمایا:اے علیؑ! تم ہر مومن اور مومنہ کے ولی ہو۔ 9۔نبی اکرمﷺنے امام علیؑ کے سوا سب کے دروازے مسجد سے بند کردیئے۔ 10۔نبی اکرمﷺنے غدیر خم میں امام علیؑ کے بارے میں فرمایا:جس جس کا میں مولا ہو اس اس کے علی مولا ہيں ۔


حوالہ جات: مسند احمد بن حنبل 1ص544ح3052، مستدرک علی الصحیحین، حاکم نیشاپوری، محمد بن عبداللہ،3ص143 ح4652، مناقب خوارزمی،موفق بن احمد،ص125ح140، الریاض النضرۃ،احمد بن عبداللہ طبری،3ص153، البدایۃ و النہایۃ ،اسماعیل بن عمرابن کثیر،7ص337و 7ص373 حوادث سنہ4ھ، مجمع الزوائد، ہیثمی ،علی بن ابی بکر،9ص119، کفایۃ الطالب،محمد بن یوسف گنجی شافعی،ص241،ب62، الاصابۃ 2ص509، کنز العمال متقی ہندی،11ص603 ح32916، تفسیر ثعلبی؛ الکشف البیان آیت 67سورہ مائدہ، تفسیر رازی، 12ص49، تفسیر نیشاپوری 6ص194، خصائص نسائی ص47ح24، سنن نسائی، 5ص15ح8409، الاربعین فی فضائل امیر المومنین ص40ح13۔

فقہی خدمات[ترمیم]

وصال[ترمیم]

غدیر کی گواہی عبداللہ بن جعفر بن ابی طالب کا بیان ہے کہ میں ،امام حسن ؑو امام حسینؑ کے ساتھ معاویہ کے پاس موجود تھا اور وہاں عبداللہ بن عباس و فضل بھی تھے، معاویہ میری طرف متوجہ ہوکر بولا: تم حسن و حسینؑ کی بڑی تعظیم کرتے ہو،حالانکہ نہ وہ تم سے بہتر ہيں اور نہ ان کے باپ تیرے باپ سے بہتر ،اوراگر دختر رسولؐ فاطمہ زہراءؑ نہ ہوتيں تو میں کہتا کہ تمہاری ماں اسماء بنت عمیس ان کی ماں سے کمتر ہے؟ میں نے کہا: خدا کی قسم! تمہاری معلومات ان کے اور ان کے والدین کے بارے میں بہت کم ہيں،خدا کی قسم یہ دونوں مجھ سے بہتر ہيں،ان کے والدین میرے والدین سے بہتر ہيں،اے معاویہ! جو کچھ میں نے ان کے متعلق اور ان کے والدین کے متعلق رسول اکرم ﷺسے سنا اور اسے یاد کیا ہوا ہے اس سے تو قطعی غافل ہے۔ معاویہ:اچھا تو وہ سب بیان کرو،تم نہ جھوٹے ہو ،نہ تم پر تہمت لگائی جاسکتی ہے۔ ابن جعفر:میرا خیال تمہارے خیال سے بہت بلند ہوگا۔ معاویہ:ٹھیک ہے،چاہے وہ احد و حراء پہاڑ سے بھی بڑا ہو،اس وقت تو خدا نے ان کو قتل کردیا اور تمہاری جمعیت پراگندہ کردی، خلاقت کو اس کے مستحق تک پہنچا دیا ،فضائل بیان کرنے میں کوئی حرج نہيں ہے اور نہ اس سے مجھے نقصان ہوگا۔ ابن جعفر:جب یہ آیت[اور(اے رسولؐ وہ وقت یاد کریں)جب ہم نے آپ سے کہا تھا کہ آپ کے رب نے لوگوں کو گھیر رکھا ہے اور جو خواب ہم نے آپ کو دکھلایا ہے اور وہ درخت جسے قرآن میں ملعون ٹھہرایا گیا ہے اسے ہم نے صرف لوگوں کی آزمائش قراردیا اور ہم انہیں ڈراتے ہیں مگر یہ تو ان کی بڑی سرکشی میں اضافے کا سبب بنتا جاتا ہے ] نازل ہوئي لوگوں کے استفسار پر نبی اکرمﷺ نے فرمایا: میں نے خواب میں اپنے منبر پر بارہ گمراہی کے سرداروں کوچڑھتے اور اترتے دیکھا اور مات کو الٹے پیر واپس کرنے کی سعی کرتے دیکھا میں نے نبی اکرمﷺ کو فرماتے سنا کہ وہ ابو العاص کے بیٹے ہيں ،جب ان کی تعداد پندرہ تک پہنچ جائے گی تو کتاب خدا میں تحریف، بندگان خدا کو غلام اور مال خدا کو شخصی ملکیت سمجھنے لگیں گے ۔ اے معاویہ! میں نے نبی اکرم ﷺکو فرماتے سنا،آپ منبر پر تھے اور میں آپ کے پہلو میں موجود تھا، نبر کے سامنے عمربن ابی سلمہ، اسامہ بن زيد، سعد بن ابی وقاص، سلمان فارسی، ابوذر، مقداداور زبیر بن عوام بھی تھے ،آپ نے فرمایا: کیا میں مومنین کے نفسوں پر ان سے زیادہ بااختیار نہيں ہوں؟ سب نے کہا: یقینا ہيں ، اے خدا کے رسولؐ! پھر فرمایا:کیا میری بیویاں تمہاری مائيں نہيں ہیں؟ سب نے کہا:یقینا ہيں ۔ پھر فرمایا: جس جس کامیں مولا ہوں اس کے نفس پر علیؑ اس سے زیادہ اختیار رکھتے ہیں۔ پھر امام علی کے شانے پر ہاتھ مارا اور فرمایا:خدایا! جو ان سے محبت رکھے تو اس سے محبت رکھ اور جو ان سے دشمنی رکھے تو اس کو دشمن رکھ۔ اے لوگو! میں مومنین پر ان کے نفسوں سے زیادہ بااختیار ہوں،مومنین پر صرف یہی میرا امر ہے ان کے بعد میرا بیٹا حسنؑ مومنین پر اولی بالتصرف ہے اور مومنین پر صرف یہی اس کا امر ہے۔ دوبارہ لوگوں سے خطاب فرمایا:جب میں دنیا سے رخصت ہوجاوں تو علی تمہارے نفسوں پر زیادہ مختار کل ہونگے،جب علی ؑدنیا سے رخصت ہوجائيں تو میرا بیٹا حسن مالک و مختار ہے،حسن کے بعد میرا فرزند حسین مالک و مختار ہے ۔ آخر میں عبداللہ کا بیان ہے کہ معاویہ کہنے لگا:اے فرزند جعفر!تم نے بڑی بات کہی ہے اگر تمہاری بات سچ ہے تو تمہارے خاندان والوں کے سوا سبھی ہلاک ہوگئے، نہ مہاجر باقی بچے نہ انصار۔ ابن جعفر:خدا کی قسم جوکچھ میں نے کہا وہ حق و حقیقت ہے میں نے خود نبی اکرم سے سﷺنا ہے۔ معاویہ نے امام حسن و حسین نیز عبداللہ بن عباس کی طرف رخ کرکے کہا: فرزند جعفر کیا کہہ رہے ہيں؟ ابن عباس نے جواب دیا: اگر تمہيں ان کے بیان پر ایمان نہين تو انہوں نے جن لوگوں کا نام لیا ان سے پوچھ لو۔ معاویہ نے عمر بن سلمہ و اسامہ کے پاس آدمی بھیجا تو انہوں نے گواہی دی کہ فرزند جعفر نے جو کچھ کہا اسے ہم لوگوں نے بھی سنا ہے ۔ آخر میں عبداللہ بن جعفر نے کہا: ہمارے رسول ؐنے یقینا بہترین افراد کو غدیر خم میں اور دوسرے مواقع پر امت کی ہدایت کے لیے متعین فرمایا، ان پر حجت قرار دیا، ان کی اطاعت کا حکم دیا، انہيں سمجھا دیا کہ علی ؑکی نسبت رسولؐ سے وہی ہے جو ہارون کو موسیؑ سے تھی اور یہ کہ نبی اکرمﷺ کے بعد وہ تمام مومنین کے ولی ہيں اولی بالتصرف ہيں رسول ؐکی طرح، علی جانشین رسول ؐ ہيں ،ان کے وصی ہيں،ان کی اطاعت خدا کی اطاعت ،انکی نافرمانی خدا کی نافرمانی ہے،ان کی دوستی خدا کی دوستی ہے،ان سے کینہ خدا سے کینہ ہے ... ۔


کتاب سلیم بن قیس ہلالی 2ص834،ح42۔


ابن زبیر کے مقابلے میں فرزند عباس کی قدردانی عبداللہ صفوان بن امیہ کا بیان ہے کہ ابن زبیر کے عہد حکومت میں میرا گزر مکہ کی ایک گلی سے ہوا تو میں نے ایک دروازے پر لوگوں کے ہجوم کو دیکھا ،معلوم ہوا کہ یہ تمام لوگ عبداللہ بن عباس سے تفسیر و حدیث اور فقہ حاصل کرنے کے لیے جمع ہیں۔ میں یہ منظر دیکھ کر آگے روانہ ہوا تو میں نے ایک وسیع مکان میں لوگوں کی آمد و رفت ملاحظہ کی ،معلوم ہوا کہ یہ عبیداللہ بن عباس کا مکان ہے جہاں غرباء و مساکین کو مفت کھانا کھلایا جاتا ہے ۔ میں یہ دونوں منظر دیکھ کر عبداللہ بن زبیر کے پاس آیا اور کہا: یہ عجیب بات ہے کہ تو نے خلافت کا دعوی کیا ہوا ہے لیکن تیری کنجوسی پورے عرب میں ضرب المثل بن چکی ہے جبکہ عباس کے دو بیٹوں نے تیرے لیے فضیلت کا کوئی موقع باقی نہيں رکھا ،ایک بھائی تفسیر و حدیث اور فقہ کا معلّم ہے اور ہزاروں طلاب اس سے صبح و شام مستفید ہورہے ہيں جبکہ دوسرے بھائی کا دستر خوان ہر غریب و مسافر کے لیے بچھا ہوا ہے ۔ یہ سن کر ابن زبیر سخت پریشان ہوا اور اس نے دونوں بھائيوں کو بلا کر خوب سرزنش کی اور کہا:آئندہ تمہارے دروازوں پر یہ لوگوں کا ہجوم نہ ہو ۔ یہ طرفہ سن کر ابو طفیل عامر بن وائل کنانی نے چند اشعار کہے جن میں اس نے عباس کے دونوں بیٹوں کی تعریف کی اور ابن زبیر کا شکوہ کیا ۔ میراث میں "عول" کی مخالفت ایک دن ابن عباس نے کہا: جو شخص "عول" کے مسئلے میں نزاع کرے میں اس سے مباہلہ کرنے کے لیے تیار ہوں۔ کسی نے کہا: اے فرزند عباس!تم اس وقت بڑی شد و مد کے ساتھ اس کی مخالفت کررہے ہو جبکہ عمر کے دور میں تم خاموش تھے ، اس کی کیا وجہ ہے؟ ابن عباس نے کہا:وہ بہت خوفناک آدمی تھے ،میں نے ان کے ڈر سے عول کی مخالفت نہيں کی تھی ۔ ابن عباس کا خطبہ بصرہ اور انجام کا بیان شیخ طوسی نے امالی میں اپنی سند سے یونس بن عبدالوارث کی زبانی ابن عباس کی یہ تقریر نقل کی ہے۔ ابن عباس نے بصرہ کے منبر پہ یہ خطبہ دیا:اے اپنے دین میں حیران و پریشان ہونے والی امت! خدا کی قسم اگر تم اسے مقدم رکھتے جسے خدا نے مقدم کیا تھا اور اسے موخر کرتے جسے اللہ نے موخر کیا تھا اور ولایت و وراثت کو وہاں رکھتے جہاں اللہ نے اسے رکھا تھا تو اللہ کا کوئی فرض آج ضائع نہ ہوتا اور آج کوئی بھی خدا کا دوست تنگ دست نہ ہوتا ،اب جوکچھ تم کرچکے ہو اس کا ذائقہ چکھو اور ظالم عنقریب جان لیں گے کہ ان کا انجام کیا ہوگا ۔ قاضی شوشتری نے فرمایا: روایات سے ظاہرہے کہ امام علی ؑنے ابن عباس کو طلحہ و زبیر سے اتمام حجت کے لیے بھیجا اور انہوں نے بڑے روشن دلائل سے امیر المومنینؑ کی حقانیت کو ثابت کیا ،امام علیؑ نے ان کے انداز دلیل کو دیکھ کر فرمایا:جس کا ابن عباس جیسا چچا زاد بھائي ہو تو اللہ تعالی نے اس کو آنکھوں کو ٹھنڈک عطا کی ہے ۔ معاویہ سے بحث اور اہل بیت ؑکی مرجعیت کا بیان طبرسی نے احتجاج میں سلیم بن قیس کی کتاب سے ابن عباس کی معاویہ سے یہ گفتگو اس طرح نقل کی ہے: ایک مرتبہ معاویہ بن ابی سفیان مدینہ آیا اور وہ جہاں جہاں سے گزرتا لوگ اس کی تعظیم کے لیے کھڑے ہوجاتے ،اس کا گزر قریش کے مجمع سے ہوا اور اس گروہ میں عبداللہ بن عباس موجود تھے ،تمام مجمع نے اٹھ کر اس کی تعظیم کی لیکن ابن عباس بدستور بیٹھے رہے ،معایہ نے انہیں مخاطب ہوکر کہا: میں جانتا ہوں کہ جنگ صفین کا کینہ تیرے دل میں ہے اسی لیے تو نے میری تعظیم نہيں کی اس کے باوجود میں درگزر کروں گا کیونکہ میں اس عثمان کا رشتہ دار ہوں جسے ظلم سے قتل کیا گیا ۔ ابن عباس نے کہا: کیا کیا جائے عمر بن خطاب بھی قتل ہوئے تھے اور وہ بھی مظلوم ہوکر قتل ہوئے (مگر ان کے بارے میں ایسا نہيں کرتے ہو)۔ معاویہ نے کہا:دونوں میں بڑا فرق ہے عمر کو ایک کافر نے قتل کیا تھا جبکہ عثمان کو مسلمانوں نے قتل کیا تھا ۔ ابن عباس نے کہا:اس سے تیرا تمام دعوی ہی باطل ہوجاتا ہے ۔ ابن عباس کا یہ جواب سن کر معاویہ شرمندہ ہوا ۔ پھر اس نے ابن عباس سے کہا: میں نے پورے ملک میں تحریر حکم جاری کیا ہے کہ کوئي شخص علی اور اہل بیت کے فضائل بیان نہ کرے اور میں تجھے بھی یہی حکم دیتا ہوں کہ علی کے فضائل بیان نہ کرنا۔ ابن عباس نے کہا: کیا تو مجھے قرآن کی تلاوت سے روکنا چاہتا ہے؟ معاویہ نے کہا:ہاں میں ایسا ہی کرنا چاہتا ہوں۔ ابن عباس نے کہا: پھر اس کا مقصد تو یہ ہے کہ ہم قرآن پڑھیں اور مفہوم قرآن کو سمجھنا چھوڑ دیں اور اس پر عمل بھی نہ کریں ۔ معاویہ نے کہا: مفہوم قرآن کے لیے ایسے افراد سے سوال کرو جو تیری اور اہل بیت کی بیان کردہ تفسیر و تاویل کی مخالفت کرتے ہوں۔ ابن عباس نے کہا: مگر اللہ تعالی نے قرآن کو اہل بیت کے گھر میں نازل کیا ہے اور میں تفسیر کے لیے اہل بیت کو چھوڑ کر آل ابی سفیان کی طرف رجوع کروں؟ معاویہ نے کہا:ابن عباس! اپنی زبان پر قابو رکھو اور اگر تو نے ایسا کرنا ہے تو اپنی خاموشی سے کرو کہ کوئي دوسرا تجھ سے سننے نہ پائے ۔


مجالس المومنین قاضی نور اللہ شوشتری،ص316، ترجمہ محمد حسن جعفری،ط اکبر حسین جیوانی ٹرسٹ کراچی ،بی تا۔


ابن عباس کی ابن زبیر سے بحث ایک دفعہ ابن زبیر نے ابن عباس سے کہا:تونے ام المومنین حرم نبی ؐسے جنگ کی اور تو نے متعہ کے حلال ہونے کا فتوی جاری کیا؟ ابن عباس نے جواب دیا: حرم نبی ؐکو تواور تیرا باپ اور تیرا ماموں گھر سے باہر نکال لائے تھے جبکہ وہ ہماری وجہ ہی سے امّ المومنین کہلاتی تھیں اور ہم اس کے نیک بیٹے تھے اور ویسے تجھے حیاآنی چاہیے کیونکہ تو نے اور تیرے باپ نے امیر المومنین ؑسے جنگ کی تھی اور تم نے لوگوں کو گمراہ کیا تھا اور انہيں امام علیؑ کے مقابلے میں لائےتھے ۔ اگر تم حضرت علی ؑکو مومن مانتے ہو تو تم نے ایک مومن کے خلاف تلوار اٹھا کر اپنے لیے دوزخ خریدی ہے اور اگر خدانخواستہ تم امام علی ؑکو کافر سمجھتے ہو تو ایک کافر کے سامنے تم نے پشت دکھا کر اللہ کے غضب کو دعوت دی اور یوں تیرا ٹھکانہ جہنم ہے جہاں تم ہمیشہ رہو گے۔ اور متعہ کو میں نے حلال نہيں کیا بلکہ متعہ کو نبی اکرم ﷺنے حلال قرار دیا تھا اسی لیے میں نے اس کے جواز کا فتوی دیا ہے ۔ امام حسنؑ کی روضہ نبوی میں تدفین سے ممانعت پر تبصرہ امام حسن مجتبیؑ کی شہادت کے بعد امام حسین ؑاپنے بھائي کی میت کو دفن کرنے کے لیے روضہ رسولؐ کی طرف لے جارہے تھے کہ حضرت عائشہ خچر پر سوار ہوکر آئيں اور دفن سے منع کیا ،ابن عباس یہ دیکھ کر برداشت نہ کرسکے اور کہنے لگے: ؂ تجمّلتِ،تبغّلتِ و ان عِشتِ تفیّلتِ لکِ التُسعُ مِنَ الثُّمنِ وَ بِالکُلِّ تَمَلَّکتِ. تو اونٹ پر بیٹھی ، خچر پر سوار ہوئي اور اگر زندہ رہی تو ہاتھی پر بھی بیٹھے گی جبکہ تیرا حصہ آٹھویں میں سے نواں ہے یعنی 72/1 حصہ، اور تو نبی پاک کی تمام جائیداد کی مالک بن بیٹھی ہے ۔


ابن عباس کا عمرو بن عاص کو جواب خط معاویہ نے عمر و عاص سے کہا:علی کے بعد سب سے مشہور و معروف شخیتت ابن عباس کی ہے اگر وہ کوئی بات کہے تو علیؑ اس کی مخالفت نہیں کریں گے، جتنی جلدی ہو کوئی تدبیرکروکیونکہ یہ جنگ ہم لوگوں کو ختم کردیگی، ہم ہرگز عراق نہیں پہنچ سکتے مگر یہ کہ شام کے لوگ نابود ہوجائیں ۔ عمر و عاص نے کہا:ابن عباس دھوکہ نہیں کھا سکتے اگر اس کو دھوکہ دے دیا تو علیؑ کو بھی دھوکہ دے سکتے ہو، معاویہ کے بے حد اصرار پر عمر و عاص نے ابن عباس کو خط لکھا اور خط کے آخر میں کچھ شعر بھی لکھے، جب عمروعاص نے اپنا خط او ر اپنا کہےہوےشعر معاویہ کو دکھائےتو معاویہ نے کہا لاٰ أریٰ کتابک علیٰ رقّةِ شعرِک یعنی تیراخط تیرے شعر کے پائے کا نہیں ہے! دھوکہ بازوں کے سردار نے اس خط اور اشعار میں ابن عباس اور ان کے خاندان کی تعریف اور مالک اشتر کی برائی کی تھی اور آخر میں یہ وعدہ کیا تھا کہ اگر جنگ ختم ہوگئی تو ابن عباس شوریٰ کے ایک ممبر ہوگے جس کے ذریعے سے امیر اور خلیفہ معین ہوگا، جب یہ خط ابن عباس کو ملا تو انہوں نے امام علیہ السلام کودکھایا اس وقت امام نے فرمایا۔ خدا وند عالم عاص کے بیٹے کو موت دے، کیسا دھوکہ دینے والا خط ہے جتنی جلدی ہو اس کاجواب لکھو اور اس کے شعر کے جواب کے لئے اپنے بھائی سے شعر لکھواؤ کیونکہ وہ شعر کہنے میں ماہرہے۔

  • ابن عباس نے خط کے جواب میں لکھا: میں نے عربوں کے درمیان تجھ جیسا بے حیا نہیں دیکھا، اپنے دین کو بہت کم قیمت میں بیچ دیا اور دنیا کو گناہگاروں کی طرح بہت بڑاسمجھا، اور ریاکاری کے ذریعے تقویٰ نمایاں کرتا ہے، اگر تو چاہتا ہے کہ خدا کو راضی کرے ،تو سب سے پہلے مصر کی حکومت کی ہوس اپنے دل سے نکال دے اور اپنے گھر واپس چلاجا۔
علی اور معاویہ ایک جیسے نہیں ہیں ،معاویہ نے ناحق جنگ شروع کی ہے اور اب خونریزی کا اسراف کررہا ہے ،اور  عراق اور شام کے لوگ برابر نہیں ہیں،عراقیوں نے بہترین مخلوق کی بیعت کی ہے اور شامیوں نے بدترین مخلوق کی بیعت کی ہے ،تو اور میں بھی اس سلسلے میں برابر نہيں ہيں،  میں نے خدا کی مرضی چاہی ہے اور تو نے مصر کی حکومت ، اور پھر ان اشعار کو جو ان کے بھائی فضل نے عمروعاص کے اشعار کے وزن پر کہے تھے اس خط میں لکھا:

اے عمرو! تیرے حیلوں کا صرف یہی علاج ہے کہ مسلسل تیرے نرخروں پر ضرب لگائي جائے تاکہ تیرا غرور ٹوٹے، امام علی کو خدا نے برتری دی ہے تم جنگ سے باز آجاو تو ہم بھی ہاتھ کھینچ لیں گے۔

اور ابن عباس نے امام علیہ السلام کو خط دکھایا ، امام علیہ السلام نے کہا: اگر وہ عقلمند ہوگاتو تمھارے خط کا جواب نہیں دے گا۔

جب عمرو عاص کو خط ملا تو اس نے معاویہ کو دکھایا اور کہا: تو نے مجھے خط کی دعوت دی لیکن نہ تجھے کوئی فائدہ ہوا اور نہ مجھے فائدہ ہوا۔ معاویہ نے کہا: علی اور ابن عباس کا دل ایک ہی جیسا ہے اوردونوں عبدالمطلب کے بیٹے ہیں ۔

  • جب معاویہ نے احساس کیا کہ علی کے سپاہی پہلے سے کچھ زیادہ آمادہ ہوگئے ہیں اور محاصرہ تنگ ہوگیا ہے اورقریب ہے کہ،شکست کھا جائیں تو اس نے خود براہ راست ابن عباس کو خط لکھا اور یا د دلایا کہ یہ جنگ بنی ہاشم اور بنی امیہ کے درمیان بغض وعداوت کی بھڑکتی ہوئی چنگاری ہے اور انہیں اس کام کے انجام سے ڈرایا، اس خط میں اس نے ابن عباس کو لالچ دلائی اور کہا : اگر لوگ تمھارے ہاتھ پر بیعت کریں تو ہم بھی تمھار ی بیعت کرنے کے لئے تیار ہیں۔

جب ابن عباس کو خط ملا تو آپ نے ٹھوس او ر دندان شکن جواب معاویہ کو لکھا ، ایسا جواب کہ معاویہ اپنے خط لکھنے پربہت شرمندہ ہوا اور کہا یہ خود میر ے کام کا نتیجہ ہے اب ایک سال تک اُسے خط نہیں لکھوں گا۔ ابن عباس اور عمرو بن عاص کی گفتگو

ایک دن راستے میں عمرو بن عاص کی ابن عباس سے ملاقات ہوگئي،عمرو نے جل بھن کر کہا:ابن عباس! جب بھی مجھے دیکھتے ہو ناپسندیدہ ہی نظردیکھتے ہو جیسے تمہاری آنکھوں میں زخم ہو لیکن جب لوگوں کے سامنے ہوتے ہو تو نادانی،کمزوری اور وسواس کا مظاہرہ کرتے ہو۔ ابن عباس:کیونکہ تم دوغلے ہو،قریش نیک شعار ہيں،باطل و جہالت سے پرہیز کرتے ہيں،حق پہچاننے کے بعد چھپاتے نہيں،معنوی بزرگی بھی ہے،تم قریش سے کہاں ہو؟ تم تو دو بستروں سے پیدا ہوئے ہو،بنی ہاشم و بنی عبد الشمس میں سے کوئی تمہيں اپنانے پر آمادہ نہيں ہے،تم تو گمراہ، حرامی، اور گمراہ کرنے والے ہو،معاویہ نے حکومت دے دی تو تم پھولنے لگے۔ عمرو:میں جب بھی تمہيں دیکھتا ہوں خوش ہوتا ہوں۔ ابن عباس:میں حق کی طرف مائل اور حق کا پرستار ہوں ۔ عبداللہ بن جعفر،معاویہ کی مجلس میں وارد ہوئے ،وہاں ابن عباس و عمرو بن عاص بھی موجود تھے،عبداللہ کو آتے دیکھ کر عمرو نے طعن و تشنیع شروع کردی،ابن عباس نے اسے آڑے ہاتھوں لیااور کہا: خدا کی قسم! تم جھوٹے ہو،یہ تو ذکر خدا،نعمتوں کے شکر گزار،برائيوں سے کنارہ کش،سخی،شریف اور سردار ہيں،یہ شریف النسب ہيں،حرامی نہيں اور نہ ہی کم ظرف ہیں۔یہ ایسے بھی نہيں جن کے متعلق قریش کے آوارہ لوگوں نے دعوی کیا ہو، پھر ایک قصاب بازی لےجائے ۔ ہاں عبداللہ ان ذلیل لوگوں کی طرف نہيں جن کے متعلق دو خاندان والے جھگڑا کرلیں کہ نہ معلوم کس محلے کا نوزائیدہ ہے ۔ پھر عمرو کی طرف رخ کیا :کاش میں سمجھ سکتا کہ تم کس پاک نسب و عظیم شخصیت کو چھیڑ رہے ہو ،کمینے، حرامی! اپنی حد میں رہنے کی کوشش کر۔ عبداللہ نے ابن عباس سے کہا:خدا کی قسم! اب رہنے دیجئے، آپ نے اچھی طرح میرا دفاع کیا ہے ۔



وقعہ صفین، ابن مزاحم،550،کتاب صفین، ص٤١٤۔٤١٠، الامامةو السیاسةج١ص٩٩۔٩٨، شرح نہج البلاغۃ، ابن ابی الحدید،8ص64خطبہ 124،الغدیر علامہ امینی،عبدالحسین، 2ص137۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ زندگیاں صحابہ کی: ڈاکٹر عبدالرحمن رافت پاشا
  2. ^ حضرت عبد اللہ بن عباس کے سو قصّے: مولانا اویس سرور ص 19


بیرونی روابط[ترمیم]