عبدالمطلب

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

حضرت عبدالمطلب (عربی میں عبدالمطّلب ) حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دادا تھے ان کا اصل نام شیبہ تھا (شیبہ بن ھاشم عربی میں شيبة ابن هاشم یا شیبۃ الحمد)۔ ان کو عبدالمطلب (درست تلفظ: عبدالمطَلِّب) اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ ان کو ان کے چچا مطلب نے پالا تھا۔ کیونکہ ان کے والد ھاشم کی وفات ان کی پیدائش سے کچھ ماہ پیشتر ہو گئی تھی۔ حضرت عبدالمطلب دینِ ابراہیمی (اسلام) پر قائم تھے اور ایسی کوئی ایک بھی روایت نہیں ملتی کہ انہوں نے کبھی بت پرستی کی ہو۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

حضرت عبدالمطلب 497ء میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام ھاشم بن عبد مناف اور والدہ کا نام سلمیٰ بنت عمرو تھا۔ ان کی والدہ کا تعلق یثرب (جس کا نام بعد میں مدینہ یا مدینۃ الرسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہوا) سے تھا۔ ان کے والد کا انتقال ان کی پیدائش سے چند ماہ پہلے فلسطین کے علاقے غزہ میں ہوا۔ جہاں وہ تجارت کے سلسلے میں گئے ہوئے تھے۔ اس کے بعد ان کی والدہ ان کو یثرب (موجودہ مدینہ) لے گئیں جہاں وہ آٹھ سال کی عمر تک رہے۔ جب وہ آٹھ سال کے ہوئے تو ان کے چچا مطلب ان کو واپس مکہ لے آئے ۔

مدینہ سے مکہ واپسی[ترمیم]

ھاشم بن عبد مناف کی وفات کے بعد کعبہ کے زائرین کو کھانا اور پانی دینے کی ذمہ داری مطلب بن عبد مناف کے سپرد ہوئی۔ حضرت عبد المطلب کی والدہ ان کو اپنے والد کے گھر مدینہ لے گئیں تھیں جہاں ان کی پرورش ہوئی۔ جب حضرت عبد المطلب کچھ بڑے ہوئے تو ان کے چچا مطلب بن عبد مناف ان کو مدینہ سے مکہ واپس لے جانے کے لیے آئے۔ جب انہوں نے اپنے بھتیجے کو دیکھا تو آنسو ان کی آنکھوں سے جاری ہو گئے۔ اپنی والدہ سلمیٰ بنت عمرو کی اجازت کے بعد حضرت عبد المطلب اپنے چچا کے ساتھ مکہ آ گئے۔ [1]

قریش کی سرداری[ترمیم]

مکہ آنے کے کچھ عرصہ بعد ہی مطلب بن عبد مناف کی وفات یمن کے سفر میں ہو گئی تو سرداری اور کعبہ کے زائرین کی خدمت پر، جو مطلب بن عبد مناف نے حضرت عبد المطلب کے سپرد کی تھی، نوفل بن عبد مناف نے قبضہ کرنا چاہا۔ حضرت عبد المطلب نے قریش کی مدد طلب کی مگر شنوائی نہ ہوئی۔ اس کے بعد حضرت عبد المطلب نے اپنے ماموں ابو سعد (ان کا تعلق بنو نجار سے تھا) کی مدد طلب کی جو 80 گھڑ سواروں کے ساتھ ان کی مدد کے لیے آئے۔ انہوں نے نوفل بن عبد مناف سے کہا کہ اے نوفل اگر تو نے عبد المطلب سے چھینا جانے والا حق انہیں واپس نہ کیا تو میں تلوار سے تمہاری گردن اڑا دوں گا۔ اس پر نوفل نے ان کی بات مان لی۔ اس بات پر قریش کے معززین کو گواہ بنایا گیا۔ مگر جب حضرت عبد المطلب کے ماموں واپس مدینہ چلے گئے تو نوفل بن عبد مناف نے عبد شمس بن عبد مناف (بنو امیہ ان کی نسل سے ہیں) اور اس کی اولاد کے ساتھ ایک معاہدہ کیا اور حضرت عبد المطلب کے خلاف تحریک شروع کی۔ بنو خزاعہ نے بنو ھاشم کا ساتھ دیا اور بیت الندوہ میں بنو ھاشم سے ان کا ساتھ دینے کا عہد کیا۔ اور بنو نجار کے لوگوں سے کہا کہ عبد المطلب اسی طرح ہمارا بیٹا ہے جس طرح تمہارا اور ہمارے پاس اس کا ساتھ دینے کی زیادہ وجوہات ہیں۔ اس طریقہ سے قریش کی سرداری حضرت عبد المطلب کے پاس رہی۔[2]

چاہِ زم زم کا دوبارہ جاری کرنا[ترمیم]

مکۃالمکرمہ کا مقدس کنواں زمزم جو آج بھی جاری ہے، حضرت عبدالمطلب کے زمانے میں خشک ہو چکا تھا اور اس کی جگہ کا صحیح علم قریش کو نہ تھا۔ حضرت عبدالمطلب کو چار لگاتار خوابوں کے ذریعے زمزم کی درست جگہ کی رہنمائی ہوئی۔ انہوں نے اپنے بیٹے حارث کے ساتھ اس جگہ کو کھودنا شروع کیا جہاں خواب کے ذریعے رہنمائی ہوئی تھی۔ چار دن کے بعد پانی ظاہر ہو گیا اور زم زم کا کنواں مل گیا جس میں سے مسلسل پانی ملنے لگا جو آج تک جاری ہے۔ چونکہ یہ کنواں بنیادی طور پر حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کے قدموں سے جاری ہوا تھا اس لیے قریش کے باقی قبائل نے اس کی ملکیت میں حصہ دار بننا چاہا۔ حضرت عبدالمطلب کا خیال تھا کہ زمزم اللہ نے ان کو عطا کیا ہے۔ اس جھگڑے کو نمٹانے کے لیے عرب کے دستور کے مطابق کسی باعلم اور دانش مند شخص پر فیصلہ چھوڑا گیا۔ قبائل کے مختلف نمائندے جن میں حضرت عبدالمطلب شامل تھے شام کو روانہ ہوئے تاکہ وہاں کی ایک مشہور دانش مند عورت سے مشورہ کیا جائے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ عرب لوگ کاہنوں یا کسی کاہنہ کی بات کو اہمیت دیتے تھے۔ شام کے اس سفر میں حضرت عبدالمطلب اور ان کے ساتھیوں کا پانی ختم ہوگیا۔ باقی قبائل نے ان کو پانی دینے سے انکار کر دیا اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ ان کے ساتھیوں نے کچھ قبریں بھی کھود لیں تاکہ جو پہلے مر جائیں ان کو دوسرے دفنا دیں۔ اگلے دن حضرت عبدالمطلب نے فیصلہ کیا کہ موت سے ڈرنے کی ضرورت نہیں اور سفر جاری رکھنا چاہئیے۔ وہ اپنے اونٹ پر بیٹھنے لگے تو اونٹ کا پاؤں زمیں پر ایک جگہ زور سے پڑا اور کچھ زیر زمین پانی نظر آیا۔ وہاں ایک چشمہ برآمد ہو گیا جس سے انہوں نے اور دوسرے تمام قبائل نے استفادہ کیا۔ اس وقت دوسرے تمام قبائلی نمائندوں نے فیصلہ کیا کہ زم زم کے جھگڑے کا فیصلہ اللہ نے اسی جگہ حضرت عبدالمطلب کے حق میں یہ پانی جاری کر کے کیا ہے اس لیے واپس مکہ جایا جائے۔ انھوں نے کہا کہ اے عبدالمطلب، جس اللہ نے یہاں تمہارے لیے یہ چشمہ جاری کیا ہے اسی نے زمزم تمہیں عطا کیا ہے۔

عام الفیل[ترمیم]

عام الفیل یا ہاتھی والے سال کا ذکر قرآن میں بھی ہے۔ اس سال حبشہ کے مقرر کردہ یمن کے گورنر ابرہہ نے مکہ پر حملہ کیا۔ اس نے اصل میں صنعاء (یمن کا شہر) میں ایک کلیسا (چرچ) تعمیر کیا تھا اور چونکہ وہ عیسائی تھا اس لیے وہ چاہتا تھا کہ عرب مکہ جانے کی بجائے اس کلیسا کو مرکز بنائیں۔ جب یہ ممکن نہ ہوا تو اس نے کعبہ کو تباہ کرنے کی ٹھانی۔ اس کے لشکر میں سینکڑوں ہاتھی شامل تھے۔ حضرت عبدالمطلب نے قریش کو پہاڑوں پر پناہ لینے کو کہا اور خود اپنے کچھ ساتھیوں کے ہمراہ شہر میں رہے۔ ابرہہ نے پیغام بھیجا کہ وہ صرف کعبہ کو تباہ کرنا چاہتا ہے تو حضرت عبدالمطلب نے کہا کہ اس گھر کا مالک خود اس کا محافظ ہے۔ اور مجھے یقین ہے کہ وہ اسے حملہ آوروں سے بچائے گا اور اس گھر کے خدام کو بے عزت نہیں کرے گا۔ ابرہہ نے جب حملہ کیا تو اللہ نے ابابیلوں کی ایک فوج بھیجی جس نے ابرہہ کے تمام لشکر پر سنگ باری کی۔ وہ پتھر ایسے تیز تھے کہ انہوں نے ابرہہ کے لشکر کو تباہ کر دیا۔ ابرہہ زخمی حالت میں یمن کی طرف فرار ہوا مگر راستے میں مرگیا۔ یہ واقعہ 570ء میں پیش آیا اور اسی سال حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ولادت باسعادت ہوئی۔

اولاد[ترمیم]

حضرت عبدالمطلب کی کئی بیویاں تھیں جن میں سے دو کے نام فاطمہ بنت عمرو اور ھالہ بنت وھب تھے۔ ان کی اولاد میں یہ نام ملتے ہیں۔

حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پرورش[ترمیم]

حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے والد حضرت عبداللہ بن عبدالمطلب کا انتقال ان کی پیدائش سے کچھ ماہ قبل ہو گیا تھا۔ اس کے بعد حضرت عبدالمطلب نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پرورش آٹھ سال تک کی۔ مگر ان میں سے زیادہ مدت حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عرب کی روایات کے مطابق ایک بدوی قبیلہ میں گذاری۔ یوں وہ تقریبا دو سال کی مدت حضرت عبدالمطلب کے پاس رہے۔

انتقال[ترمیم]

آپ کا انتقال 578ء میں ہوا۔ اس وقت حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عمر آٹھ سال تھی۔


حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ سیرت ابن ھشام جلد اول صفحہ ۱۳۷۔۱۳۸
  2. ^ سیرت ابن ھشام جلد اول صفحہ ۱۴۲ تا ۱۴۷