عبد الرحمٰن الناصر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

عبدالرحمن الناصر (912ء تا 961ء)اندلس میں خلافت امویہ کا سب سے مشہور حکمران تھا جو عبدالرحمن الثالث اور عبدالرحمن اعظم کے ناموں سے بھی معروف ہے۔

وہ جب تخت پر بیٹھا تو ملک کی حالت بہت خراب تھی۔ ہر طرف بغاوتیں پھیلی ہوئی تھیں اور بادشاہ کا حکم قرطبہ سے باہر چلنا بند ہو گیا تھا۔ الناصر کی عمر اس وقت صرف 22 سال تھی لیکن اس کے باوجود اس نے ایسی قابلیت سے حکومت کی کہ دس پندرہ سال کے اندر ملک میں امن قائم کر دیا۔ اس نے نہ صرف اسلامی اندلس میں امن قائم کیا بلکہ شمال کے پہاڑوں میں قائم عیسائی ریاستوں کو بھی باجگذار بنا لیا۔

عبد الرحمن نے فوجی قوت کو بڑی ترقی دی۔ اس کی فوج تعداد ڈیڑھ لاکھ تھی۔اس کے دور میں بحری قوت میں بھی بہت اضافہ ہوا اور اندلس کے بحری بیڑے میں 200 جہاز شامل تھے جبکہ ساحلوں پر پچاس ہزار سپاہی ہر وقت حفاظت کے لیے موجود رہتے۔

اندلس کی اس قوت اور شان کو دیکھ کر یورپ کی حکومتوں نے عبدالرحمن اعظم سے تعلقات قائم کرنا چاہے چنانچہ بازنطینی سلطنت اور فرانس اور جرمنی کی حکومتوں نے اپنے سفراء اس کے دربار میں بھیجے۔ اندلس کے اموی حکمران اب تک "امیر" کہلاتے تھے اور انہوں نے خلافت کا دعویٰ نہیں کیا تھا لیکن چوتھی صدی ہجری میں بغداد پر بنی بویہ کے قبضے کے بعد عباسی خلفاء بویہی حکمرانوں کے ماتحت ہوگئے تھے۔ عبدالرحمن نے جب دیکھا کہ خلافت میں جان نہیں رہی اور وہ ایک طاقتور حکمران بن گیا ہے تو اس نے امیر کا لقب چھوڑ کر اپنی خلافت کا اعلان کر دیا۔ اس کے بعد سے وہ اور اس کے جانشیں خلیفہ کہلانے لگے۔

عبد الرحمن صرف ایک طاقتور حکمران ہی نہ تھا بلکہ وہ بڑا لائق، عادل اور رعایا پرور بادشاہ تھا۔ اس کے زمانے میں حکومت کی آمدنی ایک کروڑ بیس لاکھ دینار تھی۔ اس میں سے ایک تہائی رقم وہ فوج پر خرچ کرتا تھا اور باقی کو وقت ضرورت پر کام آنے کے لیے خزانے میں جمع کر دیتا تھا۔

اس کے عدل و انصاف کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک مرتبہ اس کے لڑکے نے بغاوت کی۔ جب وہ گرفتار کر کے لایا گیا تو عبد الرحمن نے اس کو موت کی سزا دی۔ اس پر ولی عہد نے اپنے بھائی کو معاف کر دینے کے لیے گڑ گڑا کر سفارش کی لیکن عبدالرحمن نے جواب دیا:

ایک باپ کی حیثیت سے میں اس کی موت پر ساری زندگی آنسو بہاؤں گا لیکن میں باپ کے علاوہ بادشاہ بھی ہوں۔ اگر باغیوں کے ساتھ رعایت کروں تو سلطنت ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے گی

اس کے بعد اس کا لڑکا قتل کر دیا گیا۔

ان تمام خوبیوں کے باوجود عبدالرحمن کی زندگی ایک بادشاہ کی زندگی تھی۔ ہم اس کا مقابلہ خلفائے راشدین یا عمر بن عبدالعزیز سے نہیں کر سکتے۔ نہ وہ نور الدین اور صلاح الدین کی طرح تھا اور نہ وہ اپنے خاندان کے ہشام کی طرح تھا۔ اس نے اپنی لونڈی زہرہ کے لیے قرطبہ کے نواح میں ایک بستی قائم کی جو مدینۃ الزہرہ کہلاتی ہے۔ اس پر اس نے کروڑوں روپیہ صرف کیا۔ اس کی تعمیر چالیس سال تک جاری رہی۔ اس میں شاہی خاندان کے امراء کے بڑے بڑے محل اور ملازمین کے لیے مکانات اور سرکاری دفاتر تھے۔ اس میں ایک چڑیا گھر بھی تھا جس میں طرح طرح کے جانور پھرا کرتے تھے اور شہر کے لوگ تفریح کے لیے یہاں آیا کرتے تھے۔

مدینۃ الزہرہ کے محلات کی تکمیل ہونے کے بعد لوگوں نے خلیفہ کو مبارک باد دی۔ جمعہ کا دن تھا مسجد میں سب نماز کے لیے جمع ہوئے۔ قاضی منذر نے خطبہ پڑھا اور اس خطے میں عبدالرحمن کی اس فضول خرچی کی مذمت کی اور برا بھلا کہا۔ قاضی منذر بہت دلیر تھے اور حق بات کہنے سے کبھی باز نہیں آتے تھے۔ عبدالرحمن بھی ایک عادل حکمران تھا اس لیے اس نے قاضی کی باتیں صبر سے سنیں اور اپنی غلطی کا اعتراف کیا۔

عبدالرحمن کے بعد اس کا بیٹا حکم ثانی تخت پر بیٹھا۔