عبد اللہ گل

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
عبد اللہ گل

عبد اللہ گل (بزبانِ ترکی: Abdullah Gül ) (پیدائش: 29 اکتوبر 1950ء) ترکی کے 2007ء میں منتخب ہونے والے صدر ہیں۔ وہ ترکی کے گیارہویں صدر ہیں۔

سوانح[ترمیم]

عبداللہ گُل 29 اکتوبر 1950ء کو قیصری میں پیدا ہوئے۔ 1971ء میں انہوں نے جامعہ استنبول سے معاشیات میں گریجویشن کی اور 1983ء میں وہیں سے پی ایچ ڈی کی سند حاصل کی۔ 1980ء میں ان کی شادی خیر النساء سے ہوئی، جن سے ان کے دو بیٹے ہیں۔

سیاست[ترمیم]

1991ء میں وہ رفاہ پارٹی (بزبانِ ترکی: Refah Partisi، بزبان انگریزی Welfare Party) کے ساتھ ترک پارلیمان میں شامل ہوئے۔ 1997ء میں نجم الدین اربکان کی زیر قیادت رفاہ پارٹی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا اور رفاہ پارٹی ممنوعہ قرار پائی تو جماعت اراکین نے فضیلت پارٹی کے نام سے نئی جماعت بنا لی۔ 1999ء میں عبد اللہ فضیلت پارٹی (بزبانِ ترکی: Fazilet Partisi، بزبان انگریزی Virtue Party) کے رکن منتخب ہوئے، جو بعد ازاں کالعدم قرار دی گئی تو اس کے بعد 2001ء میں عدالت و ترقی پارٹی (Turkish: Adalet ve Kalkınma Partisi یا AK Parti, یا AKP اور انگریزی میں ’Justice and Development Party ‘) کے بانی رکن ہوئے۔

عبداللہ گل ایک تجربہ کار سیاست داں ہیں۔ 2003ء میں وزیر خارجہ بننے کے بعد انہوں نے ترکی کو یورپی اتحاد کا حصہ بنانے کی کوششیں تیز کر دی تھیں 2002ء کے اواخر میں انہوں نے وزیر اعظم کے عہدے کے فرائض بھی انجام دیے۔

عبداللہ گل نے رجب طیب اردوغان کی قائم مقامی بھی کی۔ جب طیب اردوغان ایک سیاسی جلسے میں اسلامی نظم پڑھنے کے قصور وار پائے گئے تھے اور ان پر 2002ء کے انتخابات میں حصہ لینے پر پابندی لگا دی گئی۔ بعد ازاں عبداللہ گل نے بطور وزیر اعظم آئین میں ترمیم کی نگرانی کر کے ضمنی انتخابات کرائے اور اردوغان اس میں کامیاب ہو کر پارلیمان میں پہنچے اور بعد ازاں وزیر اعظم بنے۔

وزیرخارجہ[ترمیم]

ترکی کے وزیر خارجہ بننے کے بعد عدالت و ترقی پارٹی نے 2007ء میں صدارتی امیدوار کے طور پر نامزد کیا تو لادین (سیکولر) جماعتوں نے پارلیمانی رائے دہی کا مقاطعہ کر کے سیاسی تعطل پیدا کر دیا تھا۔ مئی میں لاکھوں ترکوں نے اے کے پی کی جانب سے عبد اللہ کو صدر کے عہدے کے لیے نامزد کرنے کے خلاف احتجاج کیا۔ لیکن اس کے بعد ’اے کے پی‘ نےابتدائی پارلیمانی انتخابات میں قریباً پچاس فیصد ووٹ حاصل کیے۔

سیکولر جماعتوں کی مخالفت کے باوجود حکمران جماعت نے انہیں دوبارہ نامزد کرنے کا فیصلہ کیا۔ جماعت کا کہنا تھا کہ انتخابات میں زبردست کامیابی نے انہیں کو ایسا کرنے کی اجازت دی۔

صدر[ترمیم]

صدارتی انتخاب کے پہلے دو مراحل میں عبداللہ گل محض چند ووٹوں سے صدر منتخب نہیں ہو سکے لیکن 28 اگست 2007ء کو ہونے والے مرحلے میں انہیں مطلوبہ اکثریت حاصل ہو گئی عبداللہ گل کا انتخاب 28 اگست کو ارکان پارلیمان یا نائبین کی ووٹنگ کے تیسرے مرحلے میں ہوا۔ چونکہ گزشتہ دنوں پارلیمان میں ہونے والی رائے شماری میں عبد اللہ گل کی جماعت کو واضح اکثریت ملی تھی، اس لیے 28 اگست کو ہونے والے تیسرے انتخابی مرحلے میں صدر بننے کے لیے انہیں محض سادہ اکثریت درکار تھی۔ یوں انہیں یہ اکثریت حاصل ہوئی اور وہ ترکی کے صدر بن گئے۔

سیکولر ترکی[ترمیم]

ترکی نے جمہوریہ بننے کے بعد سے مذہب اور سیاست کو بالکل علیحدہ رکھا ہے اور سیکولر طاقتوں کو یہ بات پسند نہیں کہ عبداللہ گُل، جن کی اہلیہ سر پر حجاب پہنتی ہیں، منصب صدارت پر فائز ہوں۔ عبد اللہ گل کی اہلیہ پہلی باحجاب خاتون اول ہیں۔

متعلقہ مضامین[ترمیم]