عثمان ابن عفان

وکیپیڈیا سے

(عثمان رضی اللہ عنہ سے رجوع مکرر)
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش
عثمان
Mohammad adil-Rashidun-empire-at-its-peak-close.PNG
حضرت عثمان کے دورِ خلافت میں مملکت اسلامیہ کا نقشہ
مکمل نام عثمان ابن عفان
ترتیب سوئم
جانشین علی
تاریخ ولادت 17 جولائی، 579ء
جائے ولادت مکہ مکرمہ
لقب غنی ،زوالنورین
والد عفان
تاریخ وفات 656ء
جائے وفات مدینہ
وجۂ وفات شہادت

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اسلام کے تیسرے خلیفہ راشد تھے۔ آپ نے 644ء سے 656ء تک خلافت کی ذمہ داریاں سر انجام دیں۔

فہرست

[ترمیم] ابتدائی زندگی

آپ قریش کی ایک شاخ بنو امیہ میں پیدا ہوئے۔ آپ پہلے اسلام قبول کرنے والے لوگوں میں شامل ہیں۔ آپ ایک خدا ترس اور غنی انسان تھے۔ آپ فیاض دلی سے دولت اللہ کی راہ میں خرچ کرتے۔ اسی بنا پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے آپ کو غنی کا خطاب دیا۔

[ترمیم] ذوالنورين

ذوالنورين کا مطلب ہے دو نور والا۔ آپ کو اس لئے ذوالنورين کہاجاتاہے کیونکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کي دو صاحبزادیاں یکےبا دیگرے آپ کے نکاح میں آئیں یہ وہ واحد اعزاز ھے جو کسی اور حاصل نہ ھو سکا.آپ کا شمار عشرہ مبشرہ میں کیاجاتا ہے یعنی وہ دس صحابہ کرام جن کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنی حیات مبارکہ ہی جنت کی بشارت دی تھی.

[ترمیم] ہجرت

آپ نے اسلام کی راہ میں دو ہجرتیں کیں، ایک حبشہ اور دوسری مدینہ منورہ کی طرف۔

[ترمیم] خلافت

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنی وفات سے پہلے ایک کمیٹی تشکیل دی جس میں چھ صحابی شامل تھے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ بھی اس کمیٹی میں شامل تھے۔ اس کمیٹی نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو خلیفہ نامزد کیا۔ آپ نے بارہ سال خلافت کی زمہ داریاں سرانجام دیں۔ آپ کے دور خلافت میں ایران اور شمالی افریقہ کا کافی علاقہ اسلامی سلطنت میں شامل ہوا۔

[ترمیم] جامع قرآن

حضرت عثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہ کو جامع القرآن کہا جاتا ہے۔= سانچہ:قرآن کیسے جمع ہوا ازمحمد احمد اعظمی مصباحی ابن ابی داود نے بسند صحیح حضرت سوید بن غفلہ سے روائت کی انہوں نے فرمایا حضرت علی کا فرمان ہے کہ حضرت عثمان کے بارے میں خیر ہی کہو ؛ کیونکہ انہوں نے مصاحف کے بارے میں جو کچھ بھی کیا صرف اپنی رائے سے نہیں بلکہ ہماری ایک جماعت کے مشورہ سے کیا گیا سانچہ:الاتقان ص 61 ان ہی سے روایت ہے میں خلیفہ ہوتا تو مصحف کے بارے میں وہی کرتا جو حضرت عثمان نے کیا {{ ===اختلاف لغات===}}قبائل عرب میں عربی زبان میں کافی اختلافات تھے مثلا جس کلمہ ء مضارع کا عین ماضی مکسور ہو اس کی علامات مضارع ا ۔ ت۔ ۔ن کو غیر اہل حجاز کسرہ دیتے تھے اسی طرح علامات مضارع کو ی کو جب کہ اس کے بعد کوئی دوسری یا ہو اس لئے وہ تعلم م پیش کے ساتھ کو تعلم ت زیر اور م زبر کے ساتھ بولتے سانچہ:شرح کافیہ للرضی ص 187 ج ۲ مطبوعہ نولکشور لکھنو۱۲۷۹ ھ اسی طرح نبی ھذیل حتی کو عتی اھل مدینہ کے یہاں تابوت کا تلفظ تابوہ تھا بنی قیس کاف تانیث کے بعد ش بولتے ضربک کی بجاءے ضربکش کہتے اس طریقہ تلفظ کو کشکشہ قیس سے تعبیر کیا جاتا بنی تمیم ان ناصبہ کو عن کہتے، اسی طرح ان کے نزدیک لیس کے مشابہ ماولا مطلقا وامل نہیں ، ماہذا بشرا ان کے لغت پر ماہذا بشر ہو گا اسی طرح کے اور بہت سے اختلاف تھے

[ترمیم] شہادت

اسلام کے دشمنوں خاص کر مسلمان نما منافقوں کو خلافت راشدہ اک نظر نہ بھاتی تھی. يہ منافق رسول اللہ سے بھی دنیاوی بادشاہوں کی طرح یہ توقع رکھتے تھے کہ وہ بھی اپنا کوئی ولی عہد مقرر کر یں گے. ان منافقوں کی ناپاک خواہش پر اس وقت کاری ضرب لگی جب امت نے حضرت ابوبکر کو اسلام کا پہلا متفقہ خلیفہ بنا لیا. حضرت ابو بکر کی خلافت راشدہ کے بعد ان منافقوں کے سینے پر اس وقت سانپ لوٹ گیا جب امت نے کامل اتفاق سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ اسلام چن لیا.حضرت عمر کے بعد ٱپ کا سریر آراۓ خلافت ھونا بھی ان مسلمان نما منافقوں کے لۓ صدمہ جانکناہ سے کم نہ تھا۔ انھوں نے آپ کی نرم دلی کا ناجائز فائدہ اٹھایا اور اپ کو شہید کرنے کی ناپاک سازش کی اور ايسے وقت مين کاشانہ خلافت کا محاصرہ کيا جب اکثر صحابہ کرام حج کے ليے مکہ گئے ھوۓ تھے.آپ نے اپنی جان کی خاطر کسی مسلمان کو مزاحمت کرنے کی اجازت نہ دی. اور چالیس روز تک محبوس رہے. 18 ذوالحج کو باغی آپ کے گھر مين داخل ہو گئے اور آپ کو اس وقت شھيد کرديا جب آپ قرآن پاک کی تلاوت فرما رہے تھے.اس دلخراش سانحہ مين آپ کی ذوجہ محترمہ حضرت نائلہ رضی اللہ عنا کی انگشت مبارک بھی شھيد ھو گئیں. کہا جاتا ہے کہ آپ کی شہادت کے بعد اس امت مين تلوار رکھ دی گی جو کہ قیامت تک چلتی رھے گی. آپ کی شہادت کے بعد فرشتوں نے جنگوں ميں مسلمانوں کی مدد کرنا ختم کردی. ابن عساکرزید بن ثابت سے روایت کرتے ھین محمد رسول عربی نے فرمایا ایک دن عثمان میرے پاس سے گزرے اور اسوقت ایک فرشتہ میرے قریب تھا نے کہا یہ شخص قتل ھو گا ان کی قوم انھین شہید کرے گی اور میں ان سے حیا کرتا ھوں۔

آپ کی شہادت کے بعد حضرت علی نے خلافت راشدہ کے چوتھے خلیفہ کی حییثیت سے خلافت سنبھالی۔