عدد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
اعداد کی شجری جماعت بندی کا ایک اظہار۔

عدد (جمع: اعداد ؛ انگریزی number) اصل میں ایک جِرم مجرد (abstract object) ہے کہ جس کو شمار و پیمائش کرنے کے لیۓ استعمال کیا جاتا ہے جبکہ وہ علامت جو کہ کسی عدد کو ظاہر کرنے کے لیۓ اختیار کی جاتی ہے اسے عدید (numeral) کہا جاتا ہے، لیکن عام روزمرہ کے استعمال میں عدد سے مراد لکھی جانے والی علامت اور جرم مجرد (یعنی اس جرم کا شمار یا پیمائش) دونوں کی لی جاتی ہے۔

صحیح عدد[ترمیم]

تفصیلی مضمون: صحیح عدد

صحیح اعداد گنتی کے تمام مثبت اور منفی اعداد، بشمول صفر،کے مجموعہ کو کہتے ہیں۔ انگریزی میں انہیں انٹیجر (integer) کہا جاتا ہے۔ اس مجموعہ کو ہم یوں لکھ سکتے ہیں: 
\mathbb{Z} = \{\cdots, -5, -4, -3, -2, -1, 0, +1, +2, +3, +4, +5, \cdots \}

مکمل عدد[ترمیم]

تفصیلی مضمون: مکمل عدد

غیر منفی صحیح اعداد کو مکمل اعداد کہتے ہیں۔ انگریزی میں انہیں whole numbers کہا جاتا ہے۔ مکمل اعداد کے مجموعہ کو یوں لکھا جا سکتا ہے: 
\mathbb{W} = \{0, +1, +2, +3, +4, +5, \cdots \}

قدرتی عدد[ترمیم]

تفصیلی مضمون: قدرتی عدد

مثبت صحیح اعداد کو قدرتی اعداد کہا جاتا ہے۔ انگریزی میں انہیں natural numbers کہا جاتا ہے۔ قدرتی اعداد کے مجموعہ یوں لکھا جا سکتا ہے: 
\mathbb{N} = \{+1, +2, +3, +4, +5, \cdots \}

کبھی صفر کو بھی قدرتی اعداد میں شامل سمجھا جاتا ہے۔

تقسیم الخوارزم[ترمیم]

فرض کرو کہ صحیح اعداد a اور b ہیں، \ a>0 ۔ پھر ایسے منفرد صحیح اعداد q اور r موجود ہیں،  0 \le r <a ،جبکہ \ b=aq+r
مثال: اگر b=511 ، a=5 ، پھر q=101 ، r=6 ، کیونکہ   511 = 5 \times 101 +6

جفت عدد[ترمیم]

تفصیلی مضمون: جفت عدد

ایسا صحیح عدد جو 2 سے (پورا) تقسیم ہو جفت کہلاتا ہے۔ انگریزی میں even کہتے ہیں۔ جفت اعداد کا مجموعہ

\mathbb{E} = \{\cdots,-8  ,-6, -4,  -2,  0, 2, 4, 6, 8, \cdots \}

طاق عدد[ترمیم]

تفصیلی مضمون: طاق عدد

ایسا صحیح عدد جو 2 سے (پورا) تقسیم نہ ہو، طاق کہلاتا ہے۔ انگریزی میں odd کہتے ہیں۔ طاق اعداد کا مجموعہ

\mathbb{O} = \{\cdots, -9  ,-7  ,-5, -3,  -1, 1, 3, 5, 7, 9, \cdots \}

عادِ اعظم[ترمیم]

تفصیلی مضمون: عاد اعظم

سب سے بڑا صحیح عدد جو دو صحیح اعداد کو پورا تقسیم کرے، ان دو اعداد کا عادِ اعظم کہلاتا ہے۔ انگریزی میں عاداعظم کو ‭ greatest common divisor (gcd)‬ کہتے ہیں۔ مثال کے طور پر 30 اور 42 کا عاد اعظم 6 ہے، کیونکہ 
\begin{matrix}
30 = 5 \times 3 \times 2   \\
42 = 7 \times 3 \times 2   \\
\gcd(30,42) = 3 \times 2 = 6
\end{matrix}

عاد اعظم الخوارزم[ترمیم]

اگرچہ دو صحیح اعداد کا عاد اعظم ان اعداد کے ضربی جُز دیکھ کر معلوم کیا جا سکتا ہے، مگر جب اعداد بڑے ہوں تو ضربی جز نکالنا مشکل ہو جاتا ہے۔ عادِاعظم نکالنے کا ایک تیز طریقہ "تقسیم الخوارزم" کے زریعہ ہے۔ اس الخوارزم کو عموماً یکلڈ کا الخوارزم کہا جاتا ہے۔
یکلڈ الخوارزم: فرض کرو کہ a اور b صحیح اعداد ہیں، \ a>0 ۔ تقسیم الخوازم یکے بعد دیگرے استعمال کرو: 
\begin{matrix}
b = a q_1 + r_1\,,\, 0 \le r_1 < a, \\
a = r_1 q_2 + r_2 \,,\, 0 \le r_2 < r_1, \\
r_1 = r_2 q_3 + r_3\,,\, 0 \le r_3 < r_3, \\
\vdots \\
r_{n-2} = r_{n-1} q_n + r_n \,,\, 0 \le r_3 < r_3, \\
r_{n-1} = r_n q_{n+1}
\end{matrix}
اب اگر آخری عدد بچا ہے جو صفر نہیں ہے، تو \  r_n = \gcd(a,b) ۔

مثال: ہم 198اور 1050 کا عادِ اعظم نکالتے ہیں: 
\begin{matrix}
1050&= 198         &\times 5   &+  & 60 \\
        &  \swarrow   &               &    & \swarrow \\
198  &= 60           &  \times 3 &+ & 18 \\
        &  \swarrow   &               &    & \swarrow \\
60    &=  18          & \times 3  &+  &    6\\
        &  \swarrow   &               &    & \swarrow \\
18    &= 6             &  \times 3 &+ &      0
\end{matrix}
اسلئے \ \gcd(198,1050)=6 ۔


نظریہ[ترمیم]

اگر a اور b کا عاد اعظم \ \gcd(a,b) ہو، تو اس عاد اعظم کو a اور b کے لکیری جوڑ کے طور پر لکھا جا سکتا ہے۔ یعنی ایسے صحیح اعداد x اور y موجود ہونگے کہ \ \gcd(a,b) = x a + y b

اعداد x اور y کو نکالنے کے لیے عاد اعظم الخوارزم کو اُلٹی طرف سے پڑھا جا سکتا ہے۔ اوپر کی مثال ہم الٹی جانب لکھتے ہیں: 
\begin{matrix}
6 &=& 60 - 18 \times 3    && \\
   &=& 60 - (198 -60\times 3) \times 3 &=& -198 \times 3 + 60 \times 10 \\
   &=& -198 \times 3 + (1050 -198 \times 5) \times 10 &=& 1050 \times 10 - 198 \times 53
\end{matrix}
گویا x=10 اور y=-53


\gcd(1050,198) = 10 \times 1050 - 53 \times 198

ذواضعاف اقل[ترمیم]

تفصیلی مضمون: ذواضعاف اقل

دو اعداد a اور b کا ذواضعاف اقل ایسے عدد m کو کہا جاتا ہے، جبکہ m ایسا عدد ہو جو a اور b کے مثبت ضربیات میں سب سے چھوٹا ہو۔ انگریزی میں اسے ‭ least common multiple (lcm)‬ کہتے ہیں۔
مثال: چلو a=4, b=6 ، پھر

4 کے مثبت ضربیات: 4, 8, 12, 16, 20, .....
6 کے مثبت ضربیات: 6, 12, 18, 24, 30, .....

اس لیے \ lcm(4,6) = 12 ۔


نظریہ[ترمیم]

دو مثبت صحیح اعداد کا ضربی جوڑ ان اعداد کے عاد اعظم اور دواضعاف اقل کے ضربی جوڑ کے برابر ہوتا ہے:
\begin{matrix}
\   a \times b  = \gcd(a,b)  \times lcm(a,b)   \,\,,\\
a>0,\,b>0
\end{matrix}

مرکب عدد[ترمیم]

تفصیلی مضمون: مرکب عدد

ایک مثبت عدد جس کے دو سے زیادہ ضربی اجزا ہوں، اسے مرکب عدد کہا جاتا ہے۔ انگریزی میں اسے کمپوزٹ (composite) کہتے ہیں۔ مثال:


\  116 = 2 \times 2 \times 29

مفرد عدد[ترمیم]

تفصیلی مضمون: مفرد عدد

ایک مثبت عدد کو مفرد کہا جاتا ہے اگر اس عدد کے صرف دو ضربی اجزا ہوں (ایک یہ خود اور دوسرا 1)۔ مثلاً 25 سے چھوٹے مفرد اعداد یہ ہیں:
2, 3, 5, 7, 11, 13, 17, 19, 23
انگریزی میں مفرد عدد کو پرائم (prime) کہا جاتا ہے۔


عدد 1 نہ مفرد ہے نہ مرکب۔

حساب کا بنیادی نظریہ[ترمیم]

فرض کرو n>1 ۔ اب n کو مفرد اعداد کے جز ضربی کے طور پر لکھا جا سکتا ہے۔ اور یہ جُزِ ضربی منفرد ہونگے، صرف ترتیب مختلف ہو سکتی ہے۔ مثال:

\  299376 = 2^4 \times 3^5 \times 7 \times 11
جہاں 2, 3, 7, 11, مفرد اعداد ہیں۔ ان مفرد اعداد کے علاوہ کوئی دوسرا مفرد اعداد کا مجموعہ نہیں، جو 299376 کے ضربی جز بن سکیں، صرف ترتیب مختلف ہو سکتی ہے، مثلاً

\  299376 = 7 \times  3 \times 2 \times 2 \times 3 \times 3 \times 2 \times 3 \times 11 \times 3 \times 2

نظریہ[ترمیم]

مفرد اعداد کی تعداد لامحدود ہے۔
ثبوت:
ثبوت نفی طریقہ سے دیتے ہیں۔ فرض کرو کہ مفرد اعداد کا مجموعہ محدود ہے۔ تو اس مجموعہ کو یوں لکھ لیتے ہیں:  \{  p_1, p_2, p_3, \cdots, p_k \} اب اس عدد کو دیکھو:  Q = p_1 p_2 p_3 \cdots p_k + 1 اب یا توQ مفرد ہے یا پھر اس کے مفرد جز ضربی موجود ہیں۔ اگر مفرد ہے تو مفروضے کی نفی ہو گئی۔ دوسری صورت میں دیکھو کہ اوپر دیے مفرد اعداد میں سے کوئی بھی Q کو تقسیم نہیں کرتا جو کہ بنیادی نظریہ کے خلاف ہے۔ اس لیے یہ صورت بھی مفروضے کی نفی کرتی ہے۔ پس ہم یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ یہ مفروضہ کہ "مفرد اعداد کی تعداد محدود ہے" ہی غلط تھا۔

نظریہ[ترمیم]

اگر صحیح عدد  n>1 کے کوئی جز ضربی ایسے نہیں جو  \sqrt{n} سے چھوٹے ہوں ( \le \sqrt{n} ) ، تو عدد n مفرد ہے۔

مفرد عدد کی چھاننی[ترمیم]

مفرد اعداد ڈھونڈنے کے لیے چھاننی کا طریقہ مفید ہے۔ فرض کرو کہ ہمیں 300 سے کم اعداد میں سے مفرد عدد تلاش کرنے ہیں، تو 300 تک کے اعداد لکھ لو
2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 ........
اب 2 سے شروع کرتے ہیں۔ اس کے نیچے لکیر لگا دو۔ اب 2 کے ضربیات کاٹ دو۔ اس کے بعد 3 کے نیچے لکیر لگاؤ۔ اب 3 کے ضربیات کاٹ دو۔ اس ظرح نہ کٹے اعداد کے نیچے لکیر لگا کر اس کے ضربیات کاٹنے (چھاننے) کا عمل جاری رکھو۔ کسی نھی وقت سب سے چھوٹا عدد جس کے نیچے لکیر نہیں لگی یا کٹا ہؤا نہیں، تو یہ عدد مفرد ہے۔ چونکہ  \lfloor\sqrt{300}\rfloor= 17  ، اسلئے ہمیں 17 تک کے اعداد کے نیچے لکیر لگانے کا عمل جاری رکھنا ہے۔

مفرد عدد کی پہچان[ترمیم]

مفردی کی یہ ایک کسوٹی ہے: اگر عدد p مفرد ہے تو لازم ہے کہ وہ اس امتحان میں پورا اترے
p-1 کو 2 کی طاقت علیحدہ کر کے لکھو 
p-1 =2^\zeta \times \eta
تو p کے مفرد ہونے کے لیے لازم ہے کہ نیچے دی دو مساوات میں سے ایک کی تسکین ہو:

\beta^\eta \equiv \pm 1 \mod p

یا 
\beta^{2^j \eta} \equiv -1 \mod p \,,\, j=1,2,\cdots,\zeta-1
ہر نیچے دیے \beta کے لیے

\beta = 2,3,\cdots,p-2

مثال: عدد 511 مفرد نہیں کیونکہ 7 سے تقسیم ہوتا ہے۔ مگر \beta=81 کے لیے کسوٹی پر پورا اترتا ہے  \begin{matrix}
p-1 = 510 = 2^1 \times 255  \\
\beta=81  \\
\beta^\eta = 81^{255} \equiv 1 \mod 511
\end{matrix}
جس سے پتہ چلتا ہے کہ تمام \beta کے لیے تسلی کرنی چاہیے۔

عملی طور پر یہ کسوٹی مفرد عدد ڈھونڈنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ بہت بڑے اعداد کی تجزی کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ کچھ عملیات میں یہ کرتے ہیں کہ کسی عدد کے بمطابق بہت سے رینڈم (بے ترتیب) \beta لے کر (مگر سارے نہیں) تجربہ کیا جاتا ہے، اگر کسوٹی پر کوئی عدد پورا اترے تو اسے مفرد تصور کر لیا جاتا ہے۔

توزیع مفرد اعداد[ترمیم]

اگر x سے کم مفرد اعداد کی تعداد کو \pi(x) لکھا جائے تو

\frac{\pi(x) }{x/\ln(x)} \to 1  \,\, as\,\, x \to \infty

اسے توزیع مفر اعداد (Distribution of Prime Number) کہتے ہیں۔ 1896ء میں دو ریاضی دانوں، فرانسیسی ریاضی دان جیک ہیڈامرڈ اور  بیلجین ریاضی دان چارلس ژاں گوستاو نیکولا بارون ڈولہ والہے پوسا نے الگ الگ ثابت کیا۔ دونوں نے اس مقصد کے لیے مختلط تحلیل (Complex Analysis) کا استعمال کیا۔ بیسوں صدی میں اس کو اور بہت سے ریاضی دانوں نے بغیر مختلط تحلیل کے ذریعے ثابت کیا۔ سب سے آسان حل امریکی ریاضی دان ڈونلڈ نیومین نے دیا حالانکہ اس میں مختلط تحلیل استعمال ہوئی ہے۔ 2005ء میں اسے پہلی دفعہ شمارندہ (Computer) کی مدد سے ثابت کیا گیا۔ 

تفصیلی مضمون: نظریہ مفرد اعداد

مزید دیکھیں[ترمیم]

E=mc2     اردو ویکیپیڈیا پر ریاضی مساوات کو بائیں سے دائیں LTR پڑھیٔے     ریاضی علامات

‘‘http://ur.wikipedia.org/w/index.php?title=عدد&oldid=1022667’’ مستعادہ منجانب