عزیز احمد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

اردو کے مشہور افسانہ نگار اور ناول نگار

ابتدائی زندگی [ترمیم]

پروفیسر عزیز احمد 1914ء کو حیدر آباد دکن میں پیدا ہوئے۔ گورنمنٹ کالج اورنگ آباد سے انٹر اور 1934ء میں جامعہ عثمانیہ حیدر آباد سے بی ۔ اے کیا۔ 1938ء میں اعلیٰ تعلیم کے لیے لندن چلے گئے اور لندن یونیورسٹی سے انگریزی اورفارسی میں آنرز کیا اور پھرواپس آکر جامعہ عثمانیہ ہی میں انگریزی کے پروفیسر مقرر ہوئے۔ 1942ء میں نظام حیدر آباد کی بہادر شہوار کے اتالیق مقرر ہوئے اور چار سال شاہی خانوادے سے منسلک رہے

ادبی زندگی [ترمیم]

عزیز احمد کی علمی و ادبی زندگی کا آغاز جامعہ عثمانیہ کی تعلیم کے دوران ہی ہوا۔ 1943ء میں ان کی تین اہم منظومات پر مشتمل ایک مجموعہ منظر عام پر آیا جس کا نام ’’ماہ لقا اور دوسری نظمیں ‘‘ تھا۔

تقسیم ہند [ترمیم]

تقسیم ہند کے بعد 1949ء میں عزیز احمد پاکستان آگئے۔ یہاں پر وہ محکمہ فلم اور پبلی کیشنز میں ڈائریکٹر اور حکومت کے دیگر مختلف اعلی عہدوں پرفائز رہے۔ محکمہ مطبوعات کی ملازمت کے دوران کئی اردو انگریزی رسالے ان کے زیر انتظام پاکستان سے شائع ہوئے جن میں ’’ماہ نو ‘‘ اور ’’ہلال ‘‘ تھے ۔ 1958ء میں عزیز احمد لندن چلے گئے اور اسلول آف اورینٹل میں پڑھانے لگے ۔1960ء میں وہ وہاں سے ٹارینٹو یونیورسٹی کے شعبہ اسلامیات سے منسلک ہوگئے اور آخر دن تک وہیں رہے۔ ان کی اہم تصانیف میں مختلف ناول شامل ہیں۔ جن میں ’’گریز‘‘ ’’مرمر اور خون‘‘ ، ’’ہوس ‘‘’’آگ‘‘ ، ’’ایسی بلندی ایسی پستی ‘‘ اور ’’شبنم‘‘ ہیں۔ 16 دسمبر 1978ء میں عزیز احمد کا کینڈا میں انتقال ہو گیا او وہیں مدفون ہوئے۔