عزیز حامد مدنی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

شاعر، محقق، نقاد، ماہر لسانیات آمد: 15 جون 1922، رائے پور، بھارت رخصت: 23 اپریل 1991، کراچی، پاکستان عزیز حامد مدنی بنیادی طور پر روایتی غزلیہ لہجے میں چھپے ھوئے تازہ عشقیہ المیات اور واردات کے شاعر تھے ۔ ان کی شاعرانہ افسردگی اور اداسی میں ناسٹلجیائی تہذیب کا گم گشتہ کا رومانس چھپا ھوا ھے۔ ان کے والد محمد حامد صدیقی کے استاد مولانا شبلی نعمانی تھے اور مولانا محمد علی جوہر ان کے ھم مکتبوں میں شامل تھے۔ عزیز حامد مدنی 1948 میں نقل مکانی کرکے کراچی آگئے اور کمشنر جی۔اے مدنی کے ساتھ رھے۔ سابق شیخ الجامعہ، جامعہ کراچی ظفر سعید سیفی ان کے بھانجے ہیں۔ انگریزی میں ایم اے کی سند حاصل کی۔ ریڈیو پاکستان کے انتظامی عہدوں پر فائز رھے۔ زیادہ تر وقت ملازمت کے سلسلے میں کراچی اور پشاور میں گذرا۔ اور بحیثیت رزیڈنٹ ڈائریکٹر ریڈیو پاکستان کے عہدے سے ملازمت سے سبکدوش ھوئے۔ وہ تا حیات مجرد رھے۔ ریٹائر ھونے کے بعد مدنی صاحب گلشن اقبال ،کراچی میں رہائش پذیر ھوئے۔ یہی انتقال ھوا۔ لیاقت آباد کے قبرستان میں اسودہ خاک ھوئے۔ " تازہ ھوا بہار کی دل کا ملال لے گئ": عزیز حامد مدنی

تصانیف[ترمیم]

  • " جدید اردو شاعری" (دو جلدیں) ۔۔۔ نثر
  • ‘ چشم نگران‘، ‘دشت امکان‘ ،‘نخل گمان ‘اور ‘گل آدم‘۔۔۔۔۔۔ شعری مجموعے ۔

(احمد سہیل)