عصمت چغتائی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

عصمت چغتائی ہندوستان کی ایک مشہور اردو مصنفہ۔جنہوں نے افسانوی نثر افسانہ ، خاکہ نگاری اور ناول نگاری میں نام پیدا کیا۔ اتر پردیش میں پیدا ہوئیں۔جبکہ جودھ پور میں پلی بڑھیںجہاںان کے والد ایک سول ملازم تھے۔ 1934ءمیںانہوں نے، لحاف ،کے نام سے کہانی لکھی۔ راشدہ جہاں ، واجدہ تبسم اور قراۃالعین حیدر کی طرح عصمت چغتائی نے بھی اردو ادب میں انقلاب پیدا کر دیا۔صمت چغتائی لکھنئو میں پروگریسیو رائٹرز موومنٹ سے بھی منسلک رہیں۔

تعارف[ترمیم]

عصمت چغتائی ۱۹۱۵ء میں ہندوستان کے بداءوں کے مقام پر پیدا ہوءیں۔ ۷۶ سال کی عمر میں ۱۹۹۱ء میں ان کا انتقال ہوگیا۔ [1]

فلمی سفر[ترمیم]

ضدی یہ فلم ۱۹۴۸ میں عصمت چغتائی نے لکھی تھی۔

۱۹۵۰ میں آرزو فلم کا انھوں نے ڈاءیلاگ بھی لکھا اور اسکرین پلے بھی جب کہ کہانی بھی عصمت چغتائی کی ہی تھی۔

۱۹۵۸ ء میں سونے کی چڑیا فلم کی کہانی بھی انھوں نے ہی لکھی۔

۱۹۷۴ ء میں ایک فلم آءی تھی جس کا نام گرم ہوا تھا جو کہ عصمت چغتائی کے ایک افسانہ کو بنیاد بنا کر بناءی گءی تھی۔ اس فلم کے ڈاءیلاگ اور اسکرین پلے کیفی اعظمی اور شمع زیدی نے تحریر کءے گءے ہیں۔

اس کے علاوہ عصمت چغتائی نے فلم جنون اور فلم محفل کے بھی ڈاءیلاگ تحریر کءے ہیں۔ [2]


عصمت چغتائی کی افسانہ نگاری[ترمیم]

(”چوتھی کا جوڑا“ کے خصوصی حوالے سے) [3]

عصمت چغتائی ہندوستان کی ایک مشہور اردو مصنفہ ہیںجنہوں نے افسانوی نثر افسانہ ، خاکہ نگاری اور ناول نگاری میں نام پیدا کیا۔ اترپردیش میں پیدا ہوئیں۔جبکہ جودھ پور میں پلی بڑھیںجہاںان کے والد ایک سیول ملازم تھے۔ 1934ءمیںانہوں نے، لحاف،کے نام سے کہانی لکھی۔ عصمت چغتائی لکھنو میں پروگریسیو رائٹرز موومنٹ سے بھی منسلک رہیں۔ عصمت چغتائی 1991ءمیںانتقال کر گئیںان کے مشہورِ زمانہ ناولوں میں ضدی ، معصومہ ، ٹیڑھی لکیروغیرہ شامل ہیں۔ ٹیرھی لکیر کا انگریزی میں بھی ترجمہ کیا گیا۔

افسانہ اردو ادب کی سب سے زیادہ مشہور نثری صنف ہے۔ داستانوں کے لےے وقت درکار ہوتا ہے اور بیسویں صدی میں فرصت کے لمحات کم ہی میسر آرہے تھے ۔ فطری طور پر ان لمحات سے محظوظ ہونے کے لےے داستانوں نے افسانہ کی شکل لے لی۔ افسانہ انگریزی ادب سے اردو میں داخل ہوا ہے ۔ افسانہ میں مختلف موضوعات شامل کئے گئے۔ منشی پریم چند نے افسانوں میں آزادی کی تحریک کے علاوہ سماجی مسائل کو بھی اجاگر کیا۔ واجدہ تبسم اور قرة العین حیدر نے انقلابی افسانے لکھے۔ افسانہ میں سماجی مسائل کے علاوہ بہت سے موضوعات شامل کئے گئے۔ عصمت چغتائی نے خواتین اور ان سے جڑے مسائل پر لکھا ہے۔ ان کے افسانے اور ناول متوسط طبقہ کی خواتین کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کا افسانہ پہلا افسانہ ”گیندا“ ہے۔ اس افسانے میں انھوں نے کئی اہم موضوعات کا احاطہ کیا ہے۔ اس افسانہ کا مرکزی کردار گیندا ہے۔ یہ ایک نہایت غریب لڑکی ہے۔ اس کی سہیلی ایک اوسط درجہ کے گھرانے سے تعلق رکھتی ہے۔ کہانی اسی لڑکی کی زبانی سنائی جارہی ہے۔ دونوں بچپن سے ساتھ کھیلتے ہیں۔ گیندا کی بچپن میں ہی شادی ہوچکی ہے اور وہ بیوہ ہے۔ کھیل کے دوران جب گیندا کو سیندور دیا جاتا ہے تو وہ کہتی ہے کہ ”بدھوا کاہے کو سنگھار کرے“۔ گیندا کی سہیلی کا بھائی گیندا کو ماں بنادیتا ہے۔ کسی طرح لڑکے کو دہلی بھیج دیا جاتا ہے۔ سال دیڑھ سال بعد گیندا کی سہیلی واپس آتی ہے تو گیندا کی گود میں بچہ ہوتا ہے۔

عصمت چغتائی ترقی پسند ادب سے وابستہ تھیں۔ ترقی پسند ادب کے بارے میں ان انھوں نے کہا:

”ایسا ادب جو انسان کی ترقی چاہے۔ انسان کی بھلائی چاہے۔وہ ادب وہ آرٹ جو انسان کو پیچھے نہ دھکیلے۔ انسان کو دنیا کی اچھی سمت پر چلائے۔ وہ ادب جو انسان کو صحت، علم اور کلچر حاصل کرنے میں مدد دے اور جو ہر انسان کو برابر کا حق دینے پر یقین رکھتا ہو۔ انسان کی زندگی کے عروج کا قائل ہو۔ انسان کوگندگی سے نکال کر صاف و شفاف علم کی طرف پہنچادے۔ مکمل طور پر انسان کی بھلاسئی چاہے۔ اس کے سوچنے کے انداز پر ایسا

اثر ڈالے کہ بجائے پیچھے ہٹنے کے آگے بڑھے۔ اندھیرے میں جانے کی بجائے اجالے کی طرف آئے۔وہ ادب ترقی پسند ہے۔

جب ہم ترقی پسند ادب کہتے ہیں تو اس کی وسعت لامحدود ہے۔ قصہ، کہانی، نظم، غزل غرض کہ ہر فکر و عمل کے کارہائے نمایاں جن سے انسان کی فلاح وبہبود مقصود ہو وہی دراصل ترقی پسند ادب ہے۔ “

”چوتھی کا جوڑا“عصمت چغتائی کا نمائندہ افسانہ ہے۔ یہ ایک غریب بیوہ بی اماں کے خاندان کی کہانی ہے۔ دو بیٹیوں کی ماں گھر میں زری کا کام کرکے اپنی اور بیٹیوں کی کفالت کرتی ہے۔ کبریٰ بڑی لڑکی ہے جس کی عمر

کافی بڑھ چکی ہے اور اس کی شادی کی فکر میں وہ گھلی جارہی ہے۔ جب کہ چھوٹی بیٹیا وحیدہ ہے۔

زری اور کترن کے کام میں بی اماں بہت زیادہ ماہر تھی اور محلہ کی عورتیں جن کپڑوں میں مکمل سلائی نہ ہوتی وہ لاکر بی اماں کے حوالے کردیتے اور وہ اس طرح سے کترن کرتی کہ کپڑا برابر ہوجاتا۔ یہ مہارت وہ استقلال کے

ساتھ کرتی اور محلہ کی عورتیں حیرت سے اس کا منہ تکتی۔

بی اماں کی مہارت کے بعد عصمت چغتائی نے اس بیوہ کی دلی خواہش کی طرف توجہ دلائی ہے۔ اپنی بیٹی کی شادی کی خواہش دل میں لئے وہ بار بار چوتھی کا جوڑا بناتی اور پرانا ہونے پر اسے ادھیڑ کر پھر سے نیا کردیتی۔

بی اماں کی کیفیت کو وہ اس طرح بیان کرتی ہےں۔

دوپہر کا کھانا کھانے کے بی اماں ایک بڑا صندوق کھول کر بیٹھ جاتی جس میں رنگ برنگے ڈوپٹے ، شادی اور چوتھی کے جوڑے وغیرہ ہوتے ۔ اسے دیکھ کر وہ کبریٰ کی شادی کے بارے میں سوچتی۔ محلہ کی کتنی دلہنوں کے لےے جوڑا تیار کرنے والی بی اماں اپنی بڑی بیٹی کبریٰ کے لےے جوڑا تیار کرتی اور جب وہ پرانا ہوجاتا تو اسے ادھیڑ دیتی اور پھر سے نیا جوڑا بناتی۔

جب محلہ چار عورتیں جمع ہوں تو مختلف مسائل پر گفتگو بھی ہوتی ہی ہے، ساتھ ہی کبھی کبھی بیہودہ مذاق بھی ہوتے تھے۔ ان مذاقوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لطیف انداز میں عصمت چغتائی لکھتی ہیں۔

جب محلہ کی عورتیں جمع ہوجاتی اور مذاق کرنے لگتی تو کم عمر اور کنواری لڑکیوں کو دور بیٹھادیاجاتا۔ جب زور دار قہقہہ بلند ہوتا تو وہ لڑکیاں سوچنے لگتی کہ ہم کب اس طرح کا قہقہہ لگاسکیں گے۔ اس چہل پہل سے دور

کبریٰ مچھروں والی کوٹھڑی میں سرجھکائے بیٹی رہتی۔

کبریٰ کی عمر بڑھ رہی ہے اور مچھروں والی کوٹھڑی میں پڑی رہتی ہے ۔ اس کی چھوٹی بہن حمیدہ اس کہانی کا اہم کردار ہے اکثر جملے عصمت چغتائی نے اسی کے ذریعہ سے کہلوائے ہیں۔ حمیدہ کے ابو کی کی تفصیلات

بھی حمیدہ کے ذریعہ سے ہی بتلائی گئی ہیں:

حمیدہ چھوٹی بیٹی ہے اور اسے اپنے ابو کی یاد آتی ہے۔ اب کتنے دبلے پتلے تھے جیسے محرم کا علم ، ایک بار جھک گئے تو سیدھے کھڑا ہونا دشوار تھا۔ صبح ہی صبح نیم کی مسواک توڑ لیتے اور پھر حمیدہ کو گھٹنے بٹھا

کر نہ جانے کیا سوچتے ہوئے مسواک کرتے ، مسواک کا کوئی پھونسڑا حلق میں چلے جاتا تو کھانستے ہی چلے جاتے۔ حمیدہ بگڑ کر ان کی گود سے اتر آتی۔ “ بی اماں کے شوہر کی بیماری کا تذکرہ عصمت چغتائی نے مکالمہ کے ذریعہ لکھا ہے :

”کچھ دوادارو کیوں نہیں کرتے ، کتنی بار کہا تم سے“

”بڑے شفاخانے ڈاکٹر کہتا ہے سوئیاں لگواﺅ۔ روز تین پاﺅ دودھ اور آدھی چھٹاک مکھن کھاﺅ۔“

”اے خاک پڑے ان ڈاکٹروں کی صورت پر بھلا ایک تو کھانسی اوپر سے چکنائی، بلغم نہ پیدا کردے گی۔ حکیم کو دکھاﺅ کسی کو۔“ ”دکھاﺅں گا“

یہ کہہ کر وہ حقہ گڑگڑاتے۔

گھر کے اہم فرد کے انتقال کے بعد گھر کے حالات بالکل بدل جاتے ہیں۔ عصمت چغتائی نے ان تبدیلیوں کو اپنے مخصوص انداز میں اس طرح بیان کیا ہے :

ابا ایک دن چوکھٹ پر گرگئے اور انھیں اٹھانے کے لےے کسی حکیم یا ڈاکٹر کا نسخہ نہ آسکا۔ اور حمیدہ نے میٹھی روٹی کی ضد کرنی چھوڑدی۔ اور کبریٰ کے پیغام نہ جانے کدھر راستہ بھول گئے۔ جانو کسی کو معلوم ہی نہیں کہ اس ٹاٹ کے پردے کے پیچھے کسی کی جوانی آخری سسکیاں لے رہی ہے اور ایک نئی جوانی سانپ کے پھن کی طرح اٹھ رہی ہے مگر بی اماں کا دستور نہ ٹوٹا وہ اسی طرح روز دوپہر کو سہ دری میں رنگ برنگ کپڑے پھیلاکر گڑیوں کا کھیل کھیلا کرتی ہیں۔ “

کہانی میں ایک اہم موڑ اس وقت آتاہے جب حمیدہ کے منجھلے ماموں کا بیٹاراحت اس بیوہ کے گھر میں ایک امید کی کرن بن کر آتا ہے۔ بیوہ بی اماں یہ سمجھتے ہے کہ اس کے بھائی کا بیٹا یہاں آیا ہے تو ہو سکتا ہے اس کا داماد بن جائے۔ اپنے گہنے اور زیورات بیچ کر یہ بیوہ راحت کے لےے راحت کا سامان مہیا کرتی ہے تاکہ وہ مہمان نوازی سے خوش ہو اور کبریٰ سے شادی کرلے۔ عصمت چغتائی حمیدہ کی زبانی راحت کے آنے کی تفصیلات اس طرح فراہم کرتی ہیں:

”ایک دن منجھلے ماموں کا تار آیا کہ ان کا بڑا لڑکا راحت پولیس کی ٹریننگ کے سلسلہ میں آرہا ہے۔ بی اماں کو تو بس ایک دم جیسے گھبراٹ کا دورہ پڑ گیا جانو راحت نہیں، چوکھٹ پر بارات آئی کھڑی ہو اور انھوں نے ابھی دلہن کی مانگ کی افشاں بھی نہیں کتری ہول سے ان کے تو چھکے چھوٹ گئے۔ جھٹ اپنی منہ بولی بہن بندو کی ماں کو بلا بھیجا۔ “ راحت کے آنے کے بعد کبریٰ کی شادی کے لےے آس لگاکر گھر کو صاف کرتی ہے۔ مختلف قسم کے پکوان کی تیاری کرتی ہے۔ اس کی تفصیلات دیکھئے:

”تھوڑا سا چونہ منگاکر کبریٰ نے اپنے ہاتھوں سے کمرہ پوت ڈالا۔ کمرہ تو چٹاہوگیا مگر اس کی ہتھیلیوں کی کھال اڑ گئی اور جب وہ شام کو مسالہ پیسنے بیٹھی تو چکر کھاکر دوہری ہوگئی۔ ساری رات کروٹیں بدلتے گزری ایک توہتھیلیوں کی وجہ سے دوسرے صبح کی گاڑی سے راحت آرہے تھے۔ “

راحت کے آنے اطلاع پاکر حمیدہ بھی خوش ہوتی ہے۔ اور خوشی میںوہ فجر کی نماز پڑھ کر دعا مانگی ”اللہ میرے اللہ میاں، اب کے تو میری آپا کا نصیبہ کھل جائے، میرے اللہ میں سو رکعت نفل تیری درگاہ میں پڑھوں گی“۔ کبریٰ وہی کوٹھری میں چھپی رہتی ہے جب راحت صبح سوئیوں اور پراٹھوں کا ناشتہ کرکے بیٹھ میں چلے جاتے تو کبریٰ نئی دلہن کی طرح پیررکھتی کوٹھڑی سے نکلتی اور جھوٹے برتن اٹھالیتی۔ کبریٰ اور حمیدہ میں مذاق بھی ہوتا ہے۔

لاﺅ! میں دھوﺅں بی آپا، حمیدہ نے شرارت سے کہا ”نہیں وہ شرم سے جھک گئی “

حمیدہ چھیڑتی رہی، بی اماں مسکراتی رہیں اور کریپ کے دوپٹے پر پلوٹانکتی رہیں۔

بیوہ کے گھر میں روز دعوتیں ہو تو پھر گھر کے سامان کہاں گھر میں رہتے ہیں۔ پھول پتا اور چاندی کی پازیب فروخت کرکے وہ راحت کے لےے پراٹھے، کوفتے، پلاﺅ وغیرہ کا انتظام کرتی اور خود پانی سے روکھا نوالہ نگلتی۔ داماد کے لےے گوشت اور مچھلے کھلاتیں۔

عصمت چغتائی حمیدہ کے ذریعہ ہونے والے داماد کے لےے جو گہما گہمی ہے اس کی نشاندہی اس طرح کرتی ہیں:

”ہم بھوکے رہ کر داماد کو کھلارہے ہیں، بی آپا صبح سویرے اٹھ کر جادو کی مشین کی طرح کام پر جٹ جاتی ہے۔ نہار منہ پانی کا گھونٹ پی کر راحت کے لےے پراٹے تلتی ہےں۔ دودھ اونٹاتی ہیں تاکہ موٹی سی ملائی پڑے اس کا بس نہیں تھا کہ وہ اپنی چربی نکال کر ان پراٹھوں میں بھردے اور کیوں نہ بھردے آخر کو ایک دن وہ اس کا اپنا ہوجائے گا جو کچھ کمائےگا، اس کی ہتھیلی پر رکھے گا۔ پھل دینے والے پودے کو کون نہیں سینچتا....؟ “ اتنا ہی نہیں وہ راحت کے کپڑے دھوتی، بدبودار موزے دھوتی، ناک صاف کئے ہوئے رومال بھی دھوتی گھر کو جھاڑو لگاتی۔ راحت کے بارے میں دیکھئے

”راحت صبح سویرے انڈے پراٹھے ڈٹ کر کھاتا اور شام کو آکر کوفتے کھاکر سوجاتا اور بی اماں کی منہ بولی بہن کھسر پھسر کرتیں“۔

راحت کچھ بات نہیں کرتا تو بی اماں ان کی سہیلی وحیدہ کو کہتی ہے کہ وہ راحت سے بات کرے۔ وحیدہ راحت سے مذاق کرنے لگتی ہے۔ ساتھ ہی ڈرتی بھی ہے تو بی اماں کہتی ہے ”وہ تجھے کھاتھوڑے ہی جائے گا“۔ وہ نہیں چاہتی کہ راحت سے مذاق کرے لیکن اپنی بہن کی خوشی کے لےے وہ مذاق کرتی۔ بی اماں کی سہیلی کا نسخہ کام کرتا ہے اور راحت دن کا زیادہ تر وقت اب گھر پر ہی رہنے لگا۔ حد تو یہ ہوئی کہ وہ کوفتوں کو کھلی اور بھوسہ کہتا۔ وحیدہ سوچنے لگتی کہ ہم اسے گرماگرم کوفتے کھلارہے ہیں اور خود روکھا ساکھا کررہے ہیں اور یہ اس طرح کی باتیں کرتا ہے۔ پھر وہ اپنی بہن کے لےے یہ بھی برداشت کرتی ہے۔ دل میں سوچتی ہے

” بی آپا تو چولہے میں جھنکی رہتیں ۔ بی اماں چوتھی کے جوڑے سیا کرتیں اور راحت کی غلیظ آنکھیں تیر بن کر میرے دل میں چبھا کرتیں۔ بات بے بات چھیڑنا کھانا کھاتے وقت کبھی پانی تو کبھی نمک کے بہانے سے اور ساتھ ساتھ جملہ بازی میں کھسیا کر بی آپا کے پاس جابیٹھتی جی چاہتا، صاف کہہ دوں کسی کی بکری اور کون ڈالے دانہ گھاس، اے بی مجھ سے تمہارا بیل نہ ناتھا جائے گا مگر بی آپا کے الجھے ہوئے بالوں پر چولہے کی اڑتی ہوئی راکھ .... نہیں!.... میرا کلیجہ دھک سے رہ گیا میں نے ان کے سفید بال لٹ کے نیچے دبادیئے۔ ناس جائے اس کمبخت تڑے کا بے چاری کے بال پکنے شروع ہوگئے“۔

بی آپا اور بی اماں وحیدہ کو بلا کراس کی تفصیل پوچھتے کہ بتا تو سہی کہ راحت کیا کہہ رہے تھے۔ ”اور کیا کہہ رہے تھے“ اور وحیدہ جھوٹ موٹ کی باتیں بناکر انھیں خوش کرتی کہ وہ پکوان کی تعریف کررہے تھے۔ بی آپا اپنا سوئٹر راحت کی نذر کردیتی ہے۔ جب وحیدہ کہتی ہے کہ وہ سوئٹر پہن لے تو کبریٰ کہتی ہے کہ ویسے بھی چولہے کے پاس جھلسن رہتی ہے۔

راحت کی حرکتیں بڑھنے لگتی ہے اور وہ وحیدہ کا ہاتھ پکڑتا ہے جس سے چوڑیاں توٹ جاتی ہے۔ جب وہ اپنی بی اماں سے شکایت کرتی ہے تو وہ کہتی ہے کہ کیاہوا موم کی بنی ہوئی ہو ذرا ہاتھ لگایا اور پگھل گئیں۔ خیر تو بھی چوتھی میں بدلہ لیجیو کسر نکالیو کہ یاد کریں میاجی۔

منہ بولی بہن آکر اسے بہنوئیوںسے چھیڑ چھاڑ کرنے کے ہتھکنڈے بتانے لگتی۔ چھ مہینے تک کھانے کھلانے کے بعد بھی جب راحت شادی کی بات نہیں کرتا تو بی آپا حمیدہ کو مولوی صاحب کا دم کیا ہوا ملیدہ دیتی ہے تاکہ وہ راحت کو کھلائے۔

وحیدہ ملیدہ لے کر راحت کے پاس جاتی ہے۔ راحت سے کہتی ہے کہ یہ ملیدہ ہے۔ راحت منہ کھول دیتا ہے۔ وہ منہ میں نیاز کا ملیدہ ڈالنے کے لےے آگے بڑھتی ہے۔راحت اسے دبوچ لیتا ہے اور وحیدہ کی عزت کو تار تار کردیتا ہے۔ راحت کی واپسی کے بعدگھر کا نقشہ عصمت چغتائی نے وحیدہ کی زبانی اس طرح کھینچا ہے:

”صبح کی گاڑی سے راحت مہمان نوازی کا شکریہ ادا کرتا ہوا روانہ ہوگیا۔ اس کی شادی کی تاریخ طے ہوچکی تھی اور اسے جلدی تھی اس کے بعد اس گھر میں انڈے نہ تلے گئے، پراٹھے نہ پکے اور سوئٹر نہ بنے گئے۔ دق جو ایک عرصہ سے بی آپا کی تاک میں بھاگی بھاگی پیچھے آرہی تھی ایک ہی جست میں انھیں دبوچ بیتھی اور انھوں نے جھکا کر اپنا نامراد وجود اس کی آغوش میں سونپ دیا۔ “

بی اماں جو اپنی بیٹی کبریٰ کی شادی کا ارمان دل میں لئے چوتھی کا جوڑا تیار کرتی ہے وہ اسی لڑکی کے لےے کفن تیار کرتی ہے۔ افسانے کے آخر میں عصمت چغتائی نے اس مسئلہ کی انسانوں ضمیروں کو جھنجھوڑتے ہوئے لکھا ہے:

”کفن کے لٹھے کی کان نکال کر انھوں نے چوہراتہہ کیا اور ان کے دل میں ان گنت قینچیاں چل گئیں۔ آن ان کے چہرے پر بھیانک سکون اور موت بھرا اطمینان تھا۔ جیسے انھیں پکا یقین ہو کہ اور جوڑوں کی طرح یہ چوتھی کا جوڑا سینتا نہ جائے گا۔ “[4]

عصمت چغتائی نے اپنے افسانوں میں بہت سارے مسائل کو اجاگر کیا ہے۔ جذبات نگاری، مکالمہ نگاری، منظر نگاری کے بہترین نمونے ان کے افسانوں میں نظر آتے ہیں۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ http://www.imdb.com/name/nm0161032/
  2. ^ http://www.imdb.com/name/nm0161032/?ref_=ttfc_fc_wr3
  3. ^ یہ مضمون محمد کلیم محی الدین کا ہے جو روزنامہ منصف کے آءینہ ادب جمعرات کے ایڈیشن میں شاءع ہوا ہے۔
  4. ^ یہ اقتباسات عصمت چغتائی کے مشہور افسانہ ٰٰٰٰچوتھی کا جوڑا ، سے لیے گیے ہیں۔