علاء الدین خلجی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
علی گرشاسپ خلجی
سلطان علاء الدین خلجی
Sultan-Allahudeen-Gherzai.jpg
عہد حکومت 1296–1316
تاج پوشی 1296، دہلی
مدفن دہلی، ہندوستان
پیشرو جلال الدین فیروز خلجی
جانشین قطب الدین مبارک شاہ
شاہی گھرانہ خلجی خاندان


علاء الدین خلجی کا پیدائشی نام علی گرشاسپ خلجی تھا اور وہ ہندوستان میں خلجی خاندان کے دوسرے سلطان تھے- وہ خلجی خاندان کے سب سے طاقتور سلطان تسلیم کیے جاتے ہیں۔

قیمتوں پر کنٹرول[ترمیم]

علاء الدین خلجی کے زمانے میں منگولوں کے حملے کا شدید خطرہ تھا اور اس وجہ سے علاء الدین خلجی کو ایک بڑی فوج کی اشد ضرورت تھی۔ فوجی اخراجات کو قابو میں رکھنے کے لیئے اس نے بازار میں ہر چیز کی قیمت مقرر کر دی اور اور اس پر سختی سے عمل کروایا۔ اس زمانے کے روپے کو تنکہ کہتے تھے اور وزن کے اعتبار سے ایک تنکہ ایک روپے کے بالکل برابر ہوتا تھا یعنی 96 رتی کا ہوتا تھا۔ ایک تنکہ تانبے کے بنے 50 جتال کے برابر ہوتا تھا۔ روزمرہ استعمال کی چیزیں سستی ہونے سے لوگ خوشحال ہو گئے اور علاء الدین خلجی کے مرنے کے بعد بھی عرصہ تک اس کے عہد کو یاد کیا کرتے تھے۔ علاء الدین خلجی نے دلال (middle man) کا کردار بالکل ختم کر دیا تھا اور ذخیرہ اندوزی کی سخت ترین سزا مقرر کی تھی۔ جاسوسی کاایک ایسا نظام مرتب کیا تھا کہ بادشاہ کو منڈی کی خبریں براہ راست پہنچائی جاتی تھیں۔

شئے قیمت
گندم دیڑھ روپے میں دس من
جو ایک روپیے میں ساڑھے بارہ من
چنا ایک روپے میں دس من
چاول ایک روپے میں دس من
ماش ایک روپے میں دس من
دالیں ایک روپے میں دس من
چینی ایک روپے میں 38.5سیر
گڑ ایک روپے میں 166 سیر
گھی/مکھن ایک روپے میں 125 سیر
تل ایک روپے میں 150 سیر
عمدہ سوتی کپڑا ایک روپے میں 20 گز
کھدر کپڑا ایک روپے میں 40 گز
چادر ایک روپے میں پانچ
بہترین گھوڑا 100 سے 120 روپے تک
درمیانی گھوڑا 80 سے 90 روپے تک
عام گھوڑا 65 سے 70 روپے تک
گھوڑے کا بچہ 10 سے 25 روپے تک
عمدہ بیل 4 سے 5 روپے تک
گائے گوشت کے لیئے 1.5 سے 2 روپے تک
دودھ دینے والی گائے 3 سے 4 روپے
بھینسا گوشت کے لیئے 5 سے 6 روپے
بھینس دودھ دینے والی 10 سے 12 روپے
بکری روپے میں چار سے پانچ تک
کنیز۔ کام کرنے والی 5 سے 12 روپے
خوش شکل کنیز 20 سے 40 روپے
غلام لڑکا 20 سے 30 روپے

[1]


نگار خانہ[ترمیم]

مزید دیکھیئے[ترمیم]

حوالے[ترمیم]

  1. ^ [1]