غلام احمد پرویز

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

علامہ غلام احمد پرویز ، (1903-1985)

تعارف[ترمیم]

بیسویں صدی کے ایک ممتاز سکالر تھے.جو روشن خیال ہونے کی بنا پر بعض حلقوں کے نزدیک متنازعہ بن گئے اور آیت قرآنی کو عقل یعنی سائنس سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش میں بعض دینی حلقوں کی جانب سے معتوب ہوئے۔

پیدائش[ترمیم]

غلام احمد پرویز 9 جولائی 1903 میں پنجاب کی بھارتی حصے میں ایک شہر بٹالہ ،ضلع گورداس پور میں پیدا ہوے تھے۔

ابتدائی حالات[ترمیم]

گورداس پوراُس وقت اسلامی تعلیم فلسفہ اور تہذیب کا ایک بہت اہم مرکز تھا جہاں پر ان کے دادا حکیم مولوی رحیم بخش حنفی مسلک کے ایک عالم اور سلسلہ چشتیہ نظامیہ کے ممتاز بزرگ تھے ۔ انہوں نے بی اے تک تعلیم حاصل کی اور 1927ء میں وہ وسطی بھارت کی حکومت کے سیکرٹریٹ میں شامل ہوئے اور ابتدائی دور میں سیکشن ، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن میں کام کیا. اسی دور میں انہوں نے علامہ محمد اقبال سے ملاقات کی جو بعد میں مرشد اور مرید کا روپ دھار گئی۔ان کو اسلم جے راج پوری کے تلمنذ ہونے کا بھی شرف حاصل ہوا ۔

طلوع اسلام[ترمیم]

بہت عرصے سے علامہ اقبال کی خواہش تھی کہ مسلم لیگ مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے ایک رسالہ ہونا ضروری ہے۔ اس حوالے سے انہوں نے اپنے دوست سید نذیر نیازی سے بات کی جو اُن کے پاس اکثر آتے تھے۔ انہوں نے علامہ اقبال کے کہنے پر طلوع اسلام رسالہ نکالا[1] جس کا نام اقبال کی ایک نظم طلوع اسلام پر رکھا گیا۔اس کا پہلا ایڈیشن بھی اقبال کے ہی نام کیا گیا،
اس کے بعد رسالے کی ذمہ داری غلام احمد پرویز نے سنبھال لی[2].جو اس کے پہلے اس کے لیے کافی مضامین لکھ چکے تھے۔غلام احمد پرویز اقبال سے کافی متاثر تھے، اس لیے رسالے پر ہر ماہ اُن کی تصویر لگا دیتے تھے۔ اسکے بعد انہوں نے ایک تحریک ہی طلوع اسلام کے نام سے شروع کر دی۔یہ رسالہ ابھی ادارہ طلوع اسلام کی طرف سے شائع ہوتا ہے۔ 1955 میں غلام احمد پرویز اسسٹنٹ سیکریٹری کے طور پر ریٹائرمنٹ لے لی تا کہ دینی کام پر زیادہ توجہ دیں اور طلوع اسلام کے نام سے ہی ادارہ بنا کر کام شروع کر دیا۔

نظریات[ترمیم]

  1. اسلام حکومت کی ایک شکل ہے ، جمہوریت پسند حکومت کا ایک ایسا نظام ہے جو سوشلزم پر مبنی ہے، اسلام کے مطابق اور قرآن کے مطابق خوراک اور مال و دولت سب کو یکساں طور پر تقسیم کیا جائے گا، جس کے پاس جو زائد ہے وہ لے لو۔
  2. اسلام مذہبی اور وہمی عقائد (مثلا جن اور فرشتوں پر ایمان ) کا مذہب نہیں تھا ،بلکہ منظم مذہب کے ادارے کے لئے ایک چیلنج تھا.مزید یہ بھی کہا کہ تاریخ اسلام میں بادشاہوں نے اپنے ذاتی مفادات کے لئے اسلام بدل دیا۔
  3. خارق عادت واقعات یعنی معجزے اور کرامت پر یقین نہیں کرتے تھے۔ اس لیے پیدائش آدم، پیدائش مسیح، عصائے موسی سے بارہ چشمے نکلنا سانپ بننا سمندر کا شق ہونا، معجزات محمدیہ (جن کی تعداد علما نے دو ہزار سے زائد بتائی ہے) وغیرہ کی تاویل کرتے تھے یا انکار کرتے تھے۔
  4. تمام صحیح احادیث جن کی صحت پر اگرچہ اجماع ہو کو درست نہیں مانتے تھے۔صرف انہی احادیث کو درست مانتے تھے جو انکی رائے کے مطابق قرآن کی تعلیمات کے مطابق ہوں۔
  5. اللہ اور رسول کی تاویل حکومت وقت یا حاکم وقت سے کرتے تھے اور انہیں مجمع علیہ قوانین میں تبدیلی کا مجاز مانتے تھے۔ روایات کوصحابہ کے دور کی شریعت مانتے تھے جو کہ ہمیشہ کیلئے قابل عمل نہیں بلکہ ہر دور کے لحاظ سے نئی شریعت بنانے کے قائل تھے۔
  6. جن آدم علیہ السلام کو جنت سے نکالا گیا ، اور جو نبی تھے، اور جو بنی نوع انسان کے ابا ہیں تینوں کو تین مختلف مخلوقات یا اشیا مانتے تھے۔
  7. نماز روزے حج وغیرہ کی اصل ان عبادات کو نہیں مانتے تھے جو مسلمانوں میں مشھور اور معمول بہا ہیں بلکہ انہیں کچھ معاشرتی اصلاحات سے جوڑتے تھے اور نماز روزے کی موجودہ شکل کو بعد کی اختراع مانتے تھے۔

وفات[ترمیم]

4 فروری 1985ء کو لاہور میں وفات پائی ۔

تصانیف[ترمیم]

ان کی سب سے زیادہ مشہور کتب درج ذیل ہیں:

  1. معارف القرآن
  2. مفہوم القرآن‘ (تین جلدوں میں)
  3. مطالب القرآن
  4. مقام حدیث
  5. معراج انسانیت
  6. انسان نے کیا سوچا
  7. اسلام کیا ہے؟
  8. شعلہٴ مستور
  9. کتاب التقدیر
  10. شاہکار رسالت

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ http://www.tolueislam.com/Urdu/mag/1935/1935_Oct.djvu
  2. ^ http://www.tolueislam.com/Urdu/urdu.htm


بیرونی روابط[ترمیم]

غلام احمد پرویز کی تصانیف

Incomplete-document-purple.svg یہ ایک نامکمل مضمون ہے۔ آپ اس میں اضافہ کرکے ویکیپیڈیا کی مدد کر سکتے ہیں۔