علامہ مشرقی عنایت اللہ خاں

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(علامہ مشرقی سے رجوع مکرر)
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
علامہ مشرقی، خاکسار کے روپ میں

خاکسار تحریک کے بانی۔ امرتسر میں پیدا ہوئے تھے۔ فارمن کرسچین کالج لاہور سے بی اے اور پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے ریاضی کیا۔ 1909ء مِن جامعہ کیمبرج سے ریاضہ کا امتحان دیا اور جامعہ بھر میں اول رہے۔ آپ نے صرف چار سال میں ٹرائی پوس کے تین امتحانات (ریاضی، عربی اور فارسی) میں امتیازی کامیابی حاصل کی۔ 1912ء میں انجینئرنگ کا اعلی امتحان (مکینیکل سائنس ٹرائی پوس) پاس کیا۔ علامہ صاحب 1913ء میں انگلستان سے ہندوستان واپس تشریف لائے۔ اور اسلامیہ کالج پشاور میں پرنسپل مقرر ہوئے۔ انھیں سر کا خطاب دیا گیا جسے انھوں نے ٹھکرا دیا۔ اس اعزاز کو ٹھکرانے کی وجہ یہ تھی کہ انہیں کابل کی سفارت پیش کی جارہی تھے اور 1931ء تک مختلف عہدوں پر کام کیا۔ 1931ء تک تحریک خاکسار کی بنیاد رکھی۔ جو ایک نیم فوجی جماعت تھی۔ جلد ہی اس نے ملک گیر شکل اختیار کر لی۔ مارچ 1940ء میں کافی خون خرابے کے بعد حکومت ن اسے کالعدم قرار دے دیا۔ آزادی کے بعد یہ جماعت بحال ہوئی۔

ادبی خدمات [ترمیم]

علامہ مشرقی بلند پایہ انشاپرداز، فلسفی ، مورخ تھے۔ تذکرہ، خریطہ، اشارات قول فیصل، مولوی کا غلط مذہب، حدیث القران، تین شعری مجموعے، حریم غیب، دہ الباب اور ارمغان حکیم آپ کی مشہور تصانیف ہیں۔ انتقال کے بعد ادارہ علیہ ہندیہ، اچھرہ لاہور میں دفن ہوئے۔ 1925ء میں جو انھوں کے قرآن کی تفسیر لکھی تھی اس کی بنا پر انھیں نوبل انعام کے لیے بھی نامزد کیا گیا۔

بیرونی روابط [ترمیم]