علی ابن حسین

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
زین العابدین
مکمل نام علی ابن حسین
ترتیب چہارم
جانشین حضرت امام محمد باقر رضی الله تعالٰی عنه
تاریخ ولادت 15 جمادی الاول 38ھ
لقب زین العابدین، سجاد
کنیت ابو محمد
والد حسین رضی الله تعالٰی عنه
والدہ بی بی شہربانو
وجۂ وفات شہادت


حضرت علی ابن الحسین (15 جمادی الاول یا 15 جمادی الثانی 38ھ تا 25 محرم الحرام 95ھ) جو امام زین العابدین علیہ السلام کے نام سے مشہور ہیں، امام حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ کے وہ فرزند تھے جو واقعۂ کربلا میں زندہ بچ گئے تھے اور انہیں قیدیوں کے قافلے اور شہیدوں کے سروں کے ساتھ دمشق لے جا کر یزید کے دربار لے جایا گیا تھا۔ آپ کی والدہ کا نام شہر بانو تھا جو ایران کے بادشاہ یزدگرد سوم کی بیٹی تھیں جو نوشیروان عادل کا پوتا تھا۔ آپ کے مشہور القاب میں زین العابدین اور سیدِ سجاد شامل ہیں۔

ولادت با سعادت[ترمیم]

آپ کی ولادت بعض روایات کے مطابق 15 جمادی الاول اور بعض روایات کے مطابق 15 جمادی الثانی کو ہوئی جبکہ سالِ ولادت 38ھ تھا اور اس وقت ان کے دادا حضرت علیرضی الله تعالٰی عنه مسلمانوں کے خلیفہ تھے۔ آپ کا نام آپ کے دادا کے نام پر علی رکھا گیا جبکہ کنیت ابوالحسن اور ابوالقاسم رکھی گئی۔ ولادت کے چند دن بعد آپ کی والدہ کا انتقال ہو گیا جس کے بعد آپ کی خالہ گیہان بانو جو محمد بن ابی بکر کی زوجہ تھیں اور انہوں نے محمد بن ابی بکر کے انتقال کے بعد شادی نہیں کی تھی، نے آپ کی پرورش کی۔ دو سال کی عمر میں آپ کے دادا حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ تعالٰی عنہ کو شہید کر دیا گیا۔

زہد و تقوی[ترمیم]

آپ کا زہد و تقویٰ مشہور تھا۔ وضو کے وقت آپ کا رنگ زرد ہو جاتا تھا۔ پوچھا گیا تو فرمایا کہ میرا تصورِ کامل اپنے خالق و معبود کی طرف ہوتا ہے اور اس کے جلالت و رعب سے میری یہ حالت ہو جاتی ہے۔[1] نماز کی حالت یہ تھی کہ پاؤں کھڑے رہنے سے سوج جاتے اور پیشانی پر گٹھے پڑے ہوئے تھے اور رات جاگنے کی وجہ سے رنگ زرد رہتا تھا۔[2] علامہ ابن طلحہ شافعی کے مطابق نماز کے وقت آپ کا جسم لرزہ براندام ہوتا تھا۔[3]۔ سجدوں کی کثرت سے آپ کا نام سید الساجدین اور سجاد پڑ گیا تھا۔ علامہ ابن حجر مکی نے لکھا کہ ایک دفعہ کسی شخص نے آپ کے سامنے آپ کی برائی کی مگر آپ خاموش رہے تو اس شخص نے کہا کہ اے علی ابن الحسین میں آپ سے مخاطب ہوں تو آپ نے فرمایا کہ میرے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جاہلوں کی بات کی پروا نہ کرو اور میں اس پر عمل کر رہا ہوں۔ [4] ایک شامی نے حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کو آپ کے سامنے گالیاں دیں تو آپ نے فرمایا کہ اے شخص تو مسافر معلوم ہوتا ہے اگر کوئی حاجت ہے تو بتا۔ اس پر وہ شخص سخت شرمندہ ہو کر چلا گیا۔

شادی اور اولاد[ترمیم]

آپ کی شادی 57ھ میں آپ کے چچا حضرت حسن بن علی بن ابو طالب کی بیٹی حضرت فاطمہ سے ہوئی۔ آپ کے گیارہ لڑکے اور چار لڑکیاں پیدا ہوئیں۔ جن میں سے حضرت امام محمد باقر رضی الله تعالٰی عنه اور حضرت زید شہید مشہور ہیں۔


واقعہ کربلا[ترمیم]

واقعۂ کربلا محرم 61ھ بمطابق اکتوبر 689ء کو پیش آیا۔ 28 رجب 60ھ کو آپ اپنے والد حضرت حسین ابن علی کے ہمراہ مدینہ سے مکہ آئے اور پھر چار ماہ بعد 2 محرم 61ھ کو کربلا آئے۔ کربلا آنے کے بعد آپ انتہائی بیمار ہو گئے یہاں تک کہ 10 محرم کو غشی کی حالت طاری تھی اس لیے اس قابل نہ تھے کہ میدان میں جا کر درجہ شہادت پر فائز ہوتے۔ 10 محرم کی شام کو تمام خیموں کو آگ لگا دی گئی اور آپ کو آپ کی پھوپھی حضرت زینب بنت علی سلام اللہ علیہا نے سنبھالا۔ 11 محرم کو آپ کو اونٹ کے ساتھ باندھ کر اور لوہے کی زنجیروں میں جکڑ کر پہلے کوفہ اور بعد میں دمشق روانہ کیا گیا۔ تمام شہداء بشمول امام حسین رضی الله تعالٰی عنه کے سر نیزوں کی نوکوں پر ساتھ روانہ کیے گیے۔ خاندانِ رسالت کا یہ قافلہ 16 ربیع الاول 61ھ کو دمشق پہنچا اور دربارِ یزید میں رسیوں اور زنجیروں میں بندھا ہوا پیش کیا گیا۔ ایک سال کی قید کے بعد آپ 8 ریبع الاول 62ھ کو مدینہ واپس آئے اور تمام عمر خاندانِ رسالت کی شہادت پر گریہ کناں رہے۔ ان کی پھپھی اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نواسی حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے تمام بال سفید ہو گئے تھے اور خود ان کی حالت اچھی نہ تھی۔ آپ سے جب پوچھا جاتا کہ آپ کو سب سے زیادہ مصیبت کا سامنا کہاں کرنا پڑا تو آپ فرماتے 'الشام الشام الشام' (دمشق کو الشام کہا جاتا تھا)۔ آپ کو اس بات کس شدید دکھ تھا کہ آپ کی پھپھی اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نواسی حضرت زینب سلام اللہ علیہا کو ننگے سر یزید جیسے فاسق کے دربار میں کھڑا ہونا پڑا۔[5][6] اہلِ مدینہ نے اس کے بعد یزید کی بیعت توڑ دی اور اس کے خلاف بغاوت کر دی۔

خطبات[ترمیم]

آپ کے بعض خطبات بہت مشہور ہیں۔ واقعہ کربلا کے بعد کوفہ میں آپ نے پہلے خدا کی حمد و ثنا اور حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ذکر و درود کے بعد کہا کہ 'اے لوگو جو مجھے پہچانتا ہے وہ تو پہچانتا ہے جو نہیں پہچانتا وہ پہچان لے کہ میں علی ابن الحسین ابن علی ابن ابی طالب ہوں۔ میں اس کا فرزند ہوں جس کی بے حرمتی کی گئی جس کا سامان لوٹ لیا گیا۔جس کے اہل و عیال قید کر دیے گئے۔ میں اس کا فرزند ہوں جسے ساحلِ فرات پر ذبح کر دیا گیا اور بغیر کفن و دفن کے چھوڑ دیا گیا۔ اور شہادتِ حسین ہمارے فخر کے لیے کافی ہے ۔ ۔ ۔' ۔
دمشق میں یزید کے دربار میں آپ نے جو مشہور خطبہ دیا اس کا ایک حصہ یوں ہے:

۔ ۔ ۔ میں پسرِ زمزم و صفا ہوں، میں فرزندِ فاطمہ الزہرا ہوں، میں اس کا فرزند ہوں جسے پسِ گردن ذبح کیا گیا۔ ۔ ۔ ۔ میں اس کا فرزند ہوں جس کا سر نوکِ نیزہ پر بلند کیا گیا۔ ۔ ۔ ۔ہمارے دوست روزِ قیامت سیر و سیراب ہوں گے اور ہمارے دشمن روزِ قیامت بد بختی میں ہوں گے۔ ۔ ۔[7] [8] [9] [10]

یہ خطبہ سن کر لوگوں نے رونا اور شور مچانا شروع کیا تو یزید گھبرا گیا کہ کوئی فتنہ نہ کھڑا ہو جائے چنانچہ اس نے مؤذن کو کہا کہ اذان دے کہ امام خاموش ہو جائیں۔ اذان شروع ہوئی تو حضرت علی ابن الحسین خاموش ہو گئے۔ جب مؤذن نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رسالت کی گواہی دی تو حضرت علی ابن الحسین رو پڑے اور کہا کہ اے یزید تو بتا کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تیرے نانا تھے یا میرے؟ یزید نے کہا کہ آپ کے تو حضرت علی ابن الحسین نے فرمایا کہ 'پھر کیوں تو نے ان کے اہل بیت کو شہید کیا'۔ یہ سن کر یزید یہ کہتا ہوا چلا گیا کہ مجھے نماز سے کوئی واسطہ نہیں۔[11] اسی طرح آپ کا ایک اور خطبہ بھی مشہور ہے جو آپ نے مدینہ واپس آنے کے بعد دیا۔

روضہ رسول پر فریاد[ترمیم]

آپ ربیع الاول 62ھ کو مدینہ واپس پہنچے۔ روضۂ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر پہنچے تو قبر مطہر پر گال رگڑ کر چند اشعار پڑھ کر فریاد پیش کی جن کا ترجمہ یوں ہے:
میں آپ سے فریاد کرتا ہوں اے نانا۔ اے تمام رسولوں میں سب سے بہتر آپ کا محبوب 'حسین' شہید کر دیا گیا اور آپ کی نسل تباہ و برباد کر دی گئی۔ اے نانا میں رنج و غم کا مارا آپ سے فریاد کرتا ہوں کہ مجھے قید کیا گیا اور میرا کوئی حامی اور مدافعت کرنے والا نہ تھا۔ اے نانا ہم سب کو اس طرح قید کیا گیا جیسے لاوارث کنیزوں کو قید کیا جاتا ہے۔ اے نانا ہم پر اتنے مصائب ڈھائے گئے جن کو انگلیوں پر گنا نہیں جا سکتا۔

واقعہ حرہ[ترمیم]

مزید تفصیل کے لیے دیکھیں: واقعۂ حرہ

واقعۂ کربلا کے بعد دوسرا بڑا سانحہ مدینہ پر شامی افواج کی چڑھائی تھی جس میں انہیں کامیابی حاصل ہوئی اور مدینہ میں قتل عام کیا گیا۔ یہ افسوسناک واقعہ 63ھ میں پیش آیا اور واقعۂ حرہ کہلاتا ہے۔ مدینہ والوں نے یزید کے خلاف بغاوت کر کے اس کے گورنر کو معطل کر دیا۔ یزید نے مسلم بن عقبہ کو جو اپنی سفاکی کے لیے مشہور تھا اہلِ مدینہ کی سرکوبی کے لیے روانہ کیا۔ اس کی بھیجی ہوئی افواج نے دس ہزار سے زائد افراد کو شہید کیا۔ خواتین کی بے حرمتی کی گئی اور تین دن تک مسجد نبوی میں نماز نہ ہو سکی۔[12] تمام لوگوں سے یزید کی زبردستی بیعت لی گئی اور جس نے انکار کیا اس کا سر قلم کیا گیا۔ صرف دو آدمیوں سے بیعت طلب کرنے کی جرات نہ کی گئی جو حضرت علی ابن الحسین اور حضرت عبداللہ ابن عباس تھے۔[13] اس واقعہ کے وقت مروان بن حکم جو اہلِ بیت کا مشہور دشمن تھا اس کو خطرہ محسوس ہوا لیکن اس کو اور اس کے اہل خانہ کو کسی نے پناہ نہ دی مگر وہ ایک کوشش کے لیے حضرت علی ابن الحسین کے پاس آیا اور پناہ طلب کی تو آپ نے یہ خیال کیے بغیر کہ اس نے واقعہ کربلا کے سلسلے میں کھلی دشمنی دکھائی تھی اسے اور اس کے اہل خانہ کو پناہ دی اور اس کو بچوں کو اپنے بچوں اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی بیٹی عائشہ کے ہمراہ 'منبع' کے مقام پر بھیج دیا اور مکمل حفاظت کی۔[14] مسلم بن عقبہ جو اس فوج کا سالار تھا جس نے مدینہ کو تباہ و برباد کیا، اس نے خاندانِ رسالت بشمول حضرت علی ابن الحسین کی خوب کھل کر برائیاں کیں مگر جب حضرت علی ابن الحسین کا سامنا ہوا تو ادب سے کھڑا ہو گیا۔ جب اس سے پوچھا گیا تو اس نے کہا کہ میں نے قصداً ایسا نہیں کیا بلکہ ان کے رعب و جلال کی وجہ سے مجبوراً ایسا کیا۔ [15]

عبد الملک ابن مروان اور حجاج ابن یوسف کا دور[ترمیم]

مروان ابن الحکم کے مرنے کے بعد 65ھ میں عبدالملک بن مروان تخت نشین ہوا۔ اس نے حجاج بن یوسف کو حجاز کا گورنر بنا دیا کیونکہ حجاج نے عبداللہ بن زبیر کو قتل کر کے حجاز پر قبضہ کیا تھا۔ حجاج نے کعبہ پر سنگ باری کی تھی اور اسے تباہ کر دیا تھا حتی کہ اس کی دوبارہ تعمیر کی ضرورت پیش آئی۔ اس وقت عبدالملک بن مروان نے حجاج بن یوسف کو حکم دیا تھا کہ حضرت علی ابن الحسین کو گرفتار کر کے شام پہنچا دیا جائے چنانچہ اس نے انہیں زنجیروں سے باندھ کر مدینہ سے باہر ایک خیمہ میں رکھوایا۔ علامہ ابن حجر مکی کے مطابق عبدالملک بن مروان کو کچھ لوگوں نے سمجھایا کہ حضرت علی ابن الحسین خلافت سے کوئی غرض نہیں رکھتے اس لیے انہیں نہ چھیڑا جائے۔ عبدالملک بن مروان نے حجاج کو پیغام دیا کہ بنی ہاشم کو ستانے اور ان کا خون بہانے سے پرہیز و اجتناب کرو کیونکہ بنی امیہ کے اکثر بادشاہ انہیں ستا کر جلد تباہ ہو گئے۔ اس کے بعد انہیں حجاج نے چھوڑ دیا اور عبدالملک بن مروان کی زندگی میں زیادہ تنگ نہ کیا گیا۔ [16] جب حجاج نے کعبہ کو تباہ کیا اور اس کی دوبارہ تعمیر ہوئی تو حجر اسود کو نصب کرنے کا مسئلہ ہوا کیونکہ جو کوئی بھی اسے نصب کرنا چاہتا تھا تو حجر اسود متزلزل اور مضطرب رہتا اور اپنے مقام پر نہ ٹھہرتا۔ بالآخر حضرت علی ابن الحسین زین العابدین نے اسے بسم اللہ پڑھ کر نصب کیا تو بخوبی نصب ہو گیا۔ [17]

شہادت امام زین العابدین[ترمیم]

اگرچہ آپ گوشہ نشین تھے اور خلافت کی خواہش نہ رکھتے تھے مگر حکمرانوں کو ان کے روحانی اقتدار سے بھی خطرہ تھا اور خوف تھا کہ کہیں وہ خروج نہ کریں۔ چنانچہ ولید بن عبدالملک نے 95ھ میں آپ کو زہر دے دیا اور آپ 25 محرم الحرام 95ھ بمطابق 714ء کو درجۂ شہادت پر فائز ہو گئے۔[18]آپ کی تدفین جنت البقیع میں کی گئی۔ آپ کی شہادت کے بعد آپ کا ایک اونٹ آپ کی قبر پر فریاد کرتا رہا اور تین روز میں مر گیا۔ [19]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ مطالب السؤل از علامہ محمد ابن طلحہ شافعی صفحہ 262
  2. ^ اعلام الوریٰ صفحہ 153
  3. ^ مطالب السؤل از علامہ محمد ابن طلحہ شافعی
  4. ^ صواعق المحرقہ از علامہ ابن حجر مکی
  5. ^ جلا العیون صفحہ 256
  6. ^ مقتل ابی مخنف صفحہ 135
  7. ^ مقتل ابی مخنف صفحہ 135 ۔ 136
  8. ^ بحار الانوار جلد 10
  9. ^ ریاض القدس جلد 2 صفحہ 328
  10. ^ روضۃ الاحباب
  11. ^ مقتل ابی مخنف صفحہ 135 ۔ 136
  12. ^ ابن کثیر، تاریخ الخلفاء
  13. ^ تاریخ الکامل جلد 4
  14. ^ تاریخ الکامل جلد 4 صفحہ 45
  15. ^ مروج الذہب از مسعودی
  16. ^ صواعق المحرقہ از علامہ ابن حجر المکی
  17. ^ کتاب الخرائج والجرائح از علامہ اقطب راوندی
  18. ^ صواعق المحرقہ از علامہ ابن حجر المکی صفحہ 120
  19. ^ شواہد النبوۃ صفحہ 179