علی علیہ السلام
وکیپیڈیا سے
-
علی نام کے دیگر افراد کیلیے دیکھیے علی (ضد ابہام).
| روضۂ علی | |
| مکمل نام | علی ابن ابی طالب |
|---|---|
| ترتیب | اول |
| جانشین | حسن علیہ السلام |
| تاریخ ولادت | جمعہ، 13 رجب، 22 قبل ہجری |
| جائے ولادت | خانۂ کعبہ، مکہ مکرمہ |
| لقب | ابو تراب |
| کنیت | ابو الحسن |
| والد | ابو طالب ابن عبد المطلب |
| والدہ | فاطمہ بنت اسد |
| تاریخ وفات | 21 رمضان، 40 ہجری |
| جائے وفات | نجف، عراق |
| وجۂ وفات | شہادت |
حضرت علی کرم اللہ وجہہ (599 – 661) رجب کی تیرہ تاریخ کو شہر مکہ میں خانہ کعبہ میں پیدا ہوۓ ۔ آپ کے والد کا نام ابوطالب اور والدہ کا نام فاطمہ بنت اسد ہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے چچا زاد بھائی ہیں بچپن میں پیغمبر کے گھر آۓ اور وہیں پرورش پائی ۔ پیغمبر کی زیر نگرانی آپ کی تربیت ہوئی ۔حضرت علی کرم اللہ وجہہ پہلے مرد تھے جنہوں نے اسلام کا اظہار کیا ۔ آپ کی عمر اس وقت تقریبا دس یا گیارہ سال تھی
فاطمہ علیہا السلام اور علی کرم اللہ وجہہ کی زندگی گھریلو زندگی کا ایک بے مثال نمونہ تھی مرد اور عورت اپس میں کس طرح ایک دوسرے کے شریک ُ حیات ثابت ہوسکتے ہیں . اپس میں کس طرح تقسیم عمل ہونا چاہیے اور کیوںکر دونوں کی زندگی ایک دوسے کے لیے مددگار ہوسکتی ہے , وہ گھر دنیا کی ارائشوں سے دور , راحت طلبی اور تن اسانی سے بالکل علیحدہ تھا , محنت اور مشقت کے ساتھ ساتھ دلی اطمینان اور اپس کی محبت واعتماد کے لحاظ سے ایک جنت بناہوا تھا , جہاں سے علی کرم اللہ وجہہ صبح کو مشکیزہ لے کر جاتے تھے اوریہودیوں کے باغ میں پانی دیتے تھے او جو کچھ مزدوری ملتی تھی اسے لا کر گھر پر اتے تھے .بازار سے جو خرید کر فاطمہ علیہا السلام کو دیتے تھے اور فاطمہ چکی پیستی , کھانا پکاتی او رگھر میںجھاڑودیتی تھیں , فرصت کے اوقات میںچرخہ چلاتی تھیں اور خود اپنے اور اپنے گھر والوں کو لباس کے لیے اور کبھی مزدوری کے طور پر سوت کاتتی تھیں اور اس طرح گھر میں رہ کر زندگی کی مہم میں اپنے شوہر کاہاتھ بٹاتی تھیں .
فہرست |
[ترمیم] جہاد
مدینہ میں آکر پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو مخالف گروہ نے آرام سے بیٹھنے نہ دیا . آپ کے وہ پیرو جو مکہ میں تھے انھیں طرح طرح کی تکلیفیں دی جانے لگیں بعض کو قتل کیا . بعض کو قید کیا اور بعض کو زد وکوب کیااور تکلیفیں پہنچائیں .پہلے ابو جہل اور غزوہ بدر کے بعد ابوسفیان کی قیادت میں مشرکینِ مکہ نے جنگی تیاریاں کیں یہی نہیں بلکہ اسلحہ اور فوج جمع کر کے خود رسول کے خلاف مدینہ پر چڑھائی کردی , اس موقع پر رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا اخلاقی فرض تھا کہ وہ مدینہ والوں کے گھروں کی حفاظت کرتے جنھوںنے کہ آپ کوانتہائی ناگوار حالات میں پنا ہ دی تھی اور آپ کی نصرت وامداد کاوعدہ کیا تھا , آپ نے یہ کسی طرح پسند نہ کیا آپ شہر کے اندرر کر مقابلہ کریں اور دشمن کو یہ موقع دیں کہ وہ مدینہ کی پر امن ابادی اور عورتوں اور بچوں کو بھی پریشان کرسکے. گو آپ کے ساتھ تعدادبہت کم تھی لیکن صرف تین سو تیرہ ادمی تھے , ہتھیار بھی نہ تھے مگر آپ نے یہ طے کرلیا کہ آپ باہر نکل کر دشمن سے مقابلہ کریں گے چنانچہ پہلی لڑائی اسلام کی ہوئی. جو غزوہ بدر کے نام سے مشہور ہے . اس لڑائی میں زیادہ رسول نے اپنے عزیزوں کو خطرے میں ڈالا چنانچہ آپ کے چچا زاد بھائی عبیدہ ابن حارث ابن عبدالمطلب اس جنگ میں شہید ہوئے . علی ابن ابو طالب کرم اللہ وجہہ کو جنگ کا یہ پہلا تجربہ تھا . 25 برس کی عمر تھی مگر جنگ کی فتح کا سہرا حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے سر رہا .جتنے مشرکین قتل ہوئے تھے ان میںسے آدھے مجاہدین کے ہاتھوں قتل ہوئے تھے اس کے بعد غزوہ احد، غزوہ خندق، غزوہ خیبر اور غزوہ حنین یہ وہ بڑی لڑائیاں ہیں جن میں حضرت علی علیہ السلام نے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ رہ کر اپنی بے نظیر بہادری کے جوہر دکھلائے . تقریباًان تمام لڑائیوں میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو علمداری کا عہدہ بھی حاصل رہا . اس کے علاوہ بہت سی لڑائیاں ایسی تھیں جن میں رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو تنہا بھیجا اورانھوںنے اکیلے ان تمام لڑائیوں میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے بڑی بہادری اور ثابت قدمی دکھائی اور انتہائی استقلال، تحمّل اور شرافت ُ نفس سے کام لیاجس کا اقرار خود ان کے دشمن بھی کرتے تھے۔ غزوہ خندق میں دشمن کے سب سے بڑے سورما عمر وبن عبدود کو جب آپ نے مغلوب کر لیااور اس کاسر کاٹنے کے لیے اس کے سینے پر بیٹھے تو اس نے آپ کے چہرے پر لعب دہن پھینک دیا . آپ کو غصہ آگیااور آپ اس کے سینے پر سے اتر ائے . صرف اس خیال سے کہ اگر غصّے میں اس کو قتل کی تو یہ عمل محض خدا کی راہ میں نہ ہوگا بلکہ خواہش نفس کے مطابق ہوگا۔ کچھ دیر کے بعد آپ نے اس کو قتل کیا , اس زمانے میں دشمن کو ذلیل کرنے کے لیے اس کی لاش برہنہ کردیتے تھے مگر حضرت علی علیہ السلام نے اس کی زرہ نہیں اُتاری اگرچہ وہ بہت قیمتی تھی . چناچہ اس کی بہن جب اپنے بھائی کی لاش پر ائی تو اس نے کہا کہ کسی اور نے میرے بھائی کوقتل کیا ہوتا تو میں عمر بھر روتی مگر مجھ یہ دیکھ کر صبر اگیا کہ اس کا قاتل حضرت علی کرم اللہ وجہہ سا شریف انسان ہے جس نے اپنے دشمن کی لاش کی توہین گوارا نہیں کی۔ آپ نے کبھی دشمن کی عورتوں یا بچّوں پر ہاتھ نہیں اٹھا یا اور کبھی مالِ غنیمت کی طرف رخ نہیں کیا۔
| مقالہ بہ سلسلۂ مضامین |
| عـقـائـد و اعـمـال |
| اہـم شـخـصـیـات |
|
محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم |
| کـتـب و قـوانـیـن |
| مسلم مکتبہ ہائے فکر |
| معاشرتی و سیاسی پہلو |
|
اسلامیات • فلسفہ |
| مزید دیکھیئے |
[ترمیم] خدمات
علاوہ جہاد کے اسلام اور پیغمبر اسلام کے لیے کسی کام کے کرنے میں آپ کو انکار نہ تھا۔ یہ کام مختلف طرح کے تھے رسول کی طرف سے عہد ناموں کا لکھنائ خطوط تحریر کرنا آپ کے ذمہ تھا اور لکھے ہوئے اجزائے قرآن کے امانتدار بھی آپ تھے- اس کے علاوہ یمن کی جانب تبلیغ اسلام کے ليے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے آپ کو روانہ کیا جس میں آپ کی کامیاب تبلیغ کا اثر یہ تھا کہ سارا یمن مسلمان ہو گیا جب سورہ براَت نازل ہوئی تو اس کی تبلیغ کے ليے بحکم خدا آپ ہی مقرر ہوئے اور آپ نے جا کر مشرکین کو سورئہ براَت کی آیتیں سنائیں- اس کے علاوہ رسالت مآب کی ہر خدمت انجام دینے پر تیار رہتے تھے- یہاں تک کہ یہ بھی دیکھا گیا کہ رسول کی جوتیاں اپنے ہاتھ سے سی رہے ہیں حضرت علی اسے اپنے ليے باعثِ فخر سمجھتے تھے۔
[ترمیم] اعزاز
حضرت علی علیہ السلام کی امتیازی صفات اور خدمات کی بنا پر رسول ان کی بہت عزت کرتے تھے او اپنے قول اور فعل سے ان کی خوبیوں کو ظاہر کرتے رہتے تھے کبھی یہ کہتے تھے کہ »علی مجھ سے ہیں اور میں علی سے ہوں« .کبھی یہ کہا کہ »میں علم کاشہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے .,, کبھی یہ کہا »تم سب میں بہترین فیصلہ کرنے والا علی ہے۔ کبھی یہ کہا»علی کومجھ سے وہ نسبت ہے جو ہارون کو موسیٰ علیہ السّلام سے تھی۔ کبھی یہ کہا»علی مجھ سے وہ تعلق رکھتے ہیں جو روح کو جسم سے یا سر کو بدن سے ہوتا ہے۔
کبھی یہ کہ»وہ خدا اور رسول کے سب سے زیادہ محبوب ہیں ,, یہاں تک کہ مباہلہ کے واقعہ میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو نفسِ رسول کاخطاب ملا. عملی اعزاز یہ تھا کہ مسجد میں سب کے دروازے بند ہوئے تو علی کرم اللہ وجہہ کا دروازہ کھلا رکھا گیا . جب مہاجرین وانصار میں بھائی چارہ کیا گیا تو علی علیہ السّلام کو پیغمبر نے اپنا دنیا واخرت میں بھائی قرار دیااور سب سے اخر میں غدیر خم کے میدان میں ہزاروں مسلمانوں کے مجمع میں حضرت علی کو اپنے ہاتھوں پر بلند کر کے یہ اعلان فرما دیا کہ جس طرح کاسرپرست اورحاکم ہوں اسی طرح علی سب کے سرپرست اور حاکم میں ہوں اسی طرح علی سب کے سرپرست اور حاکم ہیں یہ اتنا بڑا اعزاز ہے کہ تمام مسلمانوں نے حضرت علی کو مبارک باد دی اور سب نے سمجھ لیا کہ پیغمبر نے حضرت علی کی ولی عہدی اور جانشینی کااعلان کردیا ہے.
[ترمیم] بعدِ رسول
جس نے زندگی بھر پیغمبر کا ساتھ دیا وہ بعد رسول صلي الله عليه وسلم آپ کی لاش کو کس طرح چھوڑتا, چنانچہ رسول کی تجہیز وتکفین اور غسل وکفن کاتمام کام حضرت علی علیہ السلام ہی کے ہاتھوں ہوا اورقبر میں آپ ہی نے رسول کو اتارا , رسول کے دفن سے فرصت ہونے کے بعد یہ معلوم ہوا کہ اتنی دیر میں پیغمبر کی جانشینی کاانتظام ہوگیا ہے . اگر کوئی دوسرا انسان ہوتاتو جنگ آزمائی پر تیار ہوجاتا مگر حضرت علی کو اسلامی مفاد اتنا عزیز تھا کہ آپ نے اپنے حقوق کے اعلان کے باوجود اپنی طرف سے مسلمانوں میںخانہ جنگی پیدا نہیں ہونے دی , نہ صرف یہ کہ آپ نے معرکہ آرائی نہیں چاہی بلکہ جس وقت ضرورت پڑی , اس وقت اسلامی مفاد کی خاطر آپ نے امداد دینے سے دریغ بھی نہیں کیا , مشکل مسائل کے فیصلہ اور ضروری مشورہ ليے جانے پر اپنی مفید رائے کااظہار کیاا س سے کبھی پہلو نہیں بچایا . اس کے علاوہ بطور خود خاموشی کے ساتھ اسلام کی روحانی اور علمی خدمت میں مصروف رہے . قرآن کو ترتیب ُ نزول کے مطابق ناسخ ومنسوخ اور محکم اور متشابہ کی تشریح کے ساتھ مرتب کیا . مسلمانوں کے علمی طبقے میں تصنیف وتالیف کااور علمی تحقیق کاذوق پیدا کیااور خود بھی تفسیر اور کلام اور فقہ واحکام کے بارے میں ایک مفید علمی ذخیرہ فراہم کیا . بہت سے ایسے شاگرد تیار کئے جو مسلمانوں کی آئندہ علمی زندگی کیلئے معمار کاکام انجام دے سکیں , زبان عربی کی حفاظت کیلئے علم نحوکی داغ بیل ڈالی اور فن صرف اور معانی بیان کے اصول کو بھی بیان کیا اس طرح یہ سبق دیا کہ اگر ہوائے زمانہ مخالف بھی ہوا اور اقتدار نہ بھی تسلیم کیا جائے تو انسان کو گوشہ نشینی اور کسمپرسی میں بھی اپنے فرائض کو فراموش نہ کرنا چاہیے . ذاتی اعزاز اور منصب کی خاطر مفادملّی کو نقصان نہ پہنچایا جائے اور جہاں تک ممکن ہو انسان اپنی ملّت , قوم اور مذہب کی خدمت ہر حال میں کرتا رہے .
[ترمیم] خلافت
پچیس برس تک رسول کے بعد حضرت علی نے خانہ نشینی میں بسر کی 35ھ میں مسلمانوں نے خلافت ُ اسلامی کامنصب حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے سامنے پیش کیا . آپ نے پہلے انکار کیا , لیکن جب مسلمانوں کااصرار بہت بڑھ گیا تو آپ نے اس شرط سے منظو رکیا کہ میں بالکل قران اور سنت ُ پیغمبر کے مطابق حکومت کروں گا اور کسی رورعایت سے کام نہ لوں گا . مسلمانوں نے اس شرط کو منظور کیا اور آپ نے خلافت کی ذمہ داری قبول کی- مگر زمانہ آپ کی خالص مذہبی سلطنت کو برداشت نہ کرسکا , آپ کے خلاف بنی امیہ اور بہت سے وہ لوگ کھڑے ہوگئے جنھیں آپ کی مذہبی حکومت میں اپنے اقتدار کے زائل ہونے کا خطرہ تھا , آپ نے ان سب سے مقابلہ کرنااپنا فرض سمجھا اور جمل# اور صفین# اور نہروان# کی خون ریز لڑائیاں ہوئیں . جن میں حضرت علی بن ابی طالب علیہ السّلام نے اسی شجاعت اور بہادری سے جنگ کی جو بدر واحد و خندق وخیبر میں کسی وقت دیکھی جاچکی تھی اور زمانہ کو یاد تھی .ان لڑائی جھگڑوں کی وجہ سے آپ کو موقع نہ مل سکا کہ آپ جیسا دل چاہتا تھا اس طرح اصلاح فرمائیں . پھر بھی آپ نے اس مختصر مدّت میں اسلام کی سادہ زندگی , مساوات اور نیک کمائی کے لیے محنت ومزدوری کی تعلیم کے نقش تازہ کردئے آپ شہنشاہ ُ اسلام ہونے کے باوجود کجھوروں کی دکان پر بیٹھنا اور اپنے ہاتھ سے کھجوریں بیچنا بُرا نہیں سمجھتے تھے , پیوند لگے ہوئے کپڑے پہنتے تھے , غریبوں کے ساتھ زمین پر بیٹھ کر کھاناکھالیتے تھے . جو روپیہ بیت المال میں آتا تھا اسے تمام مستحقین پر برابر سے تقسیم کرتے تھے , یہاں تک کہ آپ کے سگے بھائی عقیل نے یہ چاہا کہ کچھ انہیں دوسرے مسلمانوں سے زیادہ مل جائے مگر آپ نے انکار کردیا اور کہا کہ اگر میرا ذاتی مال ہوتا تو خیر یہ بھی ہوسکتا تھا مگر یہ تمام مسلمانوں کا مال ہے . مجھے حق نہیں ہے کہ میں اس میں سے کسی اپنے عزیز کو دوسروں سے زیادہ دوں , انتہا ہے کہ اگر کبھی بیت المال میں شب کے وقت حساب وکتاب میں مصروف ہوئے اور کوئی ملاقات کے لیے اکر غیر متعلق باتیں کرنے لگا تو آپ نے چراغ بھجادیا کہ بیت المال کے چراغ کو میرے ذاتی کام میں صرف نہ ہونا چاہیے . آپ کی کوشش یہ رہتی تھی کہ جو کچھ بیت المال میں آئے وہ جلد حق داروں تک پہنچ جائے . آپ اسلامی خزانے میںمال کاجمع رکھنا پسند نہیں فرماتے تھے .
[ترمیم] شہادت
حضرت علی علیہ السلام کو 19 رمضان 40ھ کو صبح کے وقت مسجد میں عین حالتِ نماز میں ایک زہر میں بجھی ہوئی تلوار سے زخمی کیا گیا۔ جب آپ کے قاتل کو گرفتار کرکے آپ کے سامنے لائے اور آپ نے دیکھا کہ اس کا چہرہ زرد ہے اور آنکھوں سے آنسو جاری ہیں تو آپ کو اس پر بھی رحم آ گیا اور اپنے دونوں فرزندوں امام حسن علیہ السلام و امام حسین علیہ السلام کو ہدایت فرمائی کہ یہ تمھارا قیدی ہے اس کے ساتھ کوئی سختی نہ کرنا جو کچھ خود کھانا وہ اسے کھلانا۔ اگر میں اچھا ہو گیا تو مجھے اختیار ہے میں چاہوں گا تو سزا دوں گا اور چاہوں گا تو معاف کردوں گا اور اگر میںدنیا میں نہ رہا اور تم نے اس سے انتقام لینا چاہا تو اسے ایک ہی ضرب لگانا، کیونکہ اس نے مجھے ایک ہی ضرب لگائی ہے اور ہر گز اس کے ہاتھ پاؤں وغیرہ قطع نہ کیے جائیں، اس لیے کہ یہ تعلیم اسلام کے خلاف ہے، دو روز تک حضرت علی علیہ السلام بستر بیماری پر انتہائی کرب اور تکلیف کے ساتھ رہے اخر کار زہر کا اثر جسم میں پھیل گیا اور 21 رمضان کو نمازِ صبح کے وقت آپ کی وفات ہوئی۔ حسن علیہ السلام و حسین علیہ السلام نے تجہیزو تکفین کی اور پشتِ کوفہ پر نجف کی سرزمین میں دفن کیے گئے۔
[ترمیم] اولاد
آپ کے بچوں کی تعداد 28 سے زیادہ تھی۔ مشھور اولادوں میں حسن علیہ السلام ، حسین علیہ السلام ، عباس علیہ السلام اور حضرت زینب سلام اللہ علیہا شامل ھیں۔

