عماد فایز مغنیہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

عماد فایز مغنیہ (عربی: عماد فايز مغنية ۔ 7 دسمبر 1962 تا 12 فروری 2008) لبنان کی تنظیم حزب اللہ کے ایک اہم رکن تھے اور حزب اللہ کے بانی ارکان میں سے تھے۔ وہ حزب اللہ کے شعبہ تحفظ (سیکیوریٹی سیکشن) کے صدر بھی رہے ہیں۔ وہ حاج رضوان کے نام سے بھی مشہور رہے ہیں۔ عماد امریکہ کے مطلوب ترین افراد میں شامل تھے کیونکہ ان پر مختلف الزام عائد کیے جاتے رہے ہیں مثلاً 1983 میں لبنان میں موجود امریکی افواج پر حملہ کر کے 350 افراد کو ایک ہی دن میں مار دینا اور 1992 میں بیونس آئرس (ارجنٹائن) میں اسرائیلی سفارت خانہ پر بم سے حملہ وغیرہ۔ امریکہ نے ان کی زندہ یا مردہ گرفتاری پر پچاس لاکھ روپے کا انعام رکھا تھا۔ انہوں نے حزب اللہ اور حماس کے درمیان مفاہمت میں ایک اہم کردار ادا کیا تھا۔انہیں 12 فروری 2008ء کو دمشق کے قریب ایک بم دھماکے میں شہید کر دیا گیا جس کا الزام اسرائیل کی تنظیم موساد پر لگایا گیا ہے۔ لبنان سے اسرائیلی افواج کے اخراج اور 2006ء کی لبنان۔اسرائیل جنگ میں حزب اللہ کے شعبہ اسلامی مزاحمت میں ان کے کردار کی وجہ سے انہیں اسرائیلی اپنا سب سے بڑا دشمن سمجھتے تھے۔ امریکہ انہیں ایک نہائت تیز و طرار شخص کے طور پر تسلیم کرتا تھا[1]

حالاتِ زندگی[ترمیم]

عماد جنوبی لبنان کے مشہور شہر صور (انگریزی: TYRE) میں دسمبر 1962ء میں پیدا ہوئے۔ 1976ء میں انہوں نے یاسر عرفات کی تحریک آزادیِ فلسطین میں شمولیت اختیار کی۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے جامعہ امریکیہ بیروت(American University of Beirut) میں تعلیم بھی حاصل کی۔ حزب اللہ کی تشکیل میں انہوں نے بنیادی کردار ادا کیا اور اس کے بانی ارکان میں سے ہونے کے علاوہ اس کے شعبہ مزاحمت اسلامی اور شعبہ تحفظ کے صدر بھی رہے۔ اس دوران انہوں نے مختلف ممالک کے خفیہ سفر بھی کیے۔ اسی کی دہائی میں ان کا بنیادی مقصد لبنان سے پہلے امریکی افواج کو نکالنا اور اس کے بعد اسرائیل کے بیس سالہ قبضہ سے جنوبی لبنان کو چھڑانا شامل تھے جن میں وہ کامیاب رہے۔ اس دوران ان پر مختلف الزامات عائد کیے گئے۔ وہ عربی، انگریزی اور فرانسیسی زبانوں سے بخوبی واقف تھے اور اپنی خوبصورتی اور خوش لباسی کی وجہ سے بھی مشہور تھے۔ ان کی بنیادی خواہش اسلامی اتحاد بھی تھی۔ اس سلسلے میں انہوں نے حماس اور حزب اللہ کے درمیان مفاہمت و روابط میں اہم کردار ادا کیا۔ اس کے علاوہ مبینہ طور پر ان کا رابطہ القاعدہ سے بھی تھا۔

مبینہ دہشت گردی کے الزامات[ترمیم]

ان کا بنیادی مقصد لبنان سے امریکی اور اسرائیلی افواج کا اخراج تھا۔ اس کے علاوہ وہ فلسطین کی آزادی کے بڑے حامی تھے اور یاسر عرفات سے ایک زمانے میں رابطہ رکھتے تھے۔ لبنان میں قابض افواج پر حملہ کو امریکہ اور اسرائیل نے دہشت گردی کا نام دیا اور ان پر مختلف الزامات بھی عائد کیے جن میں سے کچھ درست اور کچھ غلط ہیں۔ ان پر بنیادی الزامات میں درج ذیل شامل ہیں

  • 1976ء سے یاسر عرفات کے ساتھ تحریک آزادی فلسطین میں عملی حصہ لیا
  • 1980ء اور 1990ء کی دہائی میں امریکہ اور اسرائیل کے اہداف پر حملے کیے
  • 1983ء میں بیروت میں امریکیوں پر حملہ میں 60 سے زیادہ امریکیوں کو قتل کیا۔
  • 1983ء ہی میں ایک ٹرک بم دھماکہ کے ذریعے 241 امریکیوں کو قتل کیا
  • جون 1985ء میں یورپ سے ایک امریکی طیارہ اغوا کیا
  • 1992ء میں ارجنٹائن میں اسرائیلی سفارت خانہ پر حملہ کیا
  • 1980ء اور 1990ء کی دہائی میں متعدد امریکیوں کو اغوا کیا جن میں سے کچھ قتل ہوئے جس میں امریکی افواج کا ایک کرنل بھی شامل تھا

شہادت[ترمیم]

عماد ایف بی آئی اور سی آئی اے کی بہت مطلوب افراد کی فہرست میں ہونے کے علاوہ اسرائیلی موساد کا بھی ہدف تھے۔ 12 فروری 2008ء کو شام کے دارالحکومت دمشق کے قریب ایک کار بم کے ذریعے اسرائیلی تنظیم موساد نے انہیں شہید کردیا۔[2] حزب اللہ اور حماس کے افراد کو اسی طریقہ سے شہید کرنے کے سابقہ واقعات کو اسرائیل نے تسلیم کیا ہے مگر فی الحال عماد کی شہادت کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔اسرائیلی جاسوسی تنظیم موساد کے ایک سابقہ سربراہ دنی یاتوم کے مطابق وہ اس زمین کے خطرناک ترین دہشت گردوں میں سے تھے۔ [3] ان کی شہادت پر اسرائیل اور امریکہ[4] نے خوشی کے بیانات جبکہ شام، لبنان[5]، فلسطین اور ایران[6] نے مذمتی بیانات جاری کیے ہیں۔

بیرونی روابط[ترمیم]


حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ Wright, Robin, Sacred Rage, Simon & Schuster, 2001, p.270
  2. ^ 13 فروری 2008ء REUTERS
  3. ^ واشنگٹن پوسٹ
  4. ^ بی بی سی
  5. ^ بی بی سی
  6. ^ بی بی سی