عمرو ابن العاص

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

583 - 664ء

حضرت عمرو ابن لاعاص رضی اللہ عنہ ایک صحابی رسولDUROOD3.PNG تھے ۔ فاتح مصر اور حضرت امیر معاویہ کے قریب ترین مشیر۔ حضرت امیر معاویہ کے ان مشیران میں سے تھے جن کی مدد سے انہوں نے حکومت حاصل کی۔


ابتدائی زندگی[ترمیم]

وہ مکہ کے مشہور مالدار سردار عاص بن وائل کا بیٹا ہونے کے سبب ناز و نعمت میں پلے تھے۔ باپ نے ان کی تعلیم و تربیت کا خصوصی اہتمام کیا تھا۔ عاص بن وائل اسلام کا شدید دشمن تھا جس نے آخری وقت تک مسلمانوں کو تنگ کیا۔ عمر بن العاص نے بھی کئی سال تک اسلام کی شدید مخالفت کی ۔ یہاں تک مومنین نے اہل مکہ کی زیادتیوں سے تنگ آکر حبشہ ہجرت کی تو عمر بن العاص نے شاہ حبشہ سے جا کر مطالبہ کیا کہ ہمارے باغی ہمیں واپس کیے جائیں۔ غزوہ بدر اور غزوہ احد اور غزوہ خندق میں عمرو بن العاص نے قریش کی طرف سے شرکت کی۔


قبول اسلام[ترمیم]

غزوہ خندق کے بعد عمرو بن العاص نے سنجیدگی سے سوچنا شروع کر دیا کہ اگر بتوں میں کوئی جان ہوتی تو اتنا بڑا لشکر کبھی ناکام نہ ہوتا۔ ان کے اندر سے یہ آواز بھی آئی کہ اگر آخرت کا وجود نہ ہو تو دنیا میں کیے گئے ظلم و جور کا حساب کہاں ہوگا۔ اس ذہنی الجھنوں کے دور میں انہوں نے حبشہ کاسفر کیا اور وہاں شاہ نجاشی کی خدمت میں چمڑے کا تحفہ پیش کرکے حضور اکرم کے سفیر عمرو بن امیہ ضمری کو قتل کے لیے اپنے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا۔ نجاشی اس وقت تک مسلمان ہو چکا تھا ۔ اس نے نہایت غضب ناک ہو کر جواب دیا۔

’’ کیا تم ایک شخص کو مجھ سے قتل کرنے کے لیے مانگتے ہو جو اس ہستی کا قاصد ہے جس کے پاس ناموس اکبر آتا ہے۔ وہی ناموس اکبر جو موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا کرتا تھا۔

عمرو بن العاص کا اپنا بیان ہے کہ اس جواب سے یک سو ہوگیا اور اپنے ساتھیوں سے کچھ کہے بغیر مدینہ کی طرف روانہ ہوگیا۔ راستے میں خالد بن ولید ملے۔ وہ قبول اسلام کی غرض سے مدینہ جا رہے تھے۔ چنانچہ دونوں نے حضور اکرم کے دست مبارک پر بیعت کی اور اپنے ماضی سے استغفار کیا۔

عہد نبوی میں خدمات[ترمیم]

قبول اسلام کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمرو بن العاص کو ذات السلاسل اور سواع کی مہمات کا امیر مقرر کیا۔ اور دونوں آپ نے کامیابی سے سر کیں۔ موخر الذکر مہم سواع بت اور اس کے مندر کو مسمار کرنے کی مہم تھی جو مکہ سے تین میل کے فاصلے پر رباط کے مقام پر واقع تھا۔ آپ نے بلی اور عذرہ قبائل کو بھی دعوت حق پہنچا کر مشرف با اسلام کیا اور عمان کے سردوروں عبید اور جیفر کو جو مجوسی تھے مسلمان کرنے کا شرف بھی آپ کو حاصل ہوا۔ حضور اکرم نے آپ کو عمان کا عامل مقرر فرمایا۔


عہد خلافت میں خدمات[ترمیم]

عہد صدیقی میں آپ عمان ہی کے عامل رہے یہاں تک کہ انہیں تسخیر فلسطین کی ذمہ داری سونپی گئی ۔ اجنادین کے معرکہ میں آپ نے نوے ہزار مجاہدین کی کمان کی ۔ اسی معرکہ میں آپ کے بھائی ہشام بن عاص شہید ہوگئے۔ جو آپ سے بہت پہلے اسلام قبول کرچکے تھے۔ اجنادین کی فتح کے بعد مخل و بیسان کے لوگوں میں بھی آپ نے کامیابی حاصل کی اور یرموک کے فیصلہ کن معرکہ میں آپ نے نمایاں کردار ادا کیا۔

طاعون عمواس نے پچیس ہزار مسلمانوں کی جانیں لے لیں جن میں قائد لشکر امین الملت ابوعبید بن الجراح اور معاذ بن جبل بھی شامل تھے۔ ان دونوں کے بعد عمرو بن العاص لشکر کے قائدبنے تو انہوں نے حسن تدبیر سے مسلمانوں کی جانیں بچائیں۔ انہوں نے مسلمانوں کو وبا والے علاقے سے فوراً ہٹا لیا۔ اور پہاڑوں میں منتشر کر دیا۔ اس طرح وبا کے جراثیم ایک سے دوسرے تک نہیں پہنچ سکتے تھے۔ اسی طرح جلد ہی مسلمان اس وبا سے محفوظ ہو گئے۔


فتح مصر[ترمیم]

عمرو بن العاص کو جس کارنامہ کی بدولت امتیاز حاصل ہوا وہ فتح مصر ہے۔ آپ نے صرف چار ہزار جان بازوں کے ساتھ مصر کی سرحد عبور کی۔ بابلیوں اور العریش پر قبضہ کرکے عین شمس پہنچے اور طویل محاصرے سے قصر شمع کو فتح کیا۔ اس قلعہ کے پاس آپ نے فسطاط کا شہر بسایا جو بعد میں اسلامی مصر کا دارلحکومت قرار پایا۔ اس فتح کا سب سے اہم معرکہ اسکندریہ کی فتح ہے جس کے بعد مقوقس شاہ مصر نے مسلمانوں کی اطاعت قبول کر لی ۔ اور مصر کی تسخیر مکمل ہو گئی۔ مصر کے بعد عمر بن العاص نے طرابلس بھی فتح کر لیا۔ تاہم امیر المومنین نے افریقہ (تونس اور الجزائر اور مراکش ) کی طرف پیش قدمی روک دی۔

مصر کے زرخیز علاقے کی آمدن نے مسلمانوں کا معیار زندگی بلند کردیا ۔ حضرت عمر کو عیش کوشی پسند نہ تھی انہوں نے عمرو بن العاص کے بیٹے محمد بن عمرو کو ایک قبطی کو پیٹنے کے بدلے میں اس قبطی سے کوڑے لگوائے اور عمرو بن العاص کو بھی سختی سے تنبیہہ کی ۔

عثمانی دور[ترمیم]

عثمانی دور میں حکومت میں عمرو بن العاص نے مصر کا خراج بڑھانے سے معذرت کی اور لکھا کہ ’’گائے اس سے زیادہ دودھ نہیں دے سکتی‘‘ حضرت عثمان نے آپ کو معزول کر دیا۔ لیکن آپ بدستور حضرت عثمان کے بہی خواہ رہے اور دور فتن میں آپ کو مشورے دیتے رہے۔


امیر معاویہ سے تعلق[ترمیم]

امیر معاویہ نے قصاص عثمان کی دعوت دی تو عمرو بن العاص سے امداد کی درخواست کی۔ چنانچہ آپ نے مصر کی حکومت کی شرط منوا کر ان کا ساتھ دیا۔ جنگ صفین میں قرآن پاک کے اوراق کو نیزوں پر اٹھانے اور حکم مقرر کرنے کی تجویز بھی آپ ہی نے پیش کی تھیں۔ تحکیم کے معاہدہ کے بعد عمرو بن العاص نے امیر معاویہ کے مقرر کردہ ثالث کی حیثیت سے امیر معاویہ کی خلافت کا اعلان کر دیا۔ اس کے بعد آپ نے محمد بن ابی بکر کو شکست دے کر مصر پر قبضہ کر لیا اور آخر وقت تک مصر پر حکومت کی ۔ خارجیوں نے حضرت علی کے ساتھ ان کوبھی شہید کرنے کی کوشش کی لیکن وہ صرف زخمی ہوئے اور بچ گئے۔

عمر و بن العاص بہت بہادر ، باصلاحیت ، انسان تھے۔ بہترین سالار بہت اچھے منتظم سلطنت اور اعلی درجے کے سیاسی مدبر تھے۔ امیر معاویہ کے وفادار تھے اور ان کے بہترین مشیر جن کی بدولت امیر معاویہ کی حکومت قائم ہوئی۔