عمرہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

فقہی مسایل اور قیودات کی وضاحت کے بغیر یہاں عوام کے مناسب اسان طورپر عمرہ ار حج کا طریقہ لکھاجاتاہے۔ اس میں جو باتیں جہاں جس طرح کرنی لکھی گءی ہیں، ضروری نہیں ہے کہ اسی طرح کرنا ضروری ہو، بلکہ آسان طریقہ لکھاگیاہے، مثلا احرام کے بارے میں لکھاہے کہ اپنے مقامی ایر پورٹ سے باندھ لیں، یہ اس لیے عام طورپر ہواءی جہاز کے سفر کے درمیان میقات آجاتی ہے اور اس وقت احرام باندھنا دشوار ہوتاہے۔

عمرہ کااحرام[ترمیم]

اپنےمقامی ایڑپورٹ سےعمرہ کا احرام باندھ کر دو رکعت نماز پڑھ کرسلام پھیر کر قبلہ رو بیٹھ کر سر کھول کر اسی جگہ درج ذیل طریقہ پر نیت کریں اَللّٰھُمَّ اِنِّی اُرِیدُ العُمرَةَ فَیَسِّرھَا لِی وَ تَقَبَّلھَا مِنِّی نیت کےبعد مرد بلند آواز سےاور عورت پست آواز سےنیچےکا تلبیہ پڑھے: لَبیکَ اَللّٰھُمَّ لبّیک لبَّیک لا شَرِیکَ لَکَ لبَّّیک، اِنَّ الحَمدَ وَ النِّعمۃ لَکَ وَ المُلکَ، لا شَرِیکَ لَکَ نیت کرکےتلبیہ کہنےکےساتھ ہی آپ کا احرام شروع ہو گیا، عمرہ کےسلسلہ کا پہلا عمل یہی احرام ہے، اب مکہ معظمہ پہونچنےتک آپ کو کوئی خاص کام کرنا نہیں ہے۔ بس احرام کی پابندیوں سےبچتےرہو۔ مسجد حرام میں داخلہ:

مکہ مکرمہ میں اپنےمقام پر اسباب وغیرہ کا بند و بست کرکےسب سےپہلےمسجد حرام میں حاضر ہونا چاہیے۔تلبیہ پڑھتےہوئےنہایت خشوع و خضوع کےساتھ دربار الہی کی عظمت و جلال کا لحاظ کرتےہوئےمسجدحرام میں دعا پڑھ کر داخل ہوں۔ اب نظریں جھکائےھوئےآگےبڑھیے، کیونکہ آپکو کعبۃ اللہ تک جانا ہے، ایک اندازہ کےمطابق تقریبا دو سو قدم چلنےکےبعد آپ برآمدوں سےگزرکر حرم شریف کےصحن میں آجائیں گے۔ اور جب نظر اٹھائیں گےتو آپکی نظر سیدھی کعبۃ اللہ پر پڑےگی، کعبۃ اللہ پر پڑنےوالی یہ آپکی پہلی نظر ہوگی جو دعا کی قبولیت کی گھڑی ہے، لہذا اپنی نظریں وہیں جما دیجیئے ۔اور پھر جی بھر کر بصد آداب و شکر اپنی خوش قسمتی پر نازاں، نہایت عجز و نیاز سےدین و دنیا کی ساری جائز اور نیک خواہشات کی دعا کیجیئے، سب سےاہم دعا یہ کرنی چاہیےکہ اللہ تعالٰی بغیر حساب و کتاب جنت میں داخلہ عنایت فرمائیں۔

اپنےمقامی ایرپورٹ سےچونکہ آپ نےعمرہ کا احرام باندھا ہے، اور عمرہ میں کل تین کام کرنےہوتےہیں۔

  1. طواف کرنا (جو رکن اور فرض ہے)
  2. عمرہ کی سعی کرنا (جو واجب ہے)
  3. بال کٹوانا یا منڈوانا (یہ بھی واجب ہے)۔

طواف : طواف کےمعنی بیت اللہ کےچاروں طرف ایک خاص طریقےسےسات چکر یعنی سات مرتبہ گھومنا ہے۔طواف کی ابتداء حجرِ اسود سےہوتی ہے، اس لئےکعبۃ اللہ کےجس کونہ میں حجر اسود لگا ہو ا ہے، حکومت سعودیہ نےاس جانب کالے پتھر کی ایک لمبی لکیر بنادی ہے، اس طرف پہونچنے کی کوشش کریں۔لکیر کےقریب پہونچ جائیں تو لکیر سےآدھا فٹ قبل بائیں طرف بیت اللہ کی جانب منھ کرکےکھڑے ھو جائیں، اسکے بعد اضطباع کریں یعنی داہنےکندھےکےنیچےسےچادر نکال کر بائیں کندھے پر ڈال دیں، اس کےبعد طواف کی نیت کریں، اور یہ بات یاد رکھیں کہ طواف میں نیت فرض ہے، بغیر نیت کےطواف ادا نہیں ہوگا۔ نیت کےالفاظ یہ ہیں:

اَللّٰھُمَّ اِنِّی اُرِیدُ طَوَافَ بَیتِکَ الحَرَامِ، سَبعۃ اَشوَاطٍ لِلّٰہِ تَعَالٰی، فَیَسِّرہ لِی، وَ تَقَبَّلہ مِنِّی۔

اب د ا ہنی طرف اتنا ہٹو کہ آپکےپاوں سیاہ لکیر پر آجائیں اور حجر اسود ٹھیک آپکےسامنےھو جائےاسکےبعد یہ دعا پڑھو : بِسمِ اللّٰہِ، اللّٰہُ اکبَر، وَ لِلّٰہِ الحَمد

مذکورہ دعا کےساتھ اپنےدونوں ہاتھ اس طرح اٹھائیں جس طرح نماز میں کانوں تک اٹھا ہیں پھر چھوڑ دیں اور حجر اسود کو استلام یا بوسہ دیکر دا ہنی طرف گھوم کر طواف شروع کریں، مرد پہلےتین چکروں میں رمل کرے یعنی جھپٹ کر تیزی کےساتھ چلے، زور سےقدم اٹھائے۔ قدم نزدیک نزدیک رکھتےہوئےموندھوں کو پہلوانوں کی طرح خوب ہلاتا ہوا چلے۔ اور مابقیہ چار چکر اپنی اصلی رفتار سے پورےکریں۔ آپکو بیت اللہ کےگرد گھوم کر سات چکر پورے کرنےہیں، ہر چکر حجر اسود والےکونےسےشروع ھوگا اور وہیں آکر پورا ہوگا، ہر چکر پورا ھونےپر آپکو بِسمِ اللّٰہِ، اللّٰہُ اکبَر، وَ لِلّٰہِ الحَمدُ پڑھ کر حجر اسود کو بوسہ یا استلام کرکے نیا چکر شروع کرنا ہےاور جب جب رکن یمانی پر پہونچیں تو اس کو دونوں ہاتھ یا صرف دائیں ہاتھ سےچھو لینا سنت ہے،اس کو بوسہ دینا خلاف سنت ہے، ہاں مگر اس بات کا خیال رکھیں کہ سینہ بیت اللہ کی طرف مڑنےنہ پائے، اگر رکن یمانی پر ہاتھ لگانےکا موقع نہ ملےتو بغیر ہاتھ لگائےگذر جائیں ۔ اسطرح جب سات چکر پورےکرکےساتویں چکر کےاختتام پر حجر اسود کو بوسہ دینگےتو یہ اس طواف کا آٹھواں بوسہ ھوگا، ایک بوسہ وہ جو طواف شروع کرتےوقت لیا تھا اور سات بوسے، سات چکروں کے۔ اسطرح مجموعی آٹھ بوسےہونگے۔

دوران طواف کوئی مخصوص دعا پڑھنا ضروری نہیں ہے، اگر دعائیں یاد نہ ھوں تو اپنی مادری زبان میں اللہ تعالٰی سےجو مانگنا چاہیں مانگتےرہیں، اگر کچھ بھی پڑھےبغیر، خاموشی کےساتھ بیت اللہ کےگرد سات چکر لگاوگےتو بھی آپکا طواف ھوجائیگا۔مگر اچھا یہ ہے کہ کم از کم مذکورہ ذیل دو دعائیں ضرور یاد فرمالیں۔

  1. سُبحَانَ اللّٰہِ، وَ الحَمدُ لِلّٰہِ، وَ لا اِلٰہَ اِلاّ اللّٰہُ، وَ اللّٰہُ اَکبَر، وَ لا حَو´لَ وَ لا قُوَّةَ اِلاّ بِاللّٰہِ العَلِیِّ العَظِیمِ۔
  2. رَبَّنَا اٰتِنَا فِی الدُّنیَا حَسَنَہً وَ فِی الآخِرَةِ حَسَنَةً وَ قِنَا عَذَابَ النَّار

ساتوں چکروں میں حجر اسود سےرکن یمانی کےدرمیان پہلےنمبر کی دعا اور رکن یمانی سےحجر اسود کےدرمیان دوسرےنمبر کی دعا پڑھتےرہیں۔ ہر دو دعائیں اگر اسکی جگہ آنےسےپہلےپوری ہوجائیں تو اسی دعا کو مکرر پڑھتےرہیں۔

دوگانہ طواف[ترمیم]

طواف کےکےبعد طواف کی دو رکعت نماز مقام ابراھیم کےپیچھےیا اس کےآس پاس جہاںبھی جگہ مل جائےکندھا دھانک کر پڑھ لیں۔نماز اور دعا سےفارغ ہو کر اگر ممکن ہو تو مُلتَزَم پر جائیں اگر ملتزم سےچمٹنےکا موقع نہ مل سکےتو حرم میں کہیں سےبھی ملتزم کی جانب منھ کرکےاسپر نظریں جما کر دعا کرلیجئے۔ زمزم کا پانی پینا : دعا کر کےزم زم شریف پر آئیےاور قبلہ رو ہو کر بسم اللہ پڑھ کےتین سانس میں خوب ڈٹ کر آبِ زم زم پیجئے، زم زم پی کر الحمد للہ کہہ کر یہ دعا پڑھیں۔

اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَسئَلُکَ عِلمًا نَافِعًا، وَ رِزقًا وَاسِعًا، وَ شِفَاعًا مِن´ کُلِّ داء

صفامروہ کےدرمیان سعی : صفا اور مروہ کےدرمیان مخصوص طریقہ پر سات چکر لگانےکوسعی کہتےہیں، حج اور عمرہ کرنےوالےپر سعی کرنا واجب ہی۔جس طرح طواف حجر اسود کےاستلام سےشروع ہوتا ہےاسی طرح سعی بھی حجر اسود کےاستلام سےشروع کرنا آپ کی سنت ہے۔ اسلئےحجر اسود کا استلام کر لیں یا دور سےاسکی جانب ہتھیلیاں اٹھا کرہتھیلیوں کو چوم کر باب الصفا کی جانب بڑھیں۔

حجر اسود کی نشانی والی کالی پٹی کی سیدھ میں چلیں، اسی جانب صفا پہاڑی کا مقام ہےاور وہاں عربی و انگلش میں ”الصفا “کا بورڈ لگا ہوا ہے۔ وہاںسےتھوڑا آگےبڑھنے کے بعد پہاڑ کی علامت شروع ہو جاتی ہے۔اب دل میں سعی کی نیت کریں اور زبان سےاِس طرح پڑھیں:

اَللّٰھُمَّ اِنِّی اُرِیدُ السَّعیَ بَینَ الصَّفَا وَ المَروَةَ سَبعۃ اَشوَاطٍ لِوَجھِکَ الکَرِیمِ ، فَیَسِّرہ لِی وَ تَقَبَّلہُ مِنِّی۔

پھر دونوں ہاتھ اس طرح اٹھائیں جیسےدعا میں اٹھائےجاتےہیں۔ اور خوب دعائیں مانگیں، تقریبا پچیس اٰیات پڑھنےکی مقدار کھڑےرہکر اپنی رفتار سےذکر کرتےہوئی، دعا مانگتےھوئےمروہ پہاڑی کی طرف چلیں۔ صفا مروہ کےبیچ بھی دل کی گہرائیوں سےدعائیں مانگےاور یہ دعا پڑھتےرہیں : رَبِّ اغفِر ،وَ ارحَم´ ،اَنتَ الاعزُّ الاکرَم´

صفا مروہ کےدرمیان جب وہ جگہ آنےلگےجہاں دیوار میں سبز رنگ کےستون لگائےہوئےہیں اور وہ جب بقدر چھ ہاتھ کےدوری پرہو تو درمیانی چال سےدوڑنا شروع کریں اور دوسرے سبز ستونوں کےبعد بھی چھ ہاتھ تک دوڑیں، پھر اپنی چال چلنےلگیں۔ آگےمروہ پہاڑی آئیگی ، اسپر چڑھیں اور بیت اللہ کی جانب رخ کرکےکھڑےھو کر جسطرح صفا پہاڑی پر ذکر و شکر اور دعائیں کی تھیں اسی طرح یہاں بھی کریں، اب آپکا ایک چکر مکمل ہوگیا، اسکےبعد مروہ سےصفا یہ آپکا دوسرا چکر ختم ھوا، بس اسی طرح آپکو سات چکر مکمل کرنےہیں۔ ساتواں چکر مروہ پہاڑی پر ختم ہوگا۔ اب آپ مطاف میں آکر کسی بھی جگہ دو رکعت نماز پڑھیں ، شرط یہ ہےکہ مکروہ وقت نہ ہو۔

سر کا حلق : عمرہ کےتمام اعمال پورے ہو گئےاس لئےمسجد سےباہر نکل کر سر کا حلق یا قصر کروالیں،اب آپ کا عمرہ پورا ہو گیا اور آپکا احرام بھی ختم ہو گیا۔ اب احرام کی کوئی پابندی آپ پر نہیں رہی،

‘‘http://ur.wikipedia.org/w/index.php?title=عمرہ&oldid=718128’’ مستعادہ منجانب