عمر بن خطاب

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
عمر
Umar.png
عہد فاروقی میں اسلامی سلطنت
Mohammad adil rais-Caliph Umar's empire at its peak 644.PNG
(امیر المؤمنین)
مکمل نام عمر بن خطاب
(عمر ابن الخطاب)
عہد 23 اگست 634ء (12ھ) – نومبر 7 644ء (23ھ)
پیدائش 586ء (37 ق‌ھ)-590ء (33 ق‌ھ)
مقام پیدائش مکہ المعظمہ، عرب
وفات 7 نومبر 644ء (23ھ)
مقام وفات مدینہ منورہ، عرب
مقام تدفین مسجد نبوی، مدینہ منورہ
پیشرو ابوبکر رضی اللہ عنہ
جانشین عثمان رضی اللہ عنہ
والد خطاب بن نفیل
والدہ حنتمہ بنت ھشام بن المغیرہ
بھائی زید بن خطاب
بہن فاطمہ بنت خطاب
شریک حیات ۔زینب بنت مظعون
۔ ام کلثوم بنت علی
۔ قریبہ بنت ابی امیہ
۔ ام حکیم بنت حارث
۔ ام کلثوم
۔ عاتکہ بنت زید
بن عمر بن نفیل
۔ لہیا
۔ فقیہا
بیٹے ۔ عبداللہ
۔ عبد الرحمٰن
۔ عبیداللہ بن عمر
۔ زید بن عمر
۔ عاصم
۔ عیاض بن عمر
۔ الزبیر بن بکر (ابو شہاما)
بیٹیاں ۔ حفصہ
۔ فاطمہ
۔ زینب
آل فاروقی
القاب ۔ الفاروق (سچ اور جھوٹ میں فرق کرنے والا)
۔ امیر المؤمنین ( مومنوں کے امیر)
[1]
عمر
(امیر المؤمنین)

خلیفہ راشد

Basmala.svg

Allah-green.svg
مقالہ بہ سلسلۂ مضامین
اسلام

تاریخ اسلام

عقائد و اعمال

خدا کی وحدانیت
قبولیت اسلام
نماز · روزہ · حج · زکوٰۃ

اہم شخصیات

محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم
ابوبکر صدیق · عمر فاروق · عثمان غنی · علی حیدر
احباب حضور اکرم
حضور اکرم کا خاندان
حضور اکرم کی ازواج
دیگر پیغمبران

کتب و قوانین

قرآن · حدیث · شریعت
قوانین · کلام
سیرت

مسلم مکتبہ ہائے فکر

سنی · شیعہ · صوفی

معاشرتی و سیاسی پہلو

اسلامیات · فلسفہ
فنون · سائنس
فن تعمیر · مقامات
اسلامی تقویم · تعطیلات
خواتین اور اسلام · رہنما
سیاسیات · جہاد · آزاد خواہی

مزید دیکھیئے

اسلامی اصطلاحات
اسلام پر مضامین کی فہرست


حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالٰیٰ عنہ، خلیفۂ اوّل حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کے بعد مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ تھے۔ ان كے دور میں اسلامی مملکت 28 لاکھ مربع میل کے رقبے پر پھیل گئی۔


نام و‌نسب

آپ کا نام مبارک عمر ہے اور لقب فاروق، کنیت ابو حفص، لقب و‌کنیت دونوں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے عطا کردہ ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ کا نسب نویں پشت میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جا ملتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نویں پشت میں کعب کے دو بیٹے ہیں مرہ اور عدی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مرہ کی اولاد میں سے ہیں، جبکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ عدی کی اولاد میں سے ہیں۔

ابتدائی زندگی

آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ مکہ میں پید ا ہوۓ اور ان چند لوگوں میں سے تھے جو لکھ پڑھ سکتے تھے۔ جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لوگوں کو اسلام کی دعوت دی تو حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سخت مخالفت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دعا سے حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اسلام قبول کر لیا۔ اس لے آپ کو مراد رسول بھی کہا جاتا ہے.

سنت حضرت عمر

حضرت عمر بن خطاب کے متعلق مولوی شبلی نعمانی الفاروق میں لکھتے ہیں کہ عرب کا مشہور مرثیہ گو مہتمم بن نویر آپ کی خدمت میں آیا تو انھوں نے فرمائش کی کہ زید (پسر عمر بن خطاب) کا مرثیہ لکھو مجھ کو تمہارا سا کہنا آتا کو میں خود لکھتا۔

ہجرت

ہجرت کے موقعے پر کفار مکہ کے شر سے بچنے کے لیے سب نے خاموشی سے ہجرت کی مگر آپ کی غیرت ایمانی نے چھپ کر ہجرت کرنا گوارہ نہیں کیا.آپ نے تلوار ہاتھ میں لی کعبہ کا طواف کیا اور کفار کے مجمع کو مخاطب کر کے کہا " تم میں سے اگر کوئی شخص یہ چاہتا ہو کہ اس کی بیوی بیوہ ہوجائے اس کے بچے يتيم ہوجائیں تو وہ مکہ سے باہر آکر میرا راستہ روک کر دیکھ لے" مگر کسی کافر کی ہممت نہ پڑی کہ آپ کا راستہ روک سکتا.

واقعات

وہ ایک حاکم تھے۔ وہ ایک مرتبہ وہ مسجد میں منبر رسول پر کھڑے خطبہ دے رہے تھے کہ ایک غریب شخص کھڑا ہوگیا اور کہا کہ اے عمر ہم تیرا خطبہ اس وقت تک ہیں سنیں گے جب تک یہ نہ بتاؤ گے کہ یہ جو تم نے کپڑا پہنا ہوا ہے وہ زیادہ ہے جبکہ بیت المال سے جو کپڑا ملا تھا وہ اس سے بہت کم تھا۔تو عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کہا کہ مجمع میں میرا بیٹا عبداللہ موجود ہے، عبداللہ بن عمر کھڑے ہوگئے۔ عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کہا کہ بیٹا بتاؤ کہ تیرا باپ یہ کپڑا کہاں سے لایا ہے ورنہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے میں قیامت تک اس منبر پر نہیں چڑھوں گا۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے بتایا کہ بابا کو جو کپڑا ملا تھا وہ بہت ہی کم تھا اس سے ان کا پورا کپڑا نہیں بن سکتا تھا۔ اور ان کے پاس جو پہننے کے لباس تھا وہ بہت خستہ حال ہو چکا تھا۔ اس لئے میں نے اپنا کپڑا اپنے والد کو دے دیا۔

ابن سعد فرماتے ہیں کہ ہم لوگ ایک دن حضرت امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ کے دروازے پن بیٹھے ہوۓ تھے کہ ایک کنیز گزری ۔ بعض کہنے لگے یہ باندی حضرت کی ہے۔ آ پ (حضرت عمر رضی اللہ عنہ) نے فرمایا کہ امیر المؤمنین کو کیا حق ہے وہ خدا کے مال میں سے باندی رکھے۔ میرے لیۓ صرف دو جوڑے کپڑے ایک گرمی کا اور دوسرا جھاڑے کا اور اوسط درجے کا کھانا بیت المال سے لینا جائز ہے۔ باقی میری وہی حیثیت ہے جو ایک عام مسلمان کی ہے۔ جب آپ کسی بزرگ کو عامل بنا کر بھیجتے تھے تو یہ شرائط سنا دیتے تھے : 1-گھوڑے پر کبھی مت سوار ہونا۔ 2-عمدہ کھانا نہ کھانا۔ 3-باریک کپڑا نہ پہننا۔ 4-حاجت مندوں کی داد رسی کرنا۔ اگر اس کے خلاف ہوتا تو سزائیں دیتے۔

عادات

حضرت عمر حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے بھی دیگر صحابہ کی طرح مشورہ کرتے چنانچہ صحیح بخاری کی روایت کے مطابق حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کی شہادت کے بعد جب حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ آئے تو فرمایا میں اس کے نامہ اعمال کے ساتھ اللہ سے ملوں۔

شہادت

ایک غلام ابو لولو فیروز نے آپ کو فجر کی نماز میں مسجد نبوی میں خنجر سے حملہ کیا اور تین جگہ وار کیے۔ آپ ان زخموں سے جانبر نہ ہوسکے اور دنیائے فانی سے کوچ کر گئے۔ آپ کے بعد اتفاق رائے سے حضرت عثمان کو امیر المومنین منتخب کیا گیا۔

حوالہ جات

  1. ^ محمد, ابن سعد (830-840 BCE). طبقات الکبریٰ. pp. باب 3 صفحہ 281. 

بیرونی روابط

عمر بن خطاب
مناصبِ اہل سنت
پیشرو
ابو بکر
خلیفہ راشد
634ء (12ھ) – 644ء (23ھ)
جانشین
عثمان بن عفان