عیدالاضحی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
TajMahalbyAmalMongia.jpg


ترتیب مضامین
اسلامی تہذیب

فن تعمیر

عربی · آذری
انڈو-اسلامی · ایوان
مورش · مراکشی · مغل
عثمانیہ · ایرانی
سوڈانی-سحیلی · تاتار

فن

خطاطی · مصوری · رگ

رقص

سماع · صوفی رقص

پیراہن

عبایہ · عقال · بوبو
برقع · چادر · جلابیہ
نقاب · شلوار قمیص · طاقیہ
ثوب · جلباب · حجاب

تعطیلات

عاشورہ · اربعین · الغدیر
چاند رات · الفطر · الاضحیٰ
یوم الامامہ · الکاظم
سال نو · اسریٰ و معراج
القدر · مولد · رمضان
مغام · وسط شعبان

ادب

عربی · آذری · بنگالی
انڈونیشی · جاوانی · کشمیری
کردی . فارسی . سندھی . صومالی
جنوبی ایشیاء . ترکی . اردو

موسیقی

دست گاہ .غزل . مدیح نبوی
مقام . مغام . نشید
قوالی

تھئیٹر

کاراگوز و ہاقیوات . تعزیہ

IslamSymbolAllahCompWhite.PNG

باب اسلام

بقرعید یا عیدالاضحیٰ مسلمانوں کا تہوار ہے۔ مسلمان دو طرح کی عید مناتے ہیں۔ ایک کو عید الفطر اور دوسری کو عید الاضحیٰ کہا جاتا ہے۔ عید الاضحیٰ ذوالحجۃ کی دس تاریخ کو منائی جاتی ہے۔ اس دن مسلمان کعبۃ اللہ کا حج بھی کرتے ہیں۔ الحمد للہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم ھجرت کرکے مدینہ تشریف لاۓ تواہل مدینہ کے لیے دودن ایسے تھے جس میں وہ لھو لعب کیا کرتے تھے تونبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ( بلاشبہ اللہ تعالٰی نے تمہیں اس سے بہتر اواچھے دن دن عطاکیے ہیں وہ عید الفطر اورعیدالاضحی کے دن ہیں ۔ ) علامہ البانی رحمہ اللہ تعالٰی نے اسے السلسلۃ الصحیحیۃ میں صحیح قرار دیا ہے ( 2021 ) ۔

تواللہ تعالٰی نے وہ لھولعب کے دو دن ذکر وشکراورمغفرت درگزر میں بدل دیے ، تواس طرح مومن کے لیے دنیا میں تین عیدیں ہیں :

ایک عید ہرہفتے میں ایک بارآتی ہے ، اوردو عیديں ایسی ہیں جوسال میں ایک بارآتیں ہیں ۔

ہرہفتے آنے والی عید جمعہ کا دن ہے ۔

اوروہ عیدیں جوسال میں باربارنہیں آتیں بلکہ صرف ہرایک سال میں صرف ایک بارہی آتی ہے :

ان میں سے ایک تو عیدالفطر ہے :

جورمضان کے روزوں سے آتی ہے اوریہ رمضان کے روزوں کی تکمیل ہے جوکہ اسلام کے بنیادی ارکان میں سے تیسرا رکن ہیں ، جب مسلمان رمضان کے فرضی روزے مکمل کرتا ہے تواللہ تعالٰی نے ان کے روزے مکمل کرنے پر عید مشروع کی ہے جس میں وہ اللہ تعالٰی کا شکرادا اوراللہ تعالٰی کاذکر کرنے کے لیے جمع ہوتے اوراس کی اس طرح بڑائ بیان کرتے ہیں جس پرانہیں اللہ تعالٰی نے ھدایت نصیب فرمائ ہے اوراس عید میں اللہ تعالٰی نے مسلمانوں پرصدقہ فطر ( فطرانہ ) اورنماز عید مشروع کی ہے ۔

دوسری عید :

عیدالاضحی ہے جو کہ دس ذی الحجہ کے دن میں آتی اوریہ دونوں عیدوں میں بڑی اورافضل عیدہے اورحج کے مکمل ہونے کے بعدآتی ہے جب مسلمان حج مکمل کرلیتے ہیں تواللہ تعالٰی انہیں معاف کردیتا ہے ۔

اس لیے کہ حج کی تکمیل یوم عرفہ میں وقوف عرفہ پرہوتی ہے جوکہ حج کاایک عظیم رکن ہے جس کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :

( حج عرفہ ہی ہے ) سنن ترمذی حدیث نمبر ( 889 ) علامہ البانی رحمہ اللہ تعالٰی نے ارواء ( 1064 ) میں اسے صحیح قرار دیا ہے ۔

یوم عرفہ آگ سے آزادی کا دن ہے جس میں اللہ تعالٰی ہر شخص کوآگ سے آزادی دیتے ہیں عرفات میں وقوف کرنے والے اوردوسرے ممالک میں رہنے والے مسلمانوں کو بھی آزادی ملتی ہے ۔

تواس لیے اس سے اگلے دن سب مسلمانوں حاجی اورغیرحاجی سب کے لیے عید ہوتی ہے ۔

اس دن اللہ تعالٰی کے تقرب کے لیے قربانی کرنا مشروع ہے ۔

اس دن کے فضائل کی تلخیص ذیل میں ذکر کی جاتی ہے :

1 - یہ دن اللہ تعالٰی کے ہاں سب سے بہترین دن ہے :

حافظ ابن قیم رحمہ اللہ تعالٰی نے زاد المعاد ( 1 / 54 ) میں کہتے ہیں :

[اللہ تعالٰی کے ہاں سب سے افضل اوربہتر دن یوم النحر ( عیدالاضحی ) کا دن ہے اوروہ حج اکبروالا دن ہے جس کا ذکر اس حدیث میں بھی ملتا ہے جوابوداود رحمہ اللہ تعالٰی نے بیان کی ہے :

( نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے : یقینا یوم النحر اللہ تعالٰی کے ہاں بہترین دن ہے ) سنن ابوداود حدیث نمبر ( 1765 ) علامہ البانی رحمہ اللہ تعالٰی نے صحیح ابوداود میں سے صحیح قرار دیا ہے ۔

2 – یہ حج اکبر والا دن ہے :

ابن عمررضي اللہ تعالٰی عنہما بیان کرتےہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس حج کے دوران جوانہوں نے کیا تھایوم النحر( عید الاضحی ) والے دن جمرات کے درمیان کھڑے ہوکرفرمانے لگے یہ حج اکبر والا دن ہے ۔ صحیح بخاری حدیث نمبر ( 1742 ) ۔

اس کا سبب یہ ہے کہ اس دن حج کے اعمال میں سے سب سے زيادہ اورعظيم عمل کرنے ہوتے ہيں ، حجاج کرام جواعمال اس دن کرتے ہیں وہ ذيل میں ذکرکیے جاتے ہیں :

1 - جمرہ عقبہ کوکنکریاں مارنا ۔

2 - قربانی کرنا ۔

3 - سرمنڈانا یا بال چھوٹے کروانے

4 - طواف کرنا

5 - سعی کرنا

3 - مسلمانوں کی عید کا دن ہے :

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

یوم عرفہ اوریوم النحر اورایام تشریق ہم اہل اسلام کی عید کےدن ہیں اوریہ سب کھانے پینے کے دن ہیں ۔

سنن ترمذی حدیث نمبر ( 773 ) علامہ البانی رحمہ اللہ تعالٰی نے اسے صحیح ترمذی میں صحیح قرار دیا ہے ۔

واللہ اعلم .

مزید دیکھئے[ترمیم]