غزوہ طائف

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

-

غزوہِ طائف
مقام طائف
نتیجہ مسلمان فتح
(سردارِ اہل طائف نے صلح کی درخواست اور محمدﷺ نے قبول کیا )
متحارب
مسلمان اہلِ طائف
قائدین
محمد معاویہ بن نوفل دیلی


غزوہ حنین کے بعد محمدﷺ نے طائف کا رُخ کیا۔وہاں پہنچے تو دشمن (اہل طائف) ایک سال کے خوراک کا انتظام کرکے اپنے آپ کو قلعے میں نظر بند کرچکے تھے۔مسلمانوں کا پڑھاؤ پہلی مرتبہ قریب تھا اسلئے مشرکین نے مسمانوں پر تیر برسا کر ان کو زخمی کردیا۔لہذا وہ اس مقام پر آئے جہاں آج میقات یا طائف کی مسجد ہے۔مسلمانوں نے دشمن کو شکستہ بانے کے لئے بہت تدبیریں کی لیکن فائز نہ ہوسکے۔ خالد بن ولیدؓ نے روزانہ نکل نکل کر دعوتِ مبارزت دی لیکن کوئی نہ مانا۔مشرکین پر مسلمانوں نے منجنیق کو نصب کیا لیکن یہ بھی کارگر نہ رہی۔ مسلمانوں کا ایک جانباز گروہ دبابوں میں گھس کر نقب لگانے کئے قلعے کے دیواروں تک جاپہنچے مگر مشرکین نے ان پر گرم جلتا ہوا لوہا پھینک کر ان کو قاپسی پر مجبور کردیا اور مسلمان نقب نہ لگا سکے۔ مشرکین کے کھجور اور انگور کے درخت کاٹے گئے مگر جب انہوں نے اللہ اور قرابت کا واسطہ دیا تو مسلمانوں نے چھوڑ دیا۔
محمدﷺ نے اعلان کیا کہ جو غلام قلعے سے اتر کر ہمارے پاس آجائے وہ آزاد ہے۔اس اعلان پر ۲۳ غلام اتر آئےان میں ابوبکرہؓ بھی تھے،وہ قلعے کے دیواروں پر چڑھ چڑھ کر ایک چرخی کی مدد سے جس سے رہٹ سے پانی نکالا جاتا ہے سے لتک کر نیچے آگئے۔ اس لئے محمدﷺ نے ان کا کنیت ابوبکرؓ رکھا۔عربی زبان میں چرخی (جس سے بانی نکالا جاتا ہے) کو بکرہ یا بکر کہا جاتاہے۔
اس محاصرے پر بیس (20) دن یا پورا مہینہ لگا۔محاصرے نے بالاخر طول پکڑ لیا۔رسول اللہﷺ نے معاویہ بن نوفل دیلی سے مشورہ کیا ۔ اس نے کہا لومڑی اب بھٹ میں گھس گئی ہے،اگر آپ ڈٹ گئے تو پکڑلیں گے ،لیکن اگر چھوڑ دے تو یہ آپ کا کچھ بگاڑ نہیں سکتی۔یہ سن کر آپﷺ نے کوچ کا اعلان فرمادیابعض لوگوں نے گزارش کی کہ آپﷺ ان پر بددعا دے مگر آپﷺ نے فرمایا ‘‘اے اللہ! بنوثقیف کو ہدایت دے’’۔