فاطر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
فاطر
فاطر
دور نزول مکی
دیگر نام الملائکہ
عددِ سورت 35
عددِ پارہ 22
اعداد و شمار
رکوع 5
تعداد الآیات 45
الفاظ 780
حروف 3,159

قرآن مجید کی 35 ویں سورت جو 22 ویں پارے میں ہے۔ رکوع کی تعداد 5 اور آیات کی تعداد 45 ہے۔

نام[ترمیم]

پہلی آیت ہی میں لفظ "فاطر" اس سورت کا عنوان قرار دیا گیا ہے جس کے معنی صرف یہ ہیں کہ یہ وہ سورت ہے جس میں فاطر کا لفظ آیا ہے۔ دوسرا نام "الملائکہ" بھی ہے اور یہ لفظ بھی پہلی ہی آیت میں وارد ہوا ہے۔

زمانۂ نزول[ترمیم]

انداز کلام کی اندرونی شہادت سے مترشح ہوتا ہے کہ اس سورت کے نزول کا زمانہ غالباً مکۂ معظمہ کا دور متوسط ہے اور اس کا بھی وہ حصہ جس میں مخالفت اچھی خاصی شدت اختیار کر چکی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دعوت کو ناکام کرنے کے لیے ہر طرح کی بری بری چالیں چلی جا رہی تھیں۔

موضوع اور مضمون[ترمیم]

کلام کا مدعا یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دعوت توحید کے مقابلے میں جو رویہ اس وقت اہل مکہ اور ان کے سرداروں نے اختیار کر رکھا تھا اس پر ناصحانہ انداز میں ان کو تنبیہ و ملامت بھی کی جائے اور معلمانہ انداز میں فہمائش بھی۔ مضمون کا خلاصہ یہ ہے کہ نادانو! یہ نبی جس راہ کی طرف تم کو بلا رہا ہے، اس میں تمہارا اپنا بھلا ہے۔ اس پر تمہارا غصہ اور تمہاری مکاریاں اور چال بازیاں اور اس کو ناکام کرنے کے لیے تمہاری تدبیریں اس کے خلاف نہیں بلکہ تمہارے اپنے خلاف پڑ رہی ہیں۔ اس کی بات نہ مانو گے تو اپنا ہی کچھ بگاڑو گے، اس کا کچھ نہ بگاڑو گے۔ وہ جو کچھ تم سے کہہ رہا ہے اس پر غور تو کرو، آخر اس میں غلط کیا بات ہے۔ وہ شرک کی تردید کرتا ہے۔ تم خود آنکھیں کھول کر دیکھو، کیا شرک کے لیے دنیا میں کوئی معقول بنیاد موجودہے؟ وہ توحید کی دعوت دیتا ہے، تم خود عقل سے کام لے کر غور کرو، کیا اللہ فاطر السمٰوات و الارض کے سوا کہیں کوئی ایسی ہستی پائی جاتی ہے جو خدائی صفات اور اختیارات رکھتی ہو؟ وہ تم سے کہتا ہے کہ تم اس دنیا میں غیر ذمہ دار نہیں ہو بلکہ تمہیں اپنے خدا کو اپنے اعمال کا حساب دینا ہے اور اس دنیوی زندگی کے بعد ایک اور زندگی ہے جس میں ہر ایک کو اپنے کیے کا نتیجہ دیکھنا ہوگا۔ تم خود سوچو کہ اس پر تمہارے شبہات اور اچنبھے کس قدر بے اصل ہیں۔ کیا تمہاری آنکھیں رات دن اعادۂ خلق کا مشاہدہ نہیں کر رہی ہیں؟ پھر تمہارا ہی اعادہ اُس خدا کے لیے کیوں نا ممکن ہو جس نے تم کو ایک ذرا سے نطفے سے پیدا کر دیا۔ کیا تمہاری عقل یہ گواہی نہیں دیتی کہ بھلے اور برے کو یکساں نہ ہونا چاہیے؟ پھر تم ہی بتاؤ کہ معقول بات کیا ہے؟ یہ کہ بھلے اور برے کا انجام یکساں ہو، یعنی مٹی میں ملنا اور فنا ہو جانا؟ یا یہ کہ بھلے کو بھلا اور برے کو برا بدلہ ملے؟ اب اگر ان سراسر معقول اور مبنی بر حقیقت باتوں کو تم نہیں مانتے اور جھوٹے خداؤں کی بندگی نہیں چھوڑتے اور اپنے آپ کو غیر ذمہ دار سمجھتے ہوئے شتر بے مہار کی طرح دنیا میں جینا چاہتے ہو تو اس میں نبی کا کیا نقصان ہے۔ شامت تو تمہاری اپنی ہی آئے گی۔ نبی پر صرف سمجھانے کی ذمہ داری ہے اور وہ اس نے ادا کر دی۔

سلسلۂ کلام میں بار بار نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو تسلی دی گئی ہے آپ جب نصیحت کا حق پوری طرح ادا کر رہے ہیں تو گمراہی پر اصرار کرنے والوں کے راہِ راست قبول نہ کرنے کی کوئی ذمہ داری آپ کے اوپر عائد نہیں ہوتی۔ اس کے ساتھ آپ کو یہ بھی سمجھایا گیا ہے کہ جو لوگ نہیں ماننا چاہتے ان کے رویے پر نہ آپ غمگین ہوں اور نہ نہیں راہ راست پر لانے کی فکر میں اپنی جان گھلائیں۔ اس کے بجائے آپ اپنی توجہات ان لوگوں پر صرف کریں جو بات سنے کے لیے تیار ہیں۔

ایمان قبول کرنے والوں کو بھی اسی سلسلے میں بڑی بشارتیں دی گئی ہیں تاکہ ان کے دل مضبوط ہوں اور وہ اللہ کے وعدوں پر اعتماد کر کے راہ حق میں ثابت قدم رہیں۔

گذشتہ سورت:
سبا
سورت 35 اگلی سورت:
یٰس
قرآن مجید

الفاتحہ · البقرہ · آل عمران · النساء · المائدہ · الانعام · الاعراف · الانفال · التوبہ · یونس · ھود · یوسف · الرعد · ابراہیم · الحجر · النحل · الاسرا · الکہف · مریم · طٰہٰ · الانبیاء · الحج · المؤمنون · النور · الفرقان · الشعرآء · النمل · القصص · العنکبوت · الروم · لقمان · السجدہ · الاحزاب · سبا · فاطر · یٰس · الصافات · ص · الزمر · المؤمن · حم السجدہ · الشوریٰ · الزخرف · الدخان · الجاثیہ · الاحقاف · محمد · الفتح · الحجرات · ق · الذاریات · الطور · النجم · القمر · الرحٰمن · الواقعہ · الحدید · المجادلہ · الحشر · الممتحنہ · الصف · الجمعہ · المنافقون · التغابن · الطلاق · التحریم · الملک · القلم · الحاقہ · المعارج · نوح · الجن · المزمل · المدثر · القیامہ · الدہر · المرسلات · النباء · النازعات · عبس · التکویر · الانفطار · المطففین · الانشقاق · البروج · الطارق · الاعلیٰ · الغاشیہ · الفجر · البلد · الشمس · اللیل · الضحیٰ · الم نشرح · التین · العلق · القدر · البینہ · الزلزال · العادیات · القارعہ · التکاثر · العصر · الھمزہ · الفیل · قریش · الماعون · الکوثر · الکافرون · النصر · اللھب · الاخلاص · الفلق · الناس


‘‘http://ur.wikipedia.org/w/index.php?title=فاطر&oldid=722056’’ مستعادہ منجانب