فاطمہ بھٹو

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
فاطمہ مرتضٰی بھٹو
فاطمہ بھٹو
پیدائش 29 مئی 1982 (1982-05-29) ‏(32)
کابل, افغانستان[1]
پیشہ شاعرہ ، لکھاری

فاطمہ بھٹو 29مئی1982ءکو افغان دار الحکومت کابل میں اس وقت پیدا ہوئیں ، جب ان کے والد میر مرتضیٰ بھٹو جلا وطنی کی زندگی گزار رہے تھے۔

خاندانی پس منظر[ترمیم]

فاطمہ بھٹو سابق صدر اور سابق وزیراعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹوکی پوتی جبکہ سابق وزیراعظم پاکستان بے نظیر بھٹو کی بھتیجی ہیں جبکہ ان کی والدہ فوزیہ فصیح الدین بھٹو افغان وزارت خارجہ اہلکار کی بیٹی تھیں ۔سوتیلی والدہ غنویٰ بھٹو اس وقت پاکستان پیپلز پارٹی(شہید بھٹو) کی چیئر پرسن ہیں۔فاطمہ بھٹو کے والد میر مرتضیٰ بھٹو 1996ءمیں اپنی بہن بے نظیر بھٹو کے دور وزارت عظمیٰ میں قتل ہوئے ۔

تعلیم[ترمیم]

فاطمہ بھٹو نے ابتدائی تعلیم دمشق(شام) میں حاصل کی۔1993ءمیں اپنی والدہ غنویٰ بھٹو اور چھوٹے بھائی ذوالفقار بھٹو جونیئر کے ساتھ پاکستان آگئیں ۔ انہوں نے کراچی امریکن اسکول سے او لیول کیا۔ پھر2004ءمیں کولمبیا یونیورسٹی ،نیویارک سے امتیازی نمبروں کے ساتھ گریجویشن کیا ۔گریجویشن میں ان کا خاص مضمون مشرق وسطیٰ میں بولی جانے والی زبانیں اور کلچرتھا۔2005ءمیں انہوں نے اسکول آف اورینٹل اینڈ افریقین اسٹیڈیز سے”ساﺅتھ ایشین گورنمنٹ اور سیاسیات“ میں ماسٹرز کیا۔


تصانیف[ترمیم]

فاطمہ بھٹو شاعرہ اور لکھاری ہیں ، پاکستان ، امریکہ اور برطانیہ کے مختلف اخباروں میں کالم بھی لکھتی ہیں۔1997ء پندرہ برس کی عمر میں فاطمہ بھٹو کا پہلا شعری مجموعی آکسفورڈ یونیورسٹی پریس پاکستان سے شائع ہو اجس کا عنوان WHISPERS OF THE DESERY (صحرا کی سرگرشیاں) تھا۔2006ءمیں دوسری کتاب 8اکتوبر2005ءکو آزاد کشمیر اورصوبہ سرحد میں آنے والے زلزلے کے موضوع پر ” 8:50a.m. 8 October 2005“ کے عنوان سے شائع ہوئی۔جبکہ تیسری کتاب ”Songs of Blood and Sword“ اشاعت ہے۔

دلچسپی[ترمیم]

فاطمہ بھٹو کو سماجی فلاح و بہبود کے کاموں سے گہری دلچسپی ہے، بالخصوص سندھ کی جیلوں میں قید خواتین کے ساتھ ہونےوالا سلوک، ان کی توجہ کا خاص مرکز ہے ۔وہ نہ صرف اس موضوع پر تفصیل کے ساتھ لکھتی رہی ہیں ، بلکہ باقاعدگی کے ساتھ لاڑکانہ ویمنز جیل کا معائنہ بھی کرتی ہیں۔ انہیں کراچی میں کچی آبادیوں میں بسنے والے لوگوں کے مسائل سے بھی گہری دلچسپی ہے ۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ The Broken Bloodline, The Guardian, Jan 11, 2008

https://archive.is/20130113111734/www.dailytimes.com.pk/default.asp?page=2006%5C09%5C15%5Cstory_15-9-2006_pg12_2

http://www.guardian.co.uk/politics/2008/jan/11/women.pakistan

http://76.12.127.225/jang_mag/arc_detail_article.asp?id=7449