فریڈریکٹن (نیو برنزوک)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
Fredericton
شعار: "Fredericopolis, silvae filia nobilis"  (لاطینی زبان)
"Fredericton, noble daughter of the forest"
فریڈَراِکٹن، جنگل کی عالی نسب بیٹی
فریڈریکٹن (نیو برنزوک) is located in New Brunswick
نیو برنزوک میں فریڈراکٹن کا وقوع
متناسقات: 45°57′00″N 66°40′00″W / 45.95°N 66.666667°W / 45.95; -66.666667
ملک کینیڈا
صوبہ نیو برنزویک
ضلع یارک ضلع
قائم شدہ 1785
حکومت
 - ناظمِ شہر بریڈ وُڈسائیڈ
 - حکومتی جسم فریڈیریکٹن شہری مجلس
رقبہ
 - شہر 130.68 کلومیٹر2 (50.5 میل2)
 - بلدیاتی رقبہ 4,521.72 کلومیٹر2 (1,745.8 میل2)
بلندی 20 میٹر (66 فٹ)
آبادی (2006)
 - شہر 50,535
 کثافتِ آبادی 386.7/کلومیٹر2 (1,001.5/میل2)
 بلدیہ 85,688
نام آبادی Frederictonian
منطقۂ وقت اوقیانوس (AST) (یو ٹی سی-4)
 - موسمِ گرما (د‌ب‌و) Atlantic Daylight Time (ADT) (یو ٹی سی-3)
امدِ ڈاک رمز E3A, E3B, E3C
NTS نقشہ 021G15
GNBC رمز DAFMJ
ویب سائٹ http://www.fredericton.ca/


فریڈریکٹن کینیڈا کے صوبے نیو برنزوک کا دارلخلافہ اس لئے ہے کہ یہاں صوبائی پارلیمان قائم ہے۔ ثقافتی، فنون لطیفہ اور تعلیمی مرکز ہونے کی حیثیت سے فریڈریکٹن میں تین یونیورسٹیاں اور بیور بروک آرٹ گیلری بھی موجود ہیں۔ اس کے علاوہ یہاں یارک سنبری میوزیم اور دی پلے ہاؤس بھی موجود ہیں۔ یہاں سالانہ ہارویسٹ جاز اور بلیوز کا فیسٹول لگتا ہے جو علاقائی اور بین الاقوامی جاز اور بلیوز کے فنکاروں کو اکٹھا کرتا ہے۔ صوبائی دارلخلافہ ہونے کی وجہ سے اس کی معیشت کا دارومدار پبلک سیکٹر پر ہے تاہم شہر کا اپنا بڑھتا ہوا آئی ٹی اور کمرشل کا سیکٹر بھی موجود ہے۔ شہر میں اعلٰی و ثانوی تعلیم یافتہ افراد کی بلند ترین شرح ہے اور یہ ملک گیر سطح پر سب سے زیادہ فی کس آمدنی والے شہروں میں سے ایک ہے۔

2006 کی مردم شماری میں شہر کی آبادی 50535 افراد تھی اور مضافات کو ملا کر یہاں کی کل آبادی 85688 افراد بنتی ہے۔

یکم جولائی 1945 کو شہر کی پہلی بار توسیع ہوئی جب اسے ڈیون کے شہر سے ملا دیا گیا۔ بعد ازاں اس میں سلور وڈ، نشواکسس، بارکرز پوائنٹ اور میرز ولے بھی شامل ہو گئے۔

یہ شہر صوبے کے مغربی وسطی علاقے میں ہے اور مونکٹن اور سینٹ جوز کے ساتھ ساتھ جنوبی نیو برنزوک کے بڑے شہروں میں سے ایک ہے۔ سینٹ جون کا دریا مغرب سے مشرق کو بہتا ہے اور شہر کو دو حصوں میں تقسیم کرتا جاتا ہے۔

تاریخ

مقامی، فرانسیسی اور ابتدائی برطانوی آباد کار[ترمیم]

موجودہ دور کے فریڈریکٹن شہر کا علاقہ پہلے پہل موسمی بنیادوں پر میکماق اور مالیسیٹ لوگوں کے استعمال میں ہوتا تھا۔ مکئی یہاں کی بنیادی فصل تھی۔ مزے کی بات یہ کہ یہ جگہ مقامی قبائل کے لئے ایک طرح سے دارلحکومت کا کام دیتی تھی۔ آکپاک، مقامیوں کا اہم شہر موجود شہر سے چند کلومیٹر دور موجود تھا۔

17ویں صدی میں فرانسیسی یہاں آنے والے پہلے یورپی تھے جنہوں نے جوشوا جے ماہونی کو یہ زمین عطا کی۔ 1692 میں اس نے سینٹ جون دریا کے شمالی کنارے پر قلعہ بنایا۔ یہ نشواک کا قلعہ فرانسیسی کالونی اکاڈیا کا صدر مقام بھی تھا۔ 1700 میں ماہونی کی موت کے بعد آنے والے تباہ کن سیلاب میں قلعے کو خالی کر دیا گیا تھا۔

فریڈریکٹن کے علاقے کو پہلے پہل پوائنٹ سینٹ این کے نام سے 1732 میں اکاڈین لوگوں نے بسایا تھا۔ یہ لوگ نووا سکوشیا سے برطانویوں کے قبضے کے بعد نکل بھاگے تھے۔ اس وقت کا شہر دریا کے جنوبی کنارے پر واقع تھا جو فورٹ نشواک سے ایک میل دریا کی بالائی جانب واقع ہے۔ 1755 میں برطانویوں نے اس شہر پر بھی قبضہ کر لیا اور اس شہر کو تباہ کر دیا۔ 1762 میں برطانویوں کی جانب سے یہاں آبادکاری ناکام رہی کیونکہ مقامی قبائل اور اکاڈین لوگ کافی خونخوار ثابت ہوئے تھے۔ نتیجتاً آبادکاروں کو دریا کے نیچے کی جانب ایک اور شہر آباد کرنا پڑا جو میجرولے کے نام سے مشہور ہے۔ تاہم 1768 میں کھالوں کے تین تاجر یہاں آباد ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

وفادار اور فریڈریکٹن کا سنگ بنیاد[ترمیم]

1783 میں متحدہ برطانیہ کے وفادار امریکی جنگ انقلاب کے بعد میجرولے میں آباد ہو گئے۔ تاہم ان کی اکثریت پہلے شدید موسم سرما کی تاب نہ لا کر مر گئے۔ ان افراد کو وفاداروں کے قبرستان میں دفن کر دیا گیا جو ابھی بھی سینٹ جون دریا کے جنوبی کنارے پر واقع ہے۔ موسم بہار کی آمد کے ساتھ ہی بچے کھچے وفادار شہر سے باہر نکلے اور الاٹ شدہ نئی جگہوں پر جا کر بس گئے۔

1784 میں جب نیو برنزوک کو نووا سکوشیا سے الگ کالونی کا درجہ دیا گیا تو پارٹاؤن کی بجائے سینٹ این پوائنٹ صوبائی دارلخلافہ بنا۔ پارٹاؤن موجودہ دور کا سینٹ جون شہر ہے۔ سینٹ این پوائنٹ کے انتخاب کی وجہ اس کا مرکز میں واقع ہونا تھا جس کی وجہ سے یہاں امریکیوں کے حملے کا کم خطرہ تھا۔ یہاں سڑکوں کا نقشہ بنایا گیا اور کنگز کالج بنایا گیا۔ بعد ازاں شہر کا نام بدل کر فریڈریکس ٹاؤن رکھ دیا گیا۔ یہ نام برطانوی بادشاہ جارج سوئم کے بیٹے شہزادہ فریڈرک آگسٹس، ڈیوک آف یارک کے نام پر رکھا گیا۔ کچھ عرصے کے بعد شہر کا نام مزید مختصر کر کے فریڈریکٹن کر دیا گیا۔ 25 اپریل 1785 کو اسے نیو برنزوک کا دارلخلافہ بنا دیا گیا۔ اس طرح تین سال کے عرصے میں کم آباد شہر سے اسے نیو برنزوک کی نئی کالونی کے صوبائی دارلحکومت کا درجہ مل گیا۔

جن وجوہات کی بنا پر فریڈریکٹن کو صوبائی دارلخلافہ بنایا گیا، انہی وجوہات کی بنا پر یہاں فوجی تنصیبات بنائی گئیں۔ اس دور کی فوجی عمارات آج بھی قائم ہیں اور سیاحوں کی دلچسپی کا باعث ہیں۔

1788 میں صوبائی قانون ساز اسمبلی کی عمارات بنائی گئی جو 1880 میں آگ لگنے سے تباہ ہو گئی۔ دو سال بعد قانون ساز اسمبلی کی موجودہ عمارات تعمیر ہوئی۔ 19ویں اور 20ویں صدی 1848 میں کرائسٹ چرچ کیتھیڈرل بنا جس کی وجہ سے فریڈریکٹن کو شہر کا درجہ دے دیا گیا۔

مالیسیت کو سینٹ میری کی قدیم قوم مانا جاتا ہے، کی آبادی دریا کے شمالی جانب 1847 میں قائم ہوئی۔ تاہم جوں جوں فریڈریکٹن بڑھتا اور پھیلتا گیا، سینٹ میری کی جگہ کم ہوتی گئی اور بالآخر فریڈریکٹن اس کے چاروں طرف چھا گیا۔

1945 میں ڈیون شہر کے انضمام سے قبل تک شہر کی حدود دریا کی جنوبی سمت تک ہی محدود تھیں۔ جنگ کے بعد شہر کی آبادی بڑھتی گئی اور نئی آبادیاں قائم ہوئیں۔ اس ترقی کی وجہ یونیورسٹیاں اور صوبائی حکومت تھی۔

1973 میں کئی نئی بیڈ روم کمیونیٹیاں بنیں۔ بیڈ روم کمیونٹی سے مراد ایسا مضافاتی علاقہ جہاں آپ جا کر اپنے خاندان کے ساتھ رات بسر کر سکیں۔ مقامی لوگ شہر کے شمالی اور جنوبی حصے کی بات کرتے ہیں تاہم ان علاقوں کو ان کے ناموں سے بھی جانا جاتا ہے۔

جغرافیہ اور موسم[ترمیم]

فریڈریکٹن دریائے سینٹ جون کے نچلے سرے پر واقع ہے اور جنگ کے بعد شہر کی زیادہ تر ترقی اور آبادی کا پھیلاؤ دریا کے دونوں کناروں کی پہاڑیوں پر ہوا ہے۔

سطح سمندر سے اوسطاً 17 میٹر کی بلندی پر یہ شہر پینسلوانین بیسن پر موجود ہے۔ فریڈریکٹن کے آس پاس بے پناہ آبی ذخائر اور قابل کاشت زرخیز زمین ہے جس کی وجہ سے یہ زراعت کے لئے انتہائی موزوں ہے۔ سینٹ جون کا دریا اور اس کی شاخیں فریڈریکٹن میں آ کر ملتے ہیں۔ شہر کے غیر آباد حصے گھنے جنگلات سے بھرے ہوئے ہیں۔ کینیڈا کے دیگر حصوں کے برعکس یہاں ہلکا پھلکا موسم ہوتا ہے۔ تاہم سمندر سے دوری کی وجہ سے ساحلی علاقوں کا موسم اس سے بہتر ہوتا ہے۔ جنوری کا اوسط درجہ حرارت -15 ڈگری اور جولائی اگست میں اوسط درجہ حرارت 26 ڈگری رہتا ہے۔ شہر میں برف اور پانی کی اچھی خاصی مقدار سالانہ پڑتی ہے تاہم بے پناہ برفباری، طوفان باد و باراں، ہری کین وغیرہ یہاں کبھی کبھار ہی آتے ہیں۔ اوسطاً یہاں 1100 ملی میٹر برف اور پانی سالانہ گرتے ہیں۔ نومبر کے آخر سے لے کر اپریل کے شروع تک برف پڑتی ہے اور دسمبر کے شروع میں زمین پر برف جمنا شروع ہو جاتی ہے۔ بہار میں علاقائی دریاؤں میں سیلاب آ جاتا ہے اور شہر کے نشیبی علاقے متائثر ہوتے ہیں۔

تعلیم اور ریسرچ

یورنیورسٹیاں اور کالج[ترمیم]

فریڈریکٹن کے تعلیمی مرکز ہونے کا اندازہ یہاں موجود تین یونیورسٹیوں سے ہو سکتا ہے جو نیو برنزوک، یارک ول اور سینٹ تھامس کی یونیورسٹیاں ہیں۔

نیو برنزوک کی یونیورسٹی 1785 میں بنی اور یونیورسٹی آف جارجیا کے ساتھ یہ شمالی امریکہ کی قدیم ترین پبلک یونیورسٹیوں میں سے ایک ہے۔ یونیورسٹی کی عمارت 1826 میں بنائی گئی تھی جو ابھی تک استعمال میں ہے۔ یہ کینیڈا کی کسی بھی یونیورسٹی کی سب سے پرانی عمارت ہے۔

سینٹ تھامس صوبے کی واحد کیتھولک یونیورسٹی ہے اور 1964 سے فریڈریکٹن میں قائم ہے۔ اس سے قبل یہ چیتھم میں قائم تھی۔

سکول سسٹم[ترمیم]

فریڈریکٹن کے سکول ڈسٹرکٹ نمبر 18 کے ماتحت کام کرتے ہیں۔ یہاں تین پبلک ہائی سکول ہیں جن میں سے دو انگریزی اور ایک فرانسیسی میں تعلیم دیتا ہے۔ فریڈریکٹن ہائی سکول جو کبھی دولت مشترکہ کا سب سے بڑا ہائی سکول تھا، شہر کی جنوب میں آباد لوگوں کو تعلیم دیتا ہے۔ 1785 میں شروع ہونے والا یہ سکول کینیڈا کا قدیم ترین سکول ہے۔ 1985 میں اس کے دو سو سال مکمل ہونے کا جشن منایا گیا تھا۔ ڈسٹرکٹ نمبر 18 کا دفتر یہاں موجود ہے۔

لیو ہیز ہائی سکول جو 1999 میں قائم ہوا، شہر کی شمالی آبادی کے لئے کام کرتا ہے۔ یہاں 4 مڈل سکول، 14 ایلیمنٹری سکول اور تین پرائیوٹ سکول بھی ہیں۔

یہاں فرانسیسی آبادی کے لئے کنڈرگارڈن سے لے کر بارہویں جماعت تک فرانسیسی سکول بھی موجود ہے۔

ریسرچ[ترمیم]

فریڈریکٹن میں کئی اہم ریسرچ سینٹر موجود ہیں جو پالیسی بنانے، زراعت، جنگلات اور انجینئرنگ سے متعلق ہیں۔ یہ ادارے شہر کی دونوں یونیورسٹیوں اور وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے بھی منسلک ہیں۔

معیشت[ترمیم]

19ویں اور 20ویں صدی میں لمبر کی صنعت اور اس سے متعلق ملیں فریڈریکٹن کی معیشت کا اہم جزو تھیں۔ 20ویں صدی کے اختتام پر یہ صنعت زوال پذیر ہوئی اور صوبائی حکومت اور یونیورسٹیوں کا کردار بطور آجرین کے، زیادہ اہم ہو گیا۔

1960 کی دہائی میں نیو برنزوک کی یونیورسٹی میں توسیع ہوئی اور جنگ کے بعد ہونے والے داخلوں میں اضافے اور سینٹ تھامس یونیورسٹی کے فریڈریکٹن کیمپس کے قیام سے بھی یہاں کی آبادی بڑھی۔ قانون کی تعلیم کے سکول کی یہاں منتقلی بھی اہم ہے۔

حالیہ برسوں میں طلبا کی تعداد میں اضافے سے کرائے کی عمارتوں کی مانگ بڑھی ہے۔ اس وجہ سے شہر میں یونیورسٹی کے لئے نئی رہائشی عمارات بنائی گئی ہیں اور کرائے بھی بڑھے ہیں۔ اس وقت ان عمارتوں کا کرایہ صوبے بھر میں سب سے زیادہ ہے۔

شہر میں یونیورسٹیوں اور حکومتی دفاتر کی وجہ سے یہاں صوبے کے دیگر شہروں کی طرح معاشی بحران نہیں آئے جو ان شہروں میں ملوں کی بندش اور ماہی گیری میں کمی کی بنا پر آئے تھے۔ مونکٹن اور ہیلی فیکس کی طرح یہ شہر بھی اٹلانٹک کینیڈا کے ان چند شہروں میں سے ایک ہے جہاں حالیہ برسوں میں آبادی بڑھی ہے۔

حالیہ برسوں میں صوبائی حکومت یہاں زیادہ سے زیادہ تارکین وطن لانا چاہتی ہے تاکہ ان کی لیبر فورس بڑھے۔ اسی طرح سرمایہ کاری کے لئے بھی نت نئے مواقع پیدا کئے جا رہے ہیں۔

حکومت

انتظامی ڈھانچہ[ترمیم]

فریڈریکٹن میں میئر کونسل اور غیر جانب دار طرز کی حکومت ہوتی ہے۔ میئر اور کونسل چار سال کے لئے منتخب ہوتے ہیں۔ انتخابات مئی کے مہینے میں منعقد ہوتے ہیں۔ آخری بار انتخابات 2004 میں ہوئے تھے۔ موجودہ میئر براڈ وڈ سائیڈ ہیں جو 1986 سے 1999 تک میئر رہے اور پھر بعد میں 2004 میں دوبارہ میئر چنے گئے۔ انہیں مئی 2008 میں ایک بار پھر سے میئر چنا گیا۔

شہر میں کل 12 وارڈ ہیں جن میں سے ہر ایک سے ایک کونسلر چنا جاتا ہے۔

کسانوں کی مقامی مارکیٹ میں عموماً سیاست دان اور کونسلر اپنے ووٹروں سے ملتے ہیں۔ اس کو اب روایت کی حیثیت حاصل ہو گئی ہے۔ یہ بازار ہفتے کے دن لگتا ہے۔ پارلیمنٹ کے مقامی ممبر بھی اکثر یہاں موجود ہوتے ہیں۔

فریڈریکٹن کی میونسپل سیاست[ترمیم]

فریڈریکٹن کی آبادی میں قدامت پرست اور آزاد خیال دونوں ہی موجود ہیں۔ یہاں کافی بڑی اور متحرک ہم جنس پرست کمیونٹی موجود ہے۔ سیاسی طور پر شہر قدامت پرست اور آزاد خیال لوگوں میں بٹا ہوا ہے۔ یونیورسٹیوں کے احتجاجی گروپ بعض اوقات یہاں احتجاج کرتے رہتے ہیں۔

آبادی کی خصوصیات[ترمیم]

شہر کی کل آبادی 50535 افراد ہے تاہم غیر سرکاری نتائج کے مطابق یہ تعداد 59500 افراد ہے۔ یہ فرق غیر ملکی طلباٗ کی وجہ سے ہے جو یہاں زیر تعلیم ہیں۔ مونکٹن اور ہیلی فیکس کے بعد فریڈریکٹن تیسرا میری ٹائم شہر ہے جس کی آبادی حالیہ برسوں میں بڑھ رہی ہے۔

نسل[ترمیم]

فریڈریکٹن کی آبادی کا بہت بڑا حصہ سفید فام ہے تاہم شہر میں طویل عرصے سے سیاہ فام افراد بھی آباد ہیں۔ غیر سفید فام افراد کی سب سے بڑی تعداد مقامی قبائل سے تعلق رکھتی ہے جو سینٹ میری میں رہتے ہیں۔

1960 اور 1970 کی دہائیوں میں یہاں ایشیا اور مشرق وسطہ سے تارکین وطن یہاں آنے لگے ہیں۔ تاہم ان کی تعداد اب بھی کافی کم ہے۔ 2000 سے یہاں کی سینٹ تھامس اور نیو برنزوک کی یونیورسٹیوں میں غیر ملکی طلباٗ کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ تاہم یہ تعداد مستقل نہیں اور سرکاری اعداد و شمار میں نہیں آتی۔

آبادی میں نسلی اعتبار سے تعداد کچھ یوں ہے:

  • سفید فام 97.4 فیصد
  • مخلوط النسل 0.8 فیصد
  • چینی 0.5 فیصد
  • ایشیائی 0.5 فیصد
  • سیاہ فام 1 فیصد

مذہب[ترمیم]

فریڈریکٹن کے باسیوں کی بہت بڑی تعداد عیسائی ہے جن میں پروٹسٹنٹ فرقے کے لوگ اکثریت میں ہیں۔ شہر اپنے ڈھیر سارے چرچوں کی وجہ سے مشہور ہے جو فی کس تعداد کے حساب سے کینیڈا بھر میں سب سے زیادہ ہے۔ رومن کیتھولک لوگ یہاں زیادہ نہیں، شہر میں ایک رومن کیتھولک یونیورسٹی موجود ہے جسے سینٹ تھامس یونیورسٹی کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یونیورسٹی میں آج کل یہ بحث چل رہی ہے کہ آیا یونیورسٹی کو زیادہ سے زیادہ کیتھولک رخ اختیار کرنا چاہیئے۔

فریڈریکٹن میں سیناگاؤچ، مسجد اور ہندو مندر بھی موجود ہے۔ آج کل انتخابات میں امیدوار ان مذہبی مقامات کا دورہ کر کے ووٹ مانگتے ہیں جس سے ان کی اہمیت بڑھتی جا رہی ہے۔ شہر میں ایک وحدانیت کا پرچار کرنے والا ادارہ موجود ہے جو آزاد خیال مذہبی لوگوں کے لئے دلچسپی کا باعث ہے۔

مذہبی بنیادوں پر فریڈریکٹن کچھ ایسے ہے:

  • 52 فیصد پروٹسٹنٹ
  • 29.6 فیصد رومن کیتھولک
  • 2.1 فیصد دیگر عیسائی
  • 1.6 فیصد غیر عیسائی
  • 17.4 فیصد لادین

زبان[ترمیم]

بہت بڑی انگریزی زبان بولنے والی آبادی کے باوجود فرانسیسی بولنے والے افراد کے لئے خدمات کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ ان میں پرائمری سکول، ریڈیو سٹیشن، عوامی لائبریری اور ثقافتی سینٹر شامل ہیں۔ ریجنٹ سٹریٹ پر فرانسیسی چرچ بھی موجود ہے۔ زبان کے اعتبار سے فریڈریکٹن کچھ ایسے ہے:

  • 75.6 انگریزی
  • 23.6 انگریزی اور فرانسیسی
  • 0.5 فرانسیسی
  • 0.3 دیگر

ٹرانسپورٹ

ہوائی اڈا[ترمیم]

ایئر سروس کے لئے گریٹر فریڈریکٹن انٹرنیشنل ایئرپورٹ موجود ہے جو لنکن کے ڈاؤن ٹاؤن سے پندرہ کلومیٹر دور مشرق کی جانب ہے۔ یہاں ایئر کینیڈا (ٹورنٹو، مانٹریال اور ہیلی فیکس) اور ایئر ٹرانزٹ (لندن گیٹ وک) کام کرتی ہیں۔

پبلک ٹرانزٹ، سڑکیں، ہائی وے، ریل اور آبی ذرائع[ترمیم]

فریڈریکٹن میں ریل موجود نہیں۔ 1960 کے اوائل میں مسافر بردار ٹرینیں ختم کر دی گئی تھیں۔ تاہم 1981 میں دوبارہ شروع کر کے 1985 میں اسے دوبارہ بند بھی کر دیا گیا تھا۔ 1996 میں مال بردار سروس بھی ختم کر دی گئی اور ریلوے کی تمام پٹڑیاں فالتو قرار دے کر ہٹا دی گئی ہیں۔ اس طرح سینٹ جونز اور چارلیٹ ٹاؤن کے بعد یہ شہر تیسرا صوبائی صدر مقام بنا ہے جہاں ریل موجود نہیں۔ فریڈریکٹن شہر میں اکاڈین انٹر سٹی بس لائنیز موجود ہیں جو کینیڈا کے مشرقی اور امریکہ کے شمال مشرقی شہروں سے فریڈریکٹن کو ملاتی ہیں۔

فریڈریکٹن ٹرانس کینیڈا ہائی وے پر واقع ہے جو شہر کے جنوبی سرے سے گذرتی ہے۔ روٹ 7 اور روٹ 8 بھی شہر سے گذرتے ہیں۔ ہائی وے کے دو پل سینٹ جون دریا پر موجود ہیں۔ شہر کا اپنا سڑکوں کا نظام کافی عمدہ ہے اور یہاں ٹریفک جام شاذ و نادر ہی دکھائی دیتا ہے۔

ریجنٹ سٹریٹ پر نیو میری لینڈ کی کمیونٹی کو جانے والی سڑک پر ٹریفک کے مسائل ہوتے ہیں تاہم کئی جگہوں پر اسے چار رویہ کیا گیا تاکہ ٹریفک کے مسائل پر قابو پایا جا سکے۔

ڈاؤن ٹاؤن کی سڑکیں باقاعدہ نقشے سے بنائی گئی ہیں اور یہاں بعض جگہوں پر ٹریفک کے گول چکر موجود ہیں تاکہ ٹریفک کی رفتار کم ہو جائے اور زیادہ رش نہ پیدا ہو۔ کچھ علاقوں میں تیز رفتار ٹریفک کو قابو کرنے کے لئے بمپ بنائے گئے ہیں۔

فریڈریکٹن کا ٹرانزٹ سسٹم شہر کے زیادہ تر حصے کو سنبھالتا ہے۔ شہر کی تمام بسوں میں بائیسکل کے رکھنے کے ریک ہوتے ہیں تاکہ گرمیوں میں سائیکل سوار بھی بس استعمال کر سکیں۔ سابقہ بجٹ میں شہری علاقوں کی ترقی کے لئے الگ سے رقم مختص کی گئی ہے جس کا کچھ حصہ شہری بسوں کی دیکھ بھال اور بہتری پر استعمال ہوگا۔

فریڈریکٹن میں ٹیکسیوں کی کئی کمپنیاں کام کرتی ہیں۔

2006 سے فریڈریکٹن کے پانی میں فلورائیڈ نہیں ملایا جاتا تاہم اس سے اضافی میگنیز نکال لیا جاتا ہے اور پانی میں کلورین ملائی جاتی ہے۔

فریڈریکٹن کا ٹریل سسٹم[ترمیم]

فریڈریکٹن میں غیر مشینی استعمال کے لئے بہت زیادہ ریل ٹریل موجود ہیں جو تفریحی مقاصد کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔

جب ریل کمپنیوں نے کام بند کیا تو انہوں نے ریل کے ٹریک کو صوبائی حکومت کو بیچ دیا جو اسے غیر مشینی اور تفریحی مقاصد کے لئے استعمال کرتی ہے۔ یہاں لوگ پیدل چلنے، سائیکل سواری اور دوڑنے کے لئے اور اور بھی بہت سارے مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہیں۔

جڑواں شہر[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]