فضائی مکوک

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
Space Shuttle
Space Shuttle Discovery launches at the start of STS-120.
Space Shuttle Discovery launches at the start of STS-120.
Function Manned partially re-usable launch and reentry system
Manufacturer United Space Alliance:
Thiokol/Alliant Techsystems (SRBs)
Lockheed Martin (Martin Marietta) – (ET)
Rockwell/Boeing (orbiter)
Country of origin Flag of the United States.svg ریاستہائے متحدہ امریکہ
Size
Height 184 ft (56.1 m)
Diameter 28.5 ft (8.69 m)
Mass 4,470,000 lb (2,030 t)
Stages 2
Capacity
Payload to LEO 24,400 kg (53,600 lb)
Payload to
GTO
3,810 kg (8,390 lb)
Launch history
Status Active
Launch sites LC-39, Kennedy Space Center
SLC-6, Vandenberg AFB (unused)
Total launches 129
Successes 128
Failures 1 (launch failure, Challenger)
Other 1 (re-entry failure, Columbia)
Maiden flight April 12, 1981
Notable payloads Tracking and Data Relay Satellites
Spacelab
Great Observatories
Galileo
Magellan
Space Station components
Boosters (Stage 0) - Solid Rocket Boosters
No boosters 2
Engines 1 solid
Thrust 2,800,000 lbf each, sea level liftoff (12.5 MN)
Specific impulse 269 s
Burn time 124 s
Fuel solid
First stage - External Tank
Engines (none)
(3 SSMEs located on Orbiter)
Thrust 1,225,704 lbf total, sea level liftoff (5.45220 MN)
Specific impulse 455 s
Burn time 480 s
Fuel LOX/LH2
Second stage - Orbiter
Engines 2 OME
Thrust 53.4 kN combined total vacuum thrust (12,000 lbf)
Specific impulse 316 s
Burn time 1250 s
Fuel MMH/N2O4

فضائی مکوک (space shuttle) ایک ایسی مکوک کو کہا جاتا ہے کہ جسے فضاء میں نقل و حمل کے لیئے استعمال کیا جاتا ہو؛ یعنی اس بات کو یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ فضائی مکوک اصل میں فضائی نقل و حمل کا ایک وسیلہ ہے جسے امریکی ادارے ناسا کی جانب سے جاری کیا جاتا ہے۔ مکوک کو فارسی (قدیم) میں مکو بھی کہا جاتا ہے اور یہ دونوں الفاظ ؛ مکوک اور مکو اردو میں بھی مستعمل ملتے ہیں۔ فضائی مکوک کو انسانی فضائی پرواز کے مقاصد میں استعمال کیا جاتا ہے؛ ابتدائی چار فضائی مکوک اپنی نوعیت میں اختباری تھیں جو 1981ء چلائی گئیں جبکہ ان کے بعد 1982ء میں اشتغالیہ پروازوں (operational flights) کا آغاز ہوا۔

ناسا کے خلائی جہاز جنہیں انگریزی میں سپیس ٹرانسپورٹیشن سسٹم بھی کہا جاتا ہے، امریکی حکومت انسان بردار خلائی جہاز کے طور پر استعمال کرتی ہے۔ دو پروں والے اس خلائی جہاز کو عمودی انداز میں اڑایا جاتا ہے۔ عموماً ہر پرواز میں ۵ سے ۷ تک خلاباز ہوتے ہیں تاہم بعض اوقات ۸ خلاباز بھی جہاز میں بٹھائے گئے ہیں۔ انسانوں کے علاوہ ۵۰۰۰۰ پاؤنڈ یعنی ۲۲۷۰۰ کلو وزن کو بھی یہ خلائی جہاز خلا میں نچلے مدار تک لے جاتی ہے۔ جب ان کا مقصد پورا ہو جاتا ہے تو یہ خلائی جہاز خود کو مدار سے الگ کر لیتے ہیں۔ اس مقصد کے لئے ان میں خصوصی انجن لگے ہوتے ہیں۔ مدار سے الگ ہونے کے بعد یہ جہاز زمین کی فضاء میں دوبارہ داخل ہو جاتے ہیں۔ اترنے کے دوران خلائی جہاز گلائیڈر کی طرح کام کرتے ہوئے اپنے اڑان کے نظام کی مدد سے اترتا ہے۔

سپیس شٹل دنیا کا واحد پر دار خلائی جہاز ہے جو خلائی مدار تک پہنچ اور واپس آ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ واحد خلائی جہاز ہے جو ایک سے زیادہ مرتبہ استعمال ہو سکتا ہے۔ اس کے مقاصد میں مختلف مداروں تک آنا جانا، خلائی مرکز تک خلاباز اور آلات اور خوراک وغیرہ پہنچانا شامل ہے۔ اس کے علاوہ کئی مصنوعی سیاروں کو اس جہاز کی مدد سے زمین پر واپس لایا گیا ہے تاہم اس مقصد کے لئے خلائی جہاز کا استعمال انتہائی کم ہوتا ہے۔ ان خلائی جہازوں کی مدد سے بین الاقوامی خلائی مرکز سے بڑی مقدار میں سامان واپس زمین پر لایا جاتا ہے۔ روسی خلائی جہاز سویوز میں خلائی مرکز سے سامان زمین پر لانے کی گنجائش بہت کم ہے۔ ہر خلائی جہاز سو مرتبہ استعمال یا دس سال کی مدت کے لئے بنایا گیا تھا۔

ان خلائی جہازوں کا منصوبہ ۱۹۶۰ کی دہائی کے اواخر میں شروع کیا گیا تھا۔ ۱۹۷۰ کی دہائی میں ناسا کے لئے انسان بردار خلائی سفر کے لئے یہی جہاز استعمال ہوئے تھے۔ ویژن فار سپیس ایکسپلوریشن کے مطابق ان خلائی جہازوں کا استعمال ۲۰۱۰ میں بین الاقوامی خلائی مرکز کی تعمیر کے بعد ختم کر دیا جانا تھا۔ ناسا کا منصوبہ ہے کہ ان خلائی جہازوں کی بجائے اورین نامی خلائی جہاز استعمال کیے جائیں تاہم فی الوقت مالی مشکلات کے سبب یہ منصوبہ تاخیر کا شکار ہے۔