فقیر ایپی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
فقیر ایپی (مرزا علی خان)

فقیر ایپی (1897ء تا 1960ء) جن کا اصل نام مرزا علی خان تھا، شمالی وزیرستان کے ایک پشتون تھے۔ان کے معتقدین ان کو حاجی صاحب کہتے تھے۔

برطانیہ کے خلاف جہاد[ترمیم]

فقیر ایپی نے 1930ء سے لے کر 1947ء تک برطانوی سامراج کے خلاف گوریلا کاروائیاں جاری رکھیں اور ان کی ناک خاک میں ملائے رکھی۔ ایک وقت میں تو 40،000 برطانوی افواج بھی ان کو گرفتار کرنے میں ناکام رہیں۔ عجیب بات یہ ہے کہ صرف 1000 افراد اور معمولی اسلحہ کے باوجود انہوں نے گوریلا کاروائیاں کامیابی سے جاری رکھیں۔ فقیر ایپی کو انگریز بھی ایک قابل عزت دشمن اور اصول پرست شخص مانتے ہیں۔ انہوں نے موجودہ دور کے برخلاف کسی غیر ملکی طاقت کی مدد قبول نہ کی۔ مارچ 1936ء میں ایک ہندو لڑکی رام کوری جس کا اسلامی نام اسلام بی بی رکھا گیا نے ایک مسلمان سید امیر نور علی شاہ سے شادی کی جن کا تعلق بنوں سے تھا۔ انگریزوں نے اپنے روایتی تعصب سے کام لیتے ہوئے طوری خیل قبائل اور مدہ خیل قبائل پر نہائت دباؤ ڈالا کہ اس لڑکی کو واپس کیا جائے۔ پشتونوں نے کہا کہ لڑکی اپنی مرضی جرگہ کے سامنے بتائے مگر انگریز خفیہ طور پر اس لڑکی کو اغوا کرنے میں کامیاب ہو گئے اور بنوں کے انگریز ڈپٹی کمشنر نے سید امیر نور علی شاہ کو گرفتار کر کے انگریزی قوانین کے مطابق سزا دلوائی۔ اس سے وزیرستان میں آگ بھڑک اٹھی اور فقیر ایپی نے انگریزوں کے خلاف بڑی کاروائیاں کیں۔

مفصل واقعات[ترمیم]

حاجی امیر زعلی خان جو بعد میں فقیر آف ایپی مشہور ہوئے قبیلہ طوری خیل وزیر سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ موضع اپپی میں ارسلا خان کے ہاں پیدا ہوئے۔ ابتداء ہی سے طبعیت میں سادگی ، درویشی اور خلوص پایا جاتا تھا۔ دینی شوق انہیں بنوں لے آیا۔ علاقہ نورڑ بنوں میں حصول دینی تعلیم کے لیے ایک دینی مدرسے میں داخل ہوئے ۔ انہیں دنوں اسلام بی بی کا واقعہ پیش آیا۔ وہ بہت ٹھنڈے دل او رمعتدل مزاج کے انسان تھے۔ وہ جلد اشتعال میں آنے والے انسان نہ تھے انہوں نے اس واقعے پر فوری جذباتی ردعمل نہ دکھایا۔ وہ انہیں دنوں نورڈ سے شہر بنوں آرہے تھے کہ شہر بنوں کی ایک مسجد (ٹانچی بازار) کے بڑے دروازے کے سامنے جم غفیر جمع تھی وہ ادھر متوجہ ہوئے معلوم ہوا کسی غیر مسلم نے تحریر کردہ کلمہ طیبہ پر غلاظت ملی ہے وہ سمجھا کہ یہ ہنود اور عیسائیوں کی مشترکہ شرارت ہے اب ان سے رہا نہ گیا۔ فیصلہ کیا کہ ان حالات میں جب اسلام کو حقیقی خطرہ لاحق ہو۔ چپ سادھ لینا اور کچھ نہ کرنا جرم اور گناہ ہے۔ چنانچہ اسی لمحہ اپنے مسکن ایپی میں واپس ہوئے اپنے عزیز و اقارب کو اپنے عزام اور ارادے سے آگاہ کیا اور خود کفر کے خلاف آواز اٹھائی اور اعلانِ جہاد کیا۔

وہ خیسور منتقل ہوئے انگریز حکام کے خلاف صف بندی کا اعلان کیا۔ چند ایک غازی ان کے شریک محفل بلکہ شورش شریک محفل ہوئے اور غازی بننے کا اعلان کر دیا۔ بہت جلد ان کی افرادی قوت میں اضافہ ہوا۔ پولیٹکل حکام نے ان کے گھر بار جلا دیے۔ ان کا گھر مسمار کر دیا گیا۔

بنوں سے کافی لوگ غازی بن کر ان کے صف میں شامل ہو گئے۔ جن میں گلنواز خان سوارنی جو بعد میں خلیفہ گلنواز کہلائے سابقه وزیر اعلیٰ اکرم خان درانی کے دادا۔ایوب نواز ممشش خیل جو جرنیل ایوب نواز کے نام سے مشہور ہوئے۔ شیری اور رب نواز خان برادران ممش خیل جنہوں نے بعد میں بے مثال جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے بنوں کے نزدیک ایک فوجی دستے پر خود کش حملہ کیا۔ کچھ غازی بھی شہید ہوئے مگر ایک فوجی دستے کے کمانڈر کو ہلاک کرکے اس کا سر تن سے جد کیا اور اسے ساتھ لے گئے۔ بعد میں علاقے کے باسیوں کو وحشیانہ انتقامی کاروائیوں کا نشانہ بنایا گیا۔

شیر دل خان جرنیل سروبڈا۔ محمد امین خان شہید حسن خیل، فضل استاد جی شہید سورانی، ماسٹر امیر صاحب خان، مشک عالم سپرکئی وزیر جو نیظیم بازار بنوں میں ایک کشمکش کے دوران شہید ہوئے۔ مہر دل خٹک جو بعد میں خلیفہ بنے اور خلیفہ مہر دل مشہور ہوئے ۔ وہ بنوں شہر کو لوٹنے کے دن کے اجالے میں معہ لشکر نکلے اور کامیاب لوٹ مار کے بعد بڑا نام پایا۔مہر دل خٹک کے واقعے کی وجہ سے حکومت نے سورانی کے باسیوں پر بھاری جرمانہ عاید کیا کیونکہ انہوں نے لشکر کی ضیافت کی اور یہ کہ انہوں نے لشکر کا راستہ نہیں روکا تھا۔ ریلوے گیٹ کو ہتھکڑی پہنچا دی گئی اور اسے مقفل کر دیا۔ کیونکہ اسی دروازے سے خلیفہ مہر دل خٹک بنوں شہر میں داخل ہوئے تھے۔

یوں اگر دیکھا جائے تو حاجی امیر ز علی خان کی مزاحمتی کاروائیوں نے شمالی وزیرستان میں انگریزوں پر زندگی تنگ کر دی۔ وہ شب و روز فوجی دستوں پر شب خون مارتے رہے۔ اور گوریلا جنگ کا آغاز کرکے سرکاری فوجوں کو زبردست مالی اور جانی نقصان پہنچاتے رہے۔ انہوں نے بہت سارے محازوں پر انگریزوں کا سامنا کیا۔ اورکامیاب مقابلہ کیا۔ لیکن وہ ایک عکسری مزاحمت کار اور حریت پسند ہی نہ تھا بلکہ لوگوں کو ان سے روحانی واستگی بھی رہی۔ پاکستان بننے کے بعد ان کا کہنا یہ تھا کہ ہم تو سسٹم کے خلاف لڑنے والے لوگ تھے۔ لیکن آزادی تو مل گئی لیکن ایسی آزادی کا کیا فائدہ کہ ہم لوگ اپنا نظام یعنی اسلامی نظام یہاں لاگو کرنے میں ناکام رہے۔ ان کے پوتے شمالی وزیرستان کے مشہور جنگجو کمانڈر حافظ گل بہادر ہیں۔ حاجی امیر ز علی خان کے مزار پر آج بھی ان کے عقیدت مندوں کی بھیڑ رہتی ہے۔ ان کا عرس بڑے اہتمام سے منایا جاتا ہے۔

1947ء میں فقیر ایپی نے پاکستان کو خوشدلی سے قبول کیا اور گوریلا کاروائیاں ختم کر دیں۔

مزید دیکھیں[ترمیم]