فکری ملکیت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
اصطلاح term

فکری ملکیت
ف‌م

Intellectual property
(IP)

فکری ملکیت اصطلاح ہے جو ذہن کی تخالیق پر سرکار کی طرف سے عطا کردہ قانونی اجارہ داری کی طرف اشارہ کرتی ہے ، جس میں شامل ہیں فنکارانہ اور تجارتی، اور ارتباطی قانون کے میدان۔ [1] فکری ملکیت کے قانون کے تحت، مالکان غیر جسمی اثاثوں پر کچھ بلا شرکت غیرے حقوق حقوق بخشے جاتے ہیں، جیسا کہ موسیقی، ادب، اور فنکار پارے؛ دریافتیں اور ایجادیں؛ اور الفاظ، فقرے، علامتیں، اور طرحبندیاں۔ فکری ملکیت کی عام اقسام میں شامل ہیں حقوقِ نقل، نشانِ تجارہ، سند ایجاد، صنعتی طرحبندی حقوق اور کچھ دائرہ عدل میں تجارتی راز۔

زبردستی[ترمیم]

امریکہ کی طرف سے بیسویں صدی کے آخر سے تمام ممالک سے اپنے باشندوں اور اداروں کے فکری ملکیت طاقت کے زور پر زبردستی منوانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔[2]


  1. ^ Intellectual Property Licensing: Forms and Analysis, by Richard Raysman, Edward A. Pisacreta and Kenneth A. Adler. Law Journal Press, 1999-2008. ISBN 973-58852-086-9[ضرورت تصدیق]
  2. ^ "US Blocking Costa Rican Sugar From US Markets Unless It Agrees To Draconian IP Laws Citizens Don't Want"، ٹیک ڈرٹ، 18 جنوری 2010ء، http://techdirt.com/articles/20100115/1549467778.shtml.