فیس بک

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
فیس بک
Facebook Urdu.png
یو آر ایل (URL) Facebook.com
طرز سماجی جالکاری خدمت
اندراج لازمی
دستیاب زبان(یں) 70 سے زائد
صارفین 901 ملین (اپریل 2012 تک)
ملکیت Facebook, Inc.
بانی مارک ذكربرگ، ڈسٹن موسکوویتز، ہیوگز کریس
آغاز فروری 4, 2004 (2004-02-04)
محصولات اشتہاری
موجودہ حالت فعال
اندراج شدہ صارفین بلحاظ عمر، 2010

انٹرنیٹ پر سماجی روابط (social networking) کے حوالے سے مشہور ویب سائٹ فیس بک کا آغاز فروری سنہ 2004 میں امریکی طالبعلم مارک زکربرگ اور اس کے ساتھیوں نے کیا تھا اور آج دنیا بھر میں اس کے کروڑوں صارفین ہیں۔ مارک زکربرگ اس وقت ہارورڈ یونیورسٹی کے طالبعلم تھا اور اس نے یہ سہولت اپنے ہاسٹل کے کمرے سے اپنے چند دوستوں کی مدد سے شروع کی تھی اور اس کا مقصد ایک دوسرے کو بہتر طریقے سے جاننے کے سلسلے میں طلباء کی مدد کرنا تھا ۔اس کے آغاز کے چوبیس گھنٹے کے اندر ہارورڈ کے بارہ سو طلباء اس پر اندراج ہوگئے تھے اور جلد ہی یہ جال دیگر کالجوں اور یونیورسٹیوں تک پھیل گیا۔ سنہ 2005 کے آخر میں فیس بک کو برطانیہ میں متعارف کروایا گیا اور آج فیس بک کی سہولت دنیا کی کئی زبانوں میں موجود ہے۔

فہرست ممالک بلحاظ تعداد صارفین[ترمیم]

درجہ ملک آبادی تعداد صارفین فیصدی
  دنیا 6,895,889,000 1,000,000,000 14.50%
1 Flag of the United States.svg ریاستہائے متحدہ امریکہ 315,120,000 167,431,700 53.97%
2 Flag of Brazil.svg برازیل 193,946,886 65,237,180 32.44%
3 Flag of India.svg بھارت 1,210,193,422 62,761,420 5.35%
4 Flag of Indonesia.svg انڈونیشیا 242,968,342 50,583,320 20.82%
5 Flag of Mexico.svg میکسیکو 112,468,855 39,933,040 35.51%
6 Flag of the United Kingdom.svg مملکت متحدہ 62,348,447 32,827,180 52.65%
7 Flag of Turkey.svg ترکی 77,804,122 32,354,900 41.59%
8 Flag of the Philippines.svg فلپائن 99,900,177 30,265,200 30.30%
9 Flag of France.svg فرانس 64,768,389 25,614,100 39.55%
10 Flag of Germany.svg جرمنی 81,802,257 25,350,560 30.99%

مراقبت[ترمیم]

فیس بک جن صفحات کو ناپسندیدہ سمجھے ان کی مراقبت کرتی ہے۔[1]

فیس بک میسینجر[ترمیم]

سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک کا کہنا ہے کہ ان کی نئی پیغام رسانی کی خدمات فراہم کرنے والی میسینجر سروس اب دنیا بھر میں 50 کروڑ صارفین تک پہنچ چکی ہے۔کمپنی نے کہا ہے کہ ان کے علیحدہ میسنجر کے صارفین اپریل میں 20 کروڑ سے ڈھائی گنا بڑھ کر 50 کروڑ سے زیادہ ہو گئے ہیں۔فیس بک نے جب یہ کہا تھا کہ اس کے صارفین پر اس نئی ایپ کو ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جائے گا جس کے ذریعے وہ اپنے دوستوں کو ذاتی قسم کے یا نجی پیغام بھیج سکتے ہیں تو اس کے خلاف آواز اٹھی تھی۔یہ ایپ جولائی سنہ 2011 میں لانچ کی گئی تھی اور پھر اس کو ڈاؤن لوڈ کرنے پر زور دیا گیا تھا۔ فیس بک کی مصنوعات کے ڈائرکٹر پیٹر مارٹینازی نے جمعرات کو ایک بلاگ میں کہا: ’لوگ ایک دوسرے سے کس طرح منسلک رہتے ہیں، اس مقصد کی خاطر میسیجنگ بہت اہم ہے۔ 2011 میں جب سے ہم نے میسینجر لانچ کیا ہے اس کے بعد ہم لوگوں کو آپس میں رابطہ رکھنے کا تیز تر اور بھرپور طریقہ فراہم کرنے کے لیے بہت پرجوش ہیں۔

فیس بک نے گذشتہ ماہ واٹس ایپ کو 22 ارب ڈالر میں خریدنے کا معاہدہ کیا اپریل میں فیس بک نے اپنے صارفین سے کہا تھا کہ ویڈیو بھیجنے، مفت فون کال کرنے اور چیٹ کرنے کے لیے انھیں ایک علیحدہ ایپ ڈاؤن لوڈ کرنا پڑے گی۔صارفین نے فیس بک کے اس فیصلے پر تنقید کی تھی اور ایپ سٹور پر اس کو پسند کی جانے والی ریٹنگ ڈیڑھ سٹار تھی۔مارٹینازی نے کہا کہ ’لوگوں کی تنقید کے باوجود ہم اپنے میسنجر کی صلاحیت اور رفتار میں بہتری کی کوشش کرتے رہے۔ اس میں بہتری کے لیے ہر دوسرے ہفتے اپ ڈیٹس کیے جاتے تھے۔دریں اثنا موبائل پر سرِفہرست میسیجنگ سروس بننے کی کوشش میں فیس بک نے پیغام رسانی کی خدمات فراہم کرنے والی کمپنی واٹس ایپ کو گذشتہ ماہ 22 ارب ڈالر میں خریدنے کے لیے معاملہ طے کر لیا ہے۔

[2]


نگار خانہ[ترمیم]

مزید دیکھیے[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]