فیصل بن عبدالعزیز آل سعود

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
Featured article candidate.svg
یہ مضمون منتخب مقالہ بنائے جانے کے لیے امیدوار ہے۔ اس لیے اس مضمون کو خاص توجہ کی ضرورت ہے۔
شاہ فیصل بن عبدالعزیز آل سعود

فیصل بن عبدالعزیز آل سعود 1964ء تا 1975ء سعودی عرب کے بادشاہ تھے۔ وہ اتحاد امت کے عظیم داعی تھے اور اپنے پورے دور حکومت میں اس مقصد کے حصول کی کوششیں کیں۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

شاہ فیصل 1905ء میں پیدا ہوئے، ان کی والدہ کا نام طرفہ تھا۔ فیصل شروع ہی سے سمجھدار اور باصلاحیت انسان تھے۔ سلطان ابن سعود کو ان پر بہت اعتماد تھا اور وہ سعود کے مقابلے میں فیصل کو ترجیح دیتے تھے۔ فیصل نے نوجوانی میں ہی اہم کارنامے انجام دینا شروع کردیے تھے۔ حجاز انہوں نے ہی فتح کیا تھا۔ 1920ء میں انہیں حجاز کا گورنر مقرر کیا گیا۔ 1934ء میں یمن کے خلاف جو کامیاب فوجی کاروائی کی گئی تھی وہ فیصل ہی کی سرکردگی میں کی گئی تھی۔ وہ یمن میں بندرگاہ حدیدہ تک پہنچ گئے تھے اور اگر ابن سعود جنگ بندی پر راضی نہ ہوتے تو فیصل آسانی سے باقی یمن بھی فتح کرلیتے۔

بطور ولی عہد[ترمیم]

1953ء میں جب سعود بن عبدالعزیز بادشاہ ہو گئے تھے فیصل ولی عہد قرار دیے گئے۔ ایک سال بعد وہ مجلسِ وزراء کے صدر یعنی وزیراعظم ہو گئے۔ شاہ سعود کے دور میں وہ بدستور حجاز کے گورنر اور وزیر خارجہ رہے اور شاہ سعود کے زمانے میں جو انتظامی، تعلیمی، مالی اور معاشی اصلاحات ہوئیں اور ترقی کے جو کام انجام دیے گئے وہ زیادہ تر شہزادہ فیصل ہی کی کوششوں کا نتیجہ تھے۔

بطور سربراہ مملکت[ترمیم]

شاہ فیصل نے بادشاہ بننے کے بعد حکومت کو زیادہ عوامی اور جمہوری رنگ دینے کی کوشش کی۔ شاہی خاندان کے اخراجات مقرر کردیے اور زیادہ رقم تعلیم اور ترقیاتی کاموں پر خرچ کی جانے لگی۔ وزارت میں شاہی خاندان سے زیادہ عوام کے درمیان سے وزیر لیے گئے۔

ترقیاتی کام[ترمیم]

شاہ فیصل کے گیارہ سالہ دور میں ترقی کے کام اس کثرت سے اور تیزی سے انجام دیے گئے کہ سعودی عرب دنیا کے پسماندہ ترین ممالک کی فہرست سے خوشحال اور ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہو گیا۔ شہروں اور بندرگاہوں کو جدید طرز پر توسیع دی گئی، ہوائی اڈے تعمیر کیے گئے، ملک بھر میں سڑکوں کا جال بچھا دیا گیا،حرم میں توسیع کی گئی اور حاجیوں کو مختلف سہولیات فراہم کی گئیں۔ شاہی محلات کو تعلیمی و رفاہی اداروں کے سپرد کردیا گیا۔ مکہ معظمہ، جدہ اور ریاض میں نئی جامعات اور اعلیٰ تعلیم کے ادارے قائم کیے گئے، صنعتوں کو ترقی دی گئی اور 1967ء میں فولاد سازی کا پہلا کارخانہ قائم ہوا۔ سعودی عرب میں پانی کی کمی کی وجہ سے زرعی ترقی کاکام بڑا مشکل ہے اور شاہ فیصل کے دور میں اس مشکل کو حل کرنے کی کوشش کی گئی اور نئے زیرِ زمین ذخائر دریافت کیے گئے اور برساتی پانی روک کر ندی نالوں پر جگہ جگہ بند تعمیر کیے گئے۔

امورِ خارجہ[ترمیم]

خارجی میدان میں شاہ فیصل کے دور کے کارنامے داخلی کارناموں کے جتنے ہی اہم ہیں۔ شاہ فیصل جب تخت پر بیٹھے تھے تو عرب دنیا انتہا پسندانہ قوم پرستی، نسل پرستی، سوشلزم اور دوسرے غیر اسلامی نظریات کی زد میں تھی۔ عرب دنیا کے یہ سیکولر اور سوشلسٹ عناصر سعودی عرب کو اپنے نظریات کی راہ میں رکاوٹ سمجھتے تھے۔ سعودی عرب پر رجعت پسند ہونے اور امریکہ کا ایجنٹ ہونے کا الزام لگایا جاتا تھا حالانکہ یہ الزام لگانے والے ملک خود روس کے ایجنٹ تھے۔ صدر جمال عبدالناصر کے زمانے میں دوسرے عرب ممالک کی طرح سعودی عرب کے اندرونی معاملات میں بھی مداخلت کی گئی اور حکومت کا تختہ تک پلٹنے کی کوشش کی گئی۔ شاہ فیصل نے نہ صرف یہ کہ ان تمام نظریات سے سعودی عرب کو بچایا بلکہ چند سالوں کے اندر کئی عرب ممالک کو اپنا نقطۂ نظر اور طرزِ عمل بدل دینے پر مجبور کردیا۔ شاہ فیصل کا یہ بہت بڑا کارنامہ ہے کہ انہوں نے فلسطین کے مسئلے کو جسے صرف عرب مسئلہ سمجھا جتا تھا، اسلامی دنیا کا مسئلہ بنادیا۔

شاہ فیصل نے خارجی معاملات میں بڑی دانشمندانہ اور معتدل پالیسی اختیار کی۔ انہوں نے عرب ممالک پر زور دیا کہ مسلمانوں کی بھلائی آپس میں لڑنے میں نہیں بلکہ اتحاد میں ہے۔ اس پالیسی کے تحت شاہ فیصل نے کئی مالک کے اختلافات دور کیے اور مخالفوں سے سمجھوتے کیے۔ صدر ناصر نے جب نہر سویز کو قومی ملکیت میں لیا اور برطانیہ اور فرانس نے مصر پر حملہ کردیا تو فیصل نے، جو اس وقت وزیر خارجہ تھے، مصر سے اختلافات کے باوجود مصری فیصلے کی تائید کی اور برطانیہ اور فرانس کی مذمت کی۔ صحرا کے مسئلے پر مراکش اور الجزائر کے درمیان مصالحت کرانے کی کوشش کی۔ یمن اور مصر کے درمیان تصفیہ کرایا۔ شام اور عراق کے درمیان دریائے فرات کے پانی پر تنازع دور کرانے میں مدد دی۔ ایران اور اس کے پڑوسی عرب ممالک کے درمیان اختلافات دور کیے۔

اتحاد اسلام[ترمیم]

اتحاد اسلام شاہ فیصل کا بہت بڑا نصب العین تھا اور وہ خوش قسمت انسان تھے کہ انہوں نے اپنی زندگی ہی میں اس مقصد میں بے مثال کامیابی حاصل کی۔ 1962ء میں رابطۂ عالم اسلامی کی بنیاد ڈالی گئی جو مسلمانوں کی پہلی حقیقی بین الاقوامی تنظیم ہے۔ اگرچہ یہ تنظیم شاہ سعود کے زمانے میں قائم ہوئی تھی لیکن اس کے اصل روح رواں شاہ فیصل تھے جو اس وقت وزیر خارجہ تھے۔ اس کے بعد شاہ فیصل نے اپریل 1965ء میں حج کے موقع پر رابطۂ علام اسلامی کے ایک اجتماع میں دنیا بھر کے مسلمانوں کو اسلام کی بنیاد پر متحد کرنے کا عہد کیا۔ اپنے مقصد کے حصول کے لیے اسی سال انہوں نے 8 نومبر سے اسلامی ممالک کا دورہ شروع کردیا۔ سب سے پہلے ایران گئے۔ اس کے بعد بالترتیب اردن، سوڈان، پاکستان، ترکی، مراکش، گنی، مالی اور تیونس کا دورہ کیا۔ شاہ فیصل

اگست 1966ء میں ترکی گئے اور اس طرح ترکی کا دورہ کرنے والے پہلے عرب سربراہ بن گئے۔ اس دورے سے نہ صرف سعودی عرب اور ترکی کو ایک دوسرے کے قریب آنے میں مدد ملی بلکہ عربوں اور ترکوں کے درمیان دوستانہ تعلقات کا ایک نیا دور شروع ہوگیا اور وہ زخم بھرنے لگے جو عربوں کی بغاوت کی وجہ سے ترکوں پر لگے تھے۔ شاہ فیصل نے انقرہ میں صاف صاف اعلان کیا کہ ہماری طاقت کا سرچشمہ صرف اسلام ہے۔ 19 ستمبر 1966ء کو تیونس ان کے دوروں کو سلسلے کی آخری کڑی تھا۔

عرب دنیا میں ان کا دور "رحلات الخیر" یعنی بھلائی کے سفر کے نام سے مشہور ہے۔ ان دوروں میں شاہ فیصل نے یہ حقیقت سمجھانے کی کوشش کی کہ مسلمانوں کی نجات صرف اسلام سے وابستہ ہے اور ان کی بھلائی اسلامی اتحاد سے وابستہ ہے۔ وہ کسی بلاک سے خواہ وہ مشرق کا ہو یا مغرب کا، سرمایہ دار ہو یا اشتراکی امید وابستہ نہ کریں۔ ان بلاکوں کی امداد اخلاص پر نہیں اغرض پر مبنی ہوتی ہے۔ اخلاص صرف اسلامی دنیا میں ملے گا۔

ان دوروں میں شاہ فیصل نے اسلامی اتحاد کے لیے جو راہ ہموار کی وہ جون 1967ء میں اسرائیل کے مقابلے میں عربوں کی شکست کے بعد اور مستحکم ہو گئی۔ اگست 1967ء میں جب خرطوم میں عرب سربراہان کی کانفرنس ہوئی تو شاہ فیصل نے جمال عبدالناصر کو گلے لگا لیا اور ان تمام مخالفانہ پالیسیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے مصر کو وسیع پیمانے پر مالی امداد فراہم کی تاکہ مصر جون 1967ء کی شکست کے نتیجے میں ہونے والے مالی نقصانات کو پورا کرسکے۔ شاہ فیصل کی اعتدال پسندی اور تدبر پر مبنی پالیسی اپنا اثر دکھائے بغیر نہ رہ سکی اور مصر اور عرب ممالک میں ان کو پسند کیا جانے لگا۔ اگست 1969ء میں مسجد اقصیٰ میں آتش زنی کے واقعے کے بعد عرب اور اسلامی ممالک کو شاہ فیصل کے موقف کی صداقت کا یقین ہو گیا اور تمام اسلامی ملک ایک تنظیم کے تحت متحد ہونے کے لیے تیار ہو گئے۔ 22 تا 25 ستمبر 1969ء رباط (مراکش) میں دنیا کی تاریخ میں پہلی مرتبہ مسلمان سربراہان کی کانفرنس ہوئی جس کا مستقل دفتر بعد میں جدہ میں قائم کیا گیا۔ اس تاریخ کے بعد اسلامی دفتر (سیکرٹریٹ) کے تحت مختلف قسم کی اسلامی کانفرنسوں کا انعقاد پابندی سے ہورہا ہے۔

شاہ فیصل اپنے تدبر کی بدولت افریقی ممالک پر بھی اثر انداز ہوئے۔ انہوں نے سوڈان اور صومالیہ کو اشتراکی چنگل میں جانے سے بچایا اور ان ممالک کو ہر ممکن امداد فراہم کی۔ سعودی عرب نے افریقہ کے غیر مسلم ممالک میں آزادی کی تحاریک کی بھی حمایت کی اور ان کو بھی اتنے وسیع پیمانے پر امداد فراہم کی کہ افریقہ میں اسرائیل کا اثر زائل ہونے لگا اور اکتوبر 1973ء میں مصر اور اسرائیل کی جنگ کے دوران جب عرب ممالک نے سعودی عرب کی قیادت میں امریکہ اور مغربی ممالک کو تیل دینا بند کردیا تو افریقہ کے غیر مسلم ممالک نے بھی عربوں کی تائید کی۔

شاہ فیصل نے اسلامی ممالک کے مسائل حل کرنے کے لیے اقتصادیات، تعلیم اور دوسرے موضوعات پر ماہرین کی عالمی کانفرنسیں طلب کیں اور نوجوان مسلمانوں کو اجتماعات کیے۔ ان تمام کاروائیوں سے مسلمانوں کو اس قابل بنایا کہ وہ ایک دوسرے کے مسائل کو بہتر طور پر سمجھ سکیں اور ان کو حل کرنے کے لیے مشترکہ طریق کار طے کرسکیں۔ رابطۂ عالم اسلامی کی تنظیم ان کے دور میں ایک موثر تنظیم بن گئی اور اس قابل ہو گئی کہ سعودی عرب کی مالی امداد سے دنیا میں اسلام کی تبلیغ کرسکے اور مسلمان اقلیتوں کی مدد کرسکے۔ جدہ یونیورسٹی میں مسلمان اقلیتوں سے متعلق ایک مستقل شعبہ بھی قائم کیا گیا۔

پاکستان سے تعلقات[ترمیم]

اسلام آباد کی عظیم جامع مسجد، جو شاہ فیصل کے نام سے موسوم ہے

پاکستان کے ساتھ سعودی عرب کے شروع سے خصوصی تعلقات قائم ہیں۔ پاکستان اور سعودی عرب میں دوستی کا پہلا معاہدہ شاہ ابن سعود کے زمانے میں 1951ء میں ہوا تھا۔ شاہ فیصل کے دور میں ان تعلقات کو بہت فروغ ملا۔ سعودی عرب ان چند ممالک میں ہے جنہوں نے سرکاری سطح پر مسئلہ کشمیر میں پاکستان کے موقف کی کھل کر تائید کی۔ ستمبر 1965ء کی پاک بھارت جنگ میں سعودی عرب نے پاکستان کی بڑے پیمانے پر مدد کی۔ اپریل 1966ء میں شاہ فیصل نے پہلی مرتبہ پاکستان کا دورہ کیا اور اس موقع پر اسلام آباد کی مرکزی جامع مسجد کے سارے اخراجات خود اٹھانے کا اعلان کیا۔ یہ مسجد آج شاہ فیصل مسجد کے نام سے دنیا بھر میں جانی جاتی ہے۔ 1967ء میں سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان فوجی تعاون کا معاہدہ ہوا جس کے تحت سعودی عرب کی بری، بحری اور فضائی افواج کی تربیت کا کام پاکستان کو سونپ دیا گیا۔ اپریل 1968ء میں سعودی عرب سے تمام برطانوی ہوا بازوں اور فنی ماہرین کو رخصت کردیا گیا اور ان کی جگہ پاکستانی ماہرین کی خدمات حاصل کی گئیں۔ شاہ فیصل کے دور حکومت میں سعودی عرب نے 1973ء کے سیلاب مین مالی امداد فراہم کی اور دسمبر 1975ء میں سوات کے زلزلہ زدگان کی تعمیر و ترقی کے لیے بھی ایک کروڑ ڈالر کا عطیہ دیا۔ 1971ء میں مشرقی پاکستان کی پاکستان سے علیحدگی پر شاہ فیصل کو بہت رنج ہوا اور انہوں نے پاکستان کی جانب سے تسلیم کرنے کے بعد بھی بنگلہ دیش کو تسلیم نہ کیا۔

پاکستان کے عوام ان کو آج بھی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ایک بڑے شہر لائل پور کا نام انہی کے نام پر فیصل آباد رکھا گیا جبکہ کراچی کی سب سے بڑی شاہراہ انہی کے نام پر شاہراہ فیصل کہلاتی ہے۔ اس کے علاوہ کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب ایک بہت بڑی آبادی شاہ فیصل کالونی کہلاتی ہے اور اسی کی نسبت سے کراچی کے ایک ٹاؤن کا نام شاہ فیصل ٹاؤن ہے۔

شہادت[ترمیم]

شاہ فیصل نے بادشاہ ہو کر بھی سادہ زندگی گذاری، وہ صرف سعودی عرب کے بادشاہ نہ تھے بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے مشفق باپ اور وفادار دوست تھے اور ان کی حیثیت عالمِ اسلام اور مسلمانوں کے لیے ایک چھتری کی تھی۔

25 مارچ 1975ء کو ان کے بھتیجے نے شاہی دربار میں گولی مار کر انہیں شہید کردیا۔ شاہ فیصل کے بعد ان کے بھائی خالد بن عبدالعزیز تخت پر بیٹھے۔

پیشرو:
سعود بن عبدالعزیز
سعودی عرب
1964 تا 1975
جانشیں:
خالد بن عبدالعزیز