فیض احمد فیض
| فیض احمد فیض | ||
|---|---|---|
فیض
|
||
| ادیب | ||
| پیدائشی نام | فیض | |
| تخلص | فیض | |
| ولادت | 13 فروری 1911ء سیالکوٹ | |
| ابتدا | سیالکوٹ، پاکستان | |
| وفات | 20 نومبر 1984ء لاہور | |
| اصناف ادب | شاعری | |
| ذیلی اصناف | غزل، نظم | |
| ادبی تحریک | ترقی پسند | |
| تعداد تصانیف | 10 | |
| تصنیف اول | نقش فریادی | |
| معروف تصانیف | نقش فریادی ، دست صبا ، زنداں نامہ ، دست تہ سنگ ، شام شہر یاراں ، سر وادی سینا ، مرے دل مرے مسافر ، نسخہ ہائے وفا | |
| دستخط | ||
اردو ادب کے بہت سے ناقدین کے نزدیک فیض احمد فیض (1911 تا 1984) غالب اور اقبال کے بعد اردو کے سب سے عظیم شاعر ھیں۔ آپ تقسیم ہند سے پہلے 1911 میں سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ انجمن ترقی پسند تحریک کے فعال رکن اور ایک ممتاز کمیونسٹ تھے ۔
فہرست |
[ترمیم] سوانح
[ترمیم] پیدایش
فیض 13 فروری 1911 کو سیالکوٹ کے ایک معزز گھرانے میں پیدا ہوئے ۔ آپ کے والد ایک علم پسند آدمی تھے ۔ آپ کی والدہ کا نام سلطان فاطمہ تھا ۔
[ترمیم] تعلیم
آپ نے ابتدای مذ ھبی تعلیم مولوی محمد ابراہیم میر سیالکوٹی سے حاصل کی ۔ بعد ازاں 1921 میں آپ نے سکاچ مشن سکول سیالکوٹ میں داخلہ لیا ۔ آپ نے میٹرک کا امتحانbo سکول سیالکوٹ سے پاس کیا اور پھر ایف اے کا امتحان بھی وہیں سے پاس کیا ۔ آپ کے اساتذہ میں میر مولوی شمس الحق ( جو علامہ اقبال کے بھی استاد تھے) بھی شامل تھے ۔ آپ نے سکول میں فارسی اور عربی زبان سیکھی۔
بی اے آپ نے گورنمنٹ کالج لاہور سے کیا اور پھر وہیں سے 1932 میں انگلش میں ایم اے کیا۔ بعد میں اورینٹل کالج لاہور سے عربی میں بھی ایم اے کیا۔
[ترمیم] کیریر
انہوں نے 1930ء میں ایلس فیض سے شادی کی۔1951 میں آپ نے ایم اے او کالج امرتسر میں لیکچرر کی حیثیت سے ملازمت کی۔ اور پھر ھیلے کالج لاہور میں ۔ 1942 میں آپ فوج میں کیپٹن کی حیثیت سے شامل ھوگے۔ اور محکمہ تعلقات عامہ میں کام کیا ۔ 1943 میں آپ میجر اور پھر 1944 میں لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے پر ترقی پا گے۔ 1947 میں آپ فوج سے مستعفی ہو کر واپس لاہور اگے۔ اور 1959 میں پاکستان ارٹس کونسل میں سیکرٹری کی تعینات ھوے اور 1962 تک وہیں پر کام کیا۔ 1964 میں لندن سے واپسی پرآپ عبداللہ ہارون کالج کراچی میں پرنسپل کی حیثیت سے ملازم ہو گئے۔ 1947 تا 1958 مدیر ادب لطیف مدیر لوٹس لندن، ماسکو ، اور بیروت.
[ترمیم] راولپنڈی سازش کیس
وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا
وہ بات ان کو بہت ناگوار گزری ہے
9 مارچ 1951 میں آپ كو راولپنڈی سازش كیس میں معا ونت كے الزام میں حكومت وقت نے گرفتار كر لیا۔ آپ نے چار سال سرگودھا، ساھیوال، حیدر آباد اور كراچی كی جیل میں گزارے۔ آپ كو 2 اپریل 1955 كو رہا كر دیا گیا ۔ زنداں نامہ كی بیشتر نظمیں اسی عرصہ میں لكھی گئیں۔
[ترمیم] پس زنداں
[ترمیم] شاعری کے مجموعے
- نقش فریادی
- دست صبا
- زنداں نامہ
- دست تہ سنگ
- سر وادی سینا
- شام شہر یاراں
- مرے دل مرے مسافر
- نسخہ ہائے وفا (کلیات)
[ترمیم] مزید دیکھیے
فیض پر آرٹیکل پڑھتے ہوئے ان کا ایک شعر یاد آگیا جو مصر میں جلاوطنی کی زندگی گزارتے ہوئے ہوا
فیض نہ ہم یوسف نہ کوئی یعقوب جو ہم کو یاد کرے
اپنا کیا کنعاں میں رہے یا مصر میں جا آباد ہوئے
[ترمیم] فلسطینی بچے کے لیے لوری
مت رو بچے
رو رو کے ابھی
تیری امی کی آنکھ لگی ہے
مت رو بچے
کچھ ہی پہلے
تیرے ابا نے
اپنے غم سے رخصت لی ہے
مت رو بچے
تیرا بھائی
اپنے خواب کی تتلی پیچھے
دور کہیں پردیس گیا ہے
مت رو بچے
تیری باجی کا
ڈولا پرائے دیس گیا ہے
مت رو بچے
تیرے آنگن میں
مردہ سورج نہلا کے گئے ہیں
چندر ما دفنا کے گئے ہیں
مت رو بچے
امی، ابا، باجی، بھائی
چاند اور سورج
تو گر روئے گا تو یہ سب
اور بھی تجھ کو رلوائیں گے
تو مسکائے گا تو شاید
سارے اک دن بھیس بدل کر
تجھ سے کھیلنے لوٹ آئیں گے
۞ فیض احمد فیض (بیروت
[ترمیم] ایک ترانہ مجاہدینِ فلسطین کے لیے
ہم جیتیں گے
حقّا ہم اک دن جیتیں گے
بلآخر اک دن جیتیں گے
کیا خوف زیلغارِ اعداء
ہء سینہ سپر ہر غازی کا
کیا خوف زیورشِ جیش قضا
صف بستہ پہں ارواح الشہداء
ڈر کاہے کا؟
ہم جیتیں گے
حقّا ہم اک دن جیتیں گے
قد جاء الحق و زہق الباطل
فرمودہ ربِ اکبر
ہے جنت اپنے پائوں تلے
اور سایہ رحمت سر پہ پے
پھر کیا ڈر ہے؟
ہم جیتیں گے
حقّا ہم اک دن جیتیں گے
بلآخر اک دن جیتیں گے
۞ فیض احمد فیض
(بیروت۔ 15 جون 1983ء)
[ترمیم] وا میرے وطن
وا میرے وطن! وا میرے وطن! وا میرے وطن!
مرے سر پر وہ ٹوپی نہ رہی
جو تیرے دیس سے لایا تھا
پاؤں میں وہ اب جوتے بھی نہیں
واقف تھے جو تیری راہوں سے
مرا آخری کرتا چاک ہوا
ترے شہر میں جو سلوایا تھا
اب تیری جھلک
بس اڑتی ہوئی رنگت ہے میرے بالوں کی
یا جُھریاں میرے ماتھے پر
یا میرا ٹوٹا ہوا دل ہے
وا میرے وطن! وا میرے وطن! وا میرے وطن!
۞ فیض احمد فیض
[ترمیم] مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ
| میں نے سمجھا کہ تو ہے تو درخشاں ہے حیات | تیرا غم ہے تو غم دہر کا جھگڑا کیا ہے | |
| تیری صورت سے ہے عالم میں بہاروں کو ثبات | تیری آنکھوں کے سوا عالم میں رکھا کیا ہے | |
| تو جو مل جائے تقدیر نگوں ہو جائے | یوں نہ تھا، فقط میں نے چاہا تھا یوں ہو جائے | |
| اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا | راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا | |
| ان گنت صدیوں کے تاریک بہیمانہ طلسم | ریشم و اطلس و کمخواب میں بنوائے ہوئے | |
| جا بجا بکتے ہوئے کوچہ ؤ بازار میں جسم | خاک میں لتھڑے ہوئے خون میں نہلاۓ ہوئے | |
| لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا کیجے | اب بھی دلکش ہے تیرا حسن، مگر کیا کیجے | |
| مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ | ||
فیض احمد فیض
[ترمیم] بہار آئی تو جیسے اک بار۔۔۔۔
| بہار آئی تو جیسے اک بار | لوٹ آئے ہیں پھر عدم سے | |
| وہ خواب سارے، شباب سارے | جو تیرے ہونٹوں پہ مر مٹے تھے | |
| جومٹ کر ہر با ر پھر جیئے تھے | نکھر گئے ہیں گلاب سارے | |
| جو تیری یادوں سے مشکبو ہیں | جوتیرے عُشاق کا لہو ہیں | |
| ابل پڑے ہیں عذاب سارے | ||
| ملالِ احوالِ دوستاں بھی | خُمارِ آغوشِ مہوِشاں بھی | |
| غُبارِ خاطر کے باب سارے | تیرے ہمارے | |
| سوال سارے، جواب سارے | بہار آئی تو کھل گئے ہیں | |
| نئے سرے سے حساب سارے | ||