فیودر دوستوئیفسکی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

Fyodor Mikhailovich Dostoevsky

فیدرو دوستوفسکی

پیدائش: 1821ء

انتقال: 1881ء

روس کا ناول نویس ۔ماسکو یونیورسٹی اور پیٹرز برگ کی ملٹری انجیئرنگ اکیڈمی میں تعلیم پائی۔ 1843ء میں گریجویٹ بننے کے بعد سب لفٹننیٹ کے عہدے پر مامور ہوا۔ 1844ء میں اپنے والد کی وفات کے بعد مستعفی ہو کر زندگی ادب کے لیے وقف کر دی۔ زندگی بھر انتہائی غربت اور مرگی کی شدید بیماری کا سامنا کرنا پڑا۔ 1846ء میں پہلی کہانی ’’بے چارے لوگ‘‘ شائع ہوئی۔ 1847ء میں روس کی انقلابی انجمن میں شریک ہوا۔ 1849ء میں سازش کے الزام میں پھانسی کی سزا ملی۔لیکن تختہ دار پر اس کی یہ سزا گھٹا کر سائبیریا میں چار سال کی جلاوطنی اور جبری فوجی خدمت میں تبدیل کر دی گئی۔ بدترین مجرموں کے ساتھ رہنے کے باعث اس نے روسی زندگی کے تاریک پہلوؤں اور نچلے طبقوں کے مصائب کی خوب عکاسی کی ہے۔ اس کا مشہور ناول جرم و سزا ہے۔ 1865ء کے بعد اخبار نویسی کا پیشہ اختیار کیا۔ کچھ عرصہ رسالہ روسی دنیا کا اڈیٹر رہا 1876ء میں ایک رسالہ کارنیٹ نکالا جس میں تازہ کتابوں پر تبصرے چھپتے تھے۔ ناولوں میں نفسیاتی تجزیہ اور تخت الشعور کی موشگافی اس کی خصوصیات ہیں۔