قذافی اسٹیڈیم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
قذافی اسٹیڈیم
Gaddafi Stadium.png
معلومات کھیل کا میدان
مقام لاہور، پنجاب، پاکستان
جغرافیائی متناسق نظام 31°30′48″N 74°20′0″E / 31.51333°N 74.33333°E / 31.51333; 74.33333متناسقات: 31°30′48″N 74°20′0″E / 31.51333°N 74.33333°E / 31.51333; 74.33333
تاسیس 1959ء
گنجائش 60,000
ملکیت پاکستان کرکٹ بورڈ
مشتغل لاہور سٹی کرکٹ ایسوسی ایشن
متصرف لاہور کرکٹ ٹیم، لاہور لائنز، لاہور ایگلز پی آئی اے، پاکستان
اسمائے اینڈ
پویلین اینڈ
کالج اینڈ
بین الاقوامی معلومات
پہلا ٹیسٹ 21 نومبر– 26 نومبر 1959: پاکستان بمقابلہ آسٹریلیا
آخری ٹیسٹ 1 مارچ– 2 مارچ 2009ء: پاکستان بمقابلہ سری لنکا
پہلا ایک روزہ 13 جنوری 1978: پاکستان بمقابلہ برطانیہ
آخری ایک روزہ 24 جنوری 2009: پاکستان بمقابلہ سری لنکا

قذافی اسٹیڈیم لاہور ، پاکستان میں واقع سب سے بڑا کھیل کا میدان ہے۔ یہاں کرکٹ کے مقابلے منعقد ہوتے ہیں۔ قذافی اسٹیڈیم میں پاکستانی کرکٹ ٹیم اور لاہور کی مقامی کرکٹ ٹیمیں کھیلتی ہیں۔

یہ اسٹیڈیم 1959 میں تعمیر ہوا، اور اس کا ڈیزائن نصر الدین مراد خان نے مکمل کیا۔ اس میدان پر پہلا کرکٹ ٹیسٹ میچ پاکستان اور آسٹریلیا کی ٹیموں کے مابین سنہ انیس سو انسٹھ میں اکیس سے چھبیس نومبر کے دوران کھیلا گیا ۔ اور اس میں 60 ہزار تماشائیوں کے بیٹھنے کی گنجائش ہے جس کی بدولت یہ ملک کا سب سے بڑا کھیل کا میدان ہے۔ اس کا نام لیبیا کے صدر معمر القذافی کے نام پر رکھا گبا۔

میدان کے بارے میں حقائق[ترمیم]

  • قذافی اسٹیڈیم کا اصل نام لاہور اسٹیڈیم رکھا گبا تھا۔جس کا ڈیزائن آرکیٹیکٹ مراد خان نے تیار کیا تھا۔ جس کو 1974 میں تبدیل کیا گیا جب لیبیا کے صدر معمر القذافی نے اسلامی کانفرنس میں پاکستان کے نیوکلیائی ہتھیاروں کے حق میں خطاب کیا تھا۔
  • پاکستان کرکٹ بورڈ کاآفس بھی قذافی اسٹیڈیم میں واقع ہے۔

اسٹیڈیم کو 1995-1996 میں کرکٹ عالمی کپ کے لیے دوبارہ مرمت کیا گیا تھا۔ 1996 کے عالمی کرکٹ کپ کا فائنل یہاں پر کھیلا گیا تھا۔ نیر علی دادا نے اس کا نقشہ بنایا تھا۔

ریکارڈز[ترمیم]

اسی میدان پر سنہ انیس سو چھیانوے کےکرکٹ عالمی کپ کا فائنل سری لنکا اور آسٹریلیا کے درمیان کھیلا گیا تھا جو سری لنکا نے اروندا ڈی سلوا کی سنچری کی بدولت جیتا تھا اور سری لنکا کے کپتان ارجنا رانا تنگے نے اسوقت کی وزیراعظم بے نظیر بھٹو سے ٹرافی وصول کی تھی۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے محمد یوسف قذافی سٹیڈیم میں سب سے زیادہ ٹیسٹ اور ون ڈے رنز بنانے والے بیٹسمین ہیں جبکہ ٹیسٹ میچوں میں عمران خان اور ون ڈے میں وسیم اکرم سب سے زیادہ وکٹیں حاصل کرنے والے بولر ہیں۔اکستان کی جانب سے پہلی ٹیسٹ ہیٹ ٹرک وسیم اکرم نے اسی میدان میں مکمل کی تھی۔ جاوید میانداد نے اپنے شاندار ٹیسٹ کیریئر کا آغاز اسی میدان پر سنچری بنا کر کیا تھا۔انضمام الحق نے نیوزی لینڈ کے خلاف ٹرپل سنچری اسکور کی اور عمران خان نے سری لنکا کے خلاف میچ میں چودہ وکٹیں حاصل کیں جو ٹیسٹ کرکٹ میں کسی بھی پاکستانی بولر کی میچ میں سب سے بہترین کارکردگی ہے۔

اس سال جب سری لنکا کی ٹیم لاہور میں دہشت گردی کا نشانہ بنی تو اس وقت قذافی سٹیڈیم میں ٹیسٹ میچ جاری تھا جسے ختم کرکے سری لنکن کرکٹرز کو فوجی ہیلی کاپٹر میں سوار کراکر وطن کے لیے روانہ کردیا گیا

کھلاڑی کا نام ملک بقابلہ تاریخ
پیٹر پیتھرک نیوزی لینڈ کا پرچم نیوزی لینڈ پاکستان کا پرچم پاکستان 6 اکتوبر 1976
وسیم اکرم پاکستان کا پرچم پاکستان سری لنکا کا پرچم سری لنکا 6 مارچ 1999
محمد سمیع پاکستان کا پرچم پاکستان سری لنکا کا پرچم سری لنکا 8 مارچ 2002