قرامطہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

قرامطہ شیعہ کے دوسرے بڑے فرقے اسماعیلی کی ایک شاخ تھے اور بنیادی طور پر آغا خانی عقائد کے حامل تھے۔
انہوں نے 899 عیسوی میں ایک مثالی جمہوریہ قائم کرنے کی کوشش میں مشرقی عرب میں مرکوز گروپ بنایا تھا۔ اسماعیلی دعوت کے تیز رفتار پھیلاؤ ہی کے موقع پر اچانک اسماعیلی تحریک میں اہم دراڑ پڑ گئی۔ حمدان قرمط جو سنہ 260 ھ سے عراق اور نواحی علاقوں میں اسماعیلی تحریک کا سربراہ تھا اور سلمیہ کے راہنماؤں کے ساتھ مسلسل خط و کتابت کرتا تھا ـ نے اس سنہ 286 ھ میں عبیداللہ کے اسماعیلیہ کے سربراہ کے عنوان سے تعین پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے اپنے لئے بھی اور اپنے آباء و اجداد کے لئے بھی ـ جو کہ سابق مرکزی زعماء میں شمار ہوتے تھے ـ امامت کا دعوی کیا۔ حمدان نے سلمیہ اور مرکزی قیادت کے ساتھ قطع تعلق کیا اور اپنے ماتحت داعیوں کو حکم دیا کہ اپنے علاقوں میں دعوت کا سلسلہ بند کریں۔ کچھ ہی عرصہ بعد حمدان لاپتہ ہوا اور اس کا بہنوئی عبدان بھی عراق کے ایک اسماعیلی داعی "ذکرویہ بن مہدویہ" جو ابتداء میں عبیداللہ اور اس کی اعتقادی اصلاحات کا حامی تھا کی سازش سے مارا گیا۔ اسی سال ابو سعید جنابی نے جو حمدان اور عبدان کی ہدایت پر بحرین میں متعین ہوا تھا اس خطے کو قرمطی دعوت کا اصلی مرکز قرار دے دیا اور سنہ 970 ء تک مشرقی علاقوں میں فاطمیون کے اثر و رسوخ کے سامنے رکاوٹ بنا۔ عبیداللہ کے پیروکاروں کا مرکز یمن تھا جہاں علی بن فضل قرمطی دھڑے میں شامل ہوا اور مہدویت کا دعوی کیا تاہم ابن حوشب آخر عمر تک عبیداللہ کا وفادار رہا۔ ذکرویہ، جو ابتداء میں عبیداللہ کا حامی اور وفادار تھا، بعد میں قرامطہ میں شامل ہوا اور عراق اور شام میں قرمطی بغاوتوں کا اہتمام کیا اور حتی کہ سنہ 290 میں سلمیہ میں عبیداللہ کے اڈے پر حملہ آور ہوا۔ قرمطی دھڑا جبال، خراسان، ماوراء النہر (وسطی ایشیا)، فارس اور دوسرے علاقوں میں پھیل گیا۔

یہ عباسی خلافت کے خلاف بغاوت کرنے کی وجہ سے مشہور تھے - فرقے کے رہنما ابو طاہر سلیمان الجنّابی‎ نے مکہ مکرمہ پر حملہ کیا اور اس عظیم اور پاک شہر کی بےحرمتی کی، خاص طور سے وہاں بےشمار لوگوں کا قتل عام کیا۔ وہ خانہ کعبہ سے حجر اسود کو بھی اٹھا کر لے گئے اور کہہ گئے کہ آئندہ سے حج ان کے یہاں ہوا کرے گا۔انہوں نے زمزم میں لوگوں کی لاشیں پھینکیں۔اور یہ سب انہوں نے 930 عیسوی کے حج کے دوران کیا۔
اس سے پہلے قرامطیوں نے 900 عیسوی میں بغداد، شام اور بصرہ میں قتل و غارت کا بازار گرم کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا ان میں مہدی کا ظہور ہوا ہے، انہوں نے کوفہ اور بصرہ کے درمیان ڈیرے ڈال کر(شیعہ اور سنی) حاجیوں کے متوقع راستوں پر پہرے بٹھا دئیے تھے۔ ان کے نزدیک مسلمان عورتوں اور بچوں کا قتلِ عام کارِ ثواب تھا۔

ہلاکو خان نے قلعہ الموت کو فتح کرکے حسن بن صباح کے آخری جانشین رکن الدین کو گرفتار کیا تھا اور ہزاروں فدائیوں کو قتل کر دیا تھا۔ یہ جہاں بھی پائے گئے ان کو عبرتناک سزائیں دی گئیں۔ کہیں قتل کیا گیا تو کہیں ہاتھیوں سے روندا گیا۔

حسن بن صباح تھا تو اسماعیلی پر 1094ء میں اس نےاسماعیلیوں سے قطع تعلق کرکے اپنی ایک آزاد ریاست بنا لی تھی اور اپنے آپ کو "شیخ الجبال" نامزد کیا تھا۔ بہت سے مورخ کہتے ہیں کہ اس کا تعلق فرقہ باطنیہ سے تھا ۔