قرامطہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

قرامطہ اسماعیلی فرقے کی ایک شاخ تھے اور بنیادی طور پر شیعہ عقائد کے حامل تھے۔،انہون نے 899 عیسوی میں ایک مثالی جمہوریہ قائم کرنے کی کوشش میں مشرقی عرب میں مرکوز گروپ بنایا تھا۔- یہ عباسی خلافت کے خلاف بغاوت کرنے کی وجہ سے مشہور تھے - فرقے کے رہنما ابو طاہر سلیمان الجنّابی‎ نے مکہ مکرمہ پر حملہ کیا اور اس عظیم اور پاک شہر کی بےحرمتی کی، خاص طور سے وہاں بےشمار لوگوں کا قتل عام کیا- اس نے خانہ کعبہ سے حجر اسود کو بھی اٹھا کر لے گئے اور کہہ گئے کہ آئیندہ سے حج ان کے یہاں ہوا کرے گا۔انہوں زمزم میں لوگوں کی لاشیں پھینکیں اور یہ سب انہوں نے 930 عیسوی کے حج کے دوران کیا-اس سے پہلے قرامطیوں نے 900 عیسوی میں بغداد، شام اور بصرہ میں قتل و غارت کا بازار گرم کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا ان میں مہدی کا ظہور ہوا ہے، انہوں نے کوفہ اور بصرہ کے درمیان ڈیرے ڈال کر حاجیوں نے متوقع راستوں پر پہرے بٹھا دئیے تھے۔ ان کے نزدیک مسلمان عورتوں اور بچوں کا قتلِ عام کارِ ثواب تھا۔ ہلاکو خان نے قلعہ الموت کو فتح کرکے حسن بن صباح کے آخری جانشین رکن الدین کو گرفتار کیا تھا اور ہزاروں فدائیوں کو قتل کر دیا تھا۔ یہ جہاں بھی پائے گئے ان کو عبرتناک سزائیں دی گئیں۔ کہیں قتل کیا گیا تو کہیں ہاتھیوں سے روندا گیا۔ حسن بن صباح تھا تو اسماعیلی پر 1094ء میں اس نےاسماعیلیوں سے قطع تعلق کرکے اپنی ایک آزاد ریاست بنا لی تھی اور اپنے آپ کو "شیخ الجبال" نامزد کیا تھا۔ بہت سے مورخ کہتے ہیں کہ اس کا تعلق فرقہ باظنیہ سے تھا