قراۃ العین حیدر
| قرۃ العین حیدر | ||
|---|---|---|
قرۃ العین حیدر
|
||
| ادیب | ||
| ولادت | 1927ء علی گڑھ، اتر پردیش، برطانوی ہندوستان | |
| ابتدا | برطانوی ہندوستان | |
| وفات | 21 اگست 2007ء | |
| اصناف ادب | ناول | |
| معروف تصانیف | آگ کا دریا، آخر شب کے ہم سفر | |
قرۃ العین حیدر بھارت میں مقیم اردو کی ایک خاتون ناول نگار تھیں۔
فہرست |
[ترمیم] ابتدائی زندگی
1927 میں اتر پردیش کے شہر علی گڑھ میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد سجاد حیدر یلدرم اردو کے پہلے افسانہ نگار شمار کیے جاتے ہیں۔ تقسیم ہند کے بعد قرۃالعین حیدر کا خاندان پاکستان چلا گیا لیکن بعد میں انہوں نے ہندوستان آ کر رہنے کا فیصلہ کیا۔
[ترمیم] ادب
قرۃالعین حیدر نہ صرف ناول نگاری بلکہ اپنے افسانوں اور بعض مشہور تصانیف کے ترجموں کے لیے بھی جانی جاتی ہیں۔ ان کے مشہور ناولوں میں’آگ کا دریا‘ ، ’آخرِ شب کے ہم سفر‘ ، ’ میرے بھی صنم خانے‘ ، ’چاندنی بیگم‘ اور ’کارِ جہاں دراز‘ شامل ہیں۔
[ترمیم] ناول
ان کے سبھی ناولوں اور کہانیوں میں تقسیم ہند کا درد صاف دکھتا ہے اور ان کے دو ناولوں ’آگ کا دریا‘ اور ’آخر شب کے ہم سفر‘ کو اردو ادب کا شاہکار مانا جاتا ہے۔
’آخرِ شب کے ہم سفر‘ کے لیے 1989 میں انہیں ہندوستان کے سب سے باوقار ادبی اعزاز گیان پیٹھ ایوارڈ سے بھی نوازا گیا جبکہ بھارتی حکومت نے انہیں1985 میں پدم شری اور 2005 میں پدم بھوشن جیسے اعزازات بھی دیے۔
[ترمیم] شعور کی رو
11 سال کی عمر سے ہی کہانیاں لکھنے والی قرۃالعین حیدر کو اردو ادب کی ’ورجینا وولف‘ کہا جاتا ہے۔ انہوں نے پہلی بار اردو ادب میں ’سٹریم آف کونشیئسنس‘ تکنیک کا استعمال کیا تھا۔ اس تکنیک کے تحت کہانی ایک ہی وقت میں مختلف سمت میں چلتی ہے۔
[ترمیم] وفات
21 اگست 2007 کو دہلی میں طویل علالت کے بعد ان کا انتقال ہوا۔