قراۃ العین طاہرہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

مشہور فارسی شاعرہ اور بہائی مذہب کی عظیم مبلغہ تھیں۔ کلاسیکی فارسی شاعرات میں ان کا نام سب سے بلند مرتبہ رکھتا ہے۔

زندگی[ترمیم]

1823 میں ایران کے قدیم شہر قزوین میں پیدا ہوئیں۔ ان کا اصل نام زرین تاج تھا۔ وہ ایران کے عظیم شیعہ آیۃ اللہ ملا برغانی کی صاحبزادی تھیں، والدہ کا نام آمنہ خانم قزوینی تھا۔ ان کی شادی قزوین کے نوجوان عالم شیخ محمد تقی سے ہوئی، جنہیں شہید ثالث کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ ان کی فطانت اور علمیت کا یہ عالم تھا کہ کم عمری ہی میں وہ اپنے والد اور چچا جیسے نوابغ کو مباحثوں میں لاجواب کر دیتیں۔ وہ بچپن ہی سے ایک قادرالکلام شاعرہ بھی تھیں۔ ایران میں ان کی شہرت کی ایک اور وجہ ان کا حسن و جمال بھی تھا۔

قراۃ العین طاہرہ، زرین تاج

1850ء میں، دین میں فتنہ پھیلانے کے الزام میں بادشاہ ناصر الدین قاچار نے انہیں سزائے موت دلوا دی۔

مذہب[ترمیم]

وہ پیدائشی طور پر شیعہ خانوادہ سے تعلق رکھتی تھیں، لیکن ابتداء ہی سے ہر بات پر “کیوں“ کی جرح کرنے والا باغیانہ مزاج پایا تھا۔ شہر میں دینی مسائل پوچھنے کے لیے آنے والی خواتین سے انہوں نے علی محمد باب کے خروج اور تعلیمات کا سنا جس نے حال ہی میں مہدویت کا دعوی کیا تھا۔ طاہرہ نے ان تعلیمات سے متاثر ہوئیں اور باب سے خفیہ حط کتابت شروع کر دی۔ وہ علی محمد باب پر ایمان لانے والے پہلے 18 لوگوں (جو بابی تاریخ میں “حروف حی“ کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں)، میں سے واحد خاتون مبلغہ تھیں۔ سیّد کاظم رشتی نے انہیں “قراۃ العین“ کا لقب دیا اور بہاء اللہ نے انہیں “طاہرہ“ کا لقب دیا۔

انہوں نے اپنے گھر کو خیرباد کہنے کے بعد شہر بہ شہر بابی مذہب کی تبلیغ شروع کر دی اور ہزاروں لوگوں کو اپنے نظریات سے متاثر کیا۔ وہ ایک بلیغ اور شعلہ نوا مقرر تو تھیں ہی، لیکن ان کے حسن کا یہ عالم تھا کہ وہ جب دوران تقریر اپنے چہرے سے نقاب گرا دیتیں تو مجمع میں موجود تمام حاضرین بابی مذہب کا کلمہ پڑھنے لگتے۔

علی محمد باب نے ان کے تن میں جناب سیّدہ فاطمۃ الزہرا کے روح کے حلول کر جانے کی نوید دی، جس سے انہوں نے مظہر سیدہ طاہرہ ہونے کا دعوی کر دیا، جسے ایران میں ہاتھوں ہاتھ‍ لیا گیا۔

بعد ازاں وہ بہاء اللہ کی تعلیمات کی بھی بہت بڑی مبلغ بنیں۔

وفات[ترمیم]

1850ء میں بغاوت ،دین میں فتنہ پھیلانے اور خواتین کے حقوق پر کچھ‍ باغیانہ سوالات اٹھانے کے الزام میں ایران کے بادشاہ ناصر الدین قاچار نے اپنے دربار بلایا۔ انہوں نے بادشاہ کو مخاطب کر کے یہ اشعار کہے:

تو و ملک و جاہ سکندری

من و رسم و راہ قلندری

اگر آن خوش است، تو در خوری،

اگر این بد است، مرا سزا۔۔

(تیرے پاس ملک، جاہ اور بادشاہی ہے، میں ہوں کہ میرے پاس قلندرانہ اطوار ہیں۔

اگر وہ بھلی چیز ہے، تو تجھے مبارک، لیکن اگر یہ شے بری ہے، تو مجھے [یہ بدی] قبول ہے۔)

کہا جاتا ہے کہ بادشاہ جو ان کے حسن و جمال کو دیکھ‍ کر پہلے ہی پگھلنے کے قریب تھا، ان کی اس بے ساختہ جواب پر ان کی ذہانت کا بھی قائل ہو گیا، اس خوف سے کہ ان کے مزید چند لمحے دربار میں رہنے پر مبادا وہ ان کو دل دے بیٹھے، جلد از جلد انہیں انجام تک پہنچا دیا جائے۔ اس نے ان کے بال ایک گھوڑے کے پیچھے باندھ‍ کر اسے دوڑا دیا اور انہیں اذیتیں دے کر قتل کر دیا گیا۔

نمونۂ کلام[ترمیم]

گر بہ تو افتدم نظر، چہرہ بہ چہرہ رو بہ رو

شرح دہم غم ترا، نکتہ بہ نکتہ مو بہ مو

از پۓ دیدن رخت ہمچو صبا فتادہ ام

خانہ بہ خانہ در بہ در، کوچہ بہ کوچہ کو بہ کو

می رود از فراق تو خون دل از دو دیدہ ام

دجلہ بہ دجلہ، یم بہ یم، چشمہ بہ چشمہ جو بہ جو

دور دہان نتگۃ تو، عارض عنبرین خطت

غنچہ بہ غنچہ گل بہ گل، لالہ بہ لالہ بو بہ بو

ابرو چشم و خال تو، صید نمودہ مرغ دل

طبع بہ طبع، دل بہ دل، مہر بہ مہر، خو بہ خو

مہر ترا دل حزیں، بافتہ بر قماش جاں

رشتہ بہ رشتہ نخ بہ نخ، تار بہ تار پو بہ پو

در دل خویش طاہرہ گشت و نہ دید جز ترا

صفحہ بہ صفحہ، لا بہ لا، پردہ بہ پردہ تو بہ تو

یہ غزل قراۃ العین طاہرہ کی نمائندہ غزل ہے، ان کی اس بحر پر مختلف شعراء نے بہت سی طبع آزمائی ہے۔ جون ایلیاء جو کہ قراۃ العین کے بہت بڑے مدّاح تھے، نے اس بحر کو اپنی پسندیدہ ترین بحر کہا ہے۔ ان کے والد سید شفیق الحسن ایلیاء امروہوی جو قراۃ العین طاہرہ کے افکار سے بہت متاثر تھے، نے اس زمین میں غزل کہی ہے:

روئے حسن، رخ حسین، جلوہ طراز مشرقین

غازہ بہ غازہ ، خط بہ خط، دیدہ بہ دیدہ ، دو بہ دو

طاہرہ اور حقوق نسواں[ترمیم]

قراۃ العین طاہرہ ایران میں حقوق نسواں پر بات کرنے والی پہلی خاتون تھیں۔ انہوں نے 1848ء میں، بابی مذہب قبول کرنے سے 4 سال قبل حقوق نسواں، اور عورت کے مرد کے برابر حقوق کی بات کی تھی۔

نمونئہ کلام[ترمیم]

مزید مطالعات[ترمیم]