قومی مفاہمت فرمان 2007ء

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
اصطلاح term

قومی
مفاہمتی
فرمان/حکم

national
reconciliation
ordinance

قومی مفاہمتی فرمان 2007ء اس صدارتی فرمان کو کہتے ہیں جو پرویز مشرف نے امریکی ایماء پر بینظیر بھٹو سے سیاسی مفاہمت ممکن بنانے کے لیے جاری کیا۔[1] اس قانون کے مطابق یکم جنوری 1986ء سے 12 اکتوبر 1999ء کے دوران مالی لوٹ کھسوٹ میں ملوث سیاستدانوں (جس میں بینظیر اور زرداری سر فہرست تھے) کو حکومت "قومی مفاہمت" کے جذبہ کے تحت معاف کر سکے گی۔ اس مفاہمت کے نتیجے میں آصف علی زرداری اور بینظیر بھٹو خاندان پر تمام مالی لوٹ کھسوٹ کے مقدمات حکومت پاکستان نے واپس لے لیے۔ "مفاہمت" کا یہ ہتھکنڈہ جنوبی افریقہ کی سیاست سے مستعار لیا گیا تھا جس میں سیاہ فام حکومت نے سابقہ گورے حکمرانون کے ظلم معاف کر دیے تھے۔

اکتوبر 2009ء میں (جب آصف علی زرداری صدر مملکت) اس فرمان کو پارلیمان کے سامنے پیش کر کے قانونی منظوری کا اہتمام کیا جانے لگا جس کے خلاف حزب اختلاف کی جماعت مسلم لیگ ن نے عوامی رائے عامہ ہموار کرنے کا بیان دیا۔[2][3] عوامی اور سیاسی مخالفت کے پیش نظر حکومت نے اس قانون کا مسودہ پارلیمان سے منظوری کے لیے پیش نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

مستفیدین[ترمیم]

حکومت کے مطابق آٹھ ہزار سے زائد افراد نے اس فرمان سے فائدہ اُٹھایا جن میں سرکردہ آصف علی زرداری، الطاف حسین (سیاستدان)، رحمان ملک، حسین حقانی شامل ہیں۔[4] صدر پاکستان آصف علی زرداری ، گورنر سندھ عشرت العباد کے علاوہ پاکستان کی مجلس قانون ساز کے 186 اراکین نے اس سیاہ صدارتی حکم سے استفادہ کرتے ہوۓ اپنے جرائم (جن کی اکثریت کرپشن کے مقدمات پر مشتمل ہے ) معاف کرا‎ئے ہیں جن میں قومی اسمبلی کے 152 اور سینٹ کے 34 اراکین شامل ہیں ان سب "معزز" اراکین کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی ، متحدہ قومی مومنٹ اور پیپلز پارٹی شیر پاؤ گروپ سے ہے.

متروک اور مقدمہ[ترمیم]

عدالت عظمی کی طرف سے حکومت کو اس فرمان کو پارلیمان سے 28 نومبر 2009ء تک منظور کروانے کی مہلت گزر جانے کے بعد یہ فرمان "متروک" ہو گیا۔[5] دسمبر 2009ء میں عدالت عظمی کے منصف اعظم افتخار چودھری نے فرمان کے بارے میں دائر درخواستوں کی سماعت کے لیے بڑا محکمہ تشکیل دینے کا حکم دیا۔[6]جیو ٹی وی کی اطلاع کے مطابق برطانیہ میں پاکستانی سفیر واجد شمس الحسن نے خفیہ کاروائی کے ذریعہ سوئٹزرلینڈ میں بینظیر اور آصف علی زرداری کے خلاف سابقہ مقدمہ سے متعلق دستاویزات کے 12 ڈبے ضائع کرنے کی غرض سے سوئس حکام سے حاصل کیے ہیں، کیونکہ خدشہ تھا کہ فرمان کی متروکی کے بعد یہ مقدمات دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں۔[7] 7 دسمبر 2009ء کو قومی احتسابی ادارہ کی طرف سے عدالت اعظمی میں "قومی مفاہمتی حکم" کے مستفدین کی فہرست پیش کی گئی۔[8] مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت کے سامنے سرکاری وکیل نے خیال ظاہر کیا کہ ملکی فوج اور CIA جمہوری حکومت کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ حکومت کی طرف سے عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ وہ "قومی مفاہمتی فرمان" کا دفاع نہیں کر رہے۔ زرداری نے ایک اخباری بیان میں اس امید کا اظہار کیا کہ عدالت "جمہوری حکومت کا قتل نہیں کرے گی"۔[9][10]

عدالتی فیصلہ[ترمیم]

16 دسمبر 2009ء کو عدالت عظمٰی نے فیصلہ دیتے ہوئے "قومی مفاہمتی فرمان" کو آغاز سے فسخ اور عدیمہ قرار دیتے ہوئے آئین سے متصادم قرار دیا۔ اس کے ساتھ تمام مقدمات جو اس فرمان کی وجہ سے ختم ہوئے تھے کو دوبارہ زندہ کرنے کا حکم دیا گیا۔ حکومت کو ہدایت کی گئی کہ وہ زرداری کے خلاف سویٹزرلینڈ میں دائر مقدمات (جنھیں واپس لے لیا گیا تھا) کو دوبارہ کھولنے کی درخواست دے۔[11][12] منصف اعظم نے ان مقدمات کی نگہبانی کرنے کے لیے عدالت عظمی میں نگہبانی خلیہ قائم کیا[13]، جسے مغرب نواز ناقدین نے غیر معمولی اقدام قرار دیا۔ [14]

نظرثانی درخواست[ترمیم]

گیلانی حکومت نے عدالت میں فیصلہ پر نظرثانی کی درخواست دائر کی جو کہ عدالت عظمی نے نومبر 2011ء میں مسترد کر دی۔

عوامی ردعمل[ترمیم]

عوامی حلقوں میں عدالتی فیصلہ کو سراہا گیا۔ کچھ حکومتی اور مغرب نواز حلقوں میں اس فیصلہ کو سیاسی قرار دیا۔[15]

حکومتی ردعمل[ترمیم]

وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے اگلے روز ملزم وزیر دفاع احمد مختار (جو مقدمات کی زد میں آ گیا تھا) کو قواعد کے مطابق بیرون ملک جانے سے روکنے پر دو سرکاری افسروں کو معطل کر دیا۔ اس کے علاوہ مقدمات کے حوالے سے زرداری کا بھرپور دفاع کیا۔ جس سے یہ تاثر ابھرا کہ ان کی حکومت عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد پر سنجیدہ نہیں۔[16] پیپلزپارٹی کی قیادت نے فیصلہ کیا کہ ملزم وزیر اپنے عہدوں سے نہ استعفی دیں گے اور نہ ہی علیحدہ کیے جائیں گے۔

ایک عرصہ تک حکومت نے عدالت کے فیصلہ پر عملدرآمد کی بجائے ٹال مٹول سے کام لیا۔ بالآخر سرکاری ادارہ قومی احتساب دفتر نے عدالت میں پیشی کے دوران جارحانہ رویہ اختیار کر لیا، اور منصف اعظم کی بجالی کو غیر قانونی بتایا اور کہا کہ عدالت کو اس ادارہ کی نگرانی کا کوئی اختیار نہیں۔[17]

عدالت عظمی نے ستمبر 2010ء کو وزیر قانون کو عدالت کے حکم پر ناعملدرآمد پر تین دن کے اندر جواب داخل کرانے کا حکم دیا۔[18]

پیپلز پارٹی کی حکومت نے تحقیقاتی اداروں پر اپنی پسند کے افسران بٹھا کر عدالتی فیصلوں پر کوئی کاروائی نہ ہونے دی۔ مارچ 2011ء میں عدالت عظمی نے قومی احتسابی ادارہ کے سربراہ کو بذریعہ عدالتی حکم ہٹا دیا۔[19] [20] [21] وزیراعظم گیلانی نے ملزم صدر زرداری کے خلاف سوئٹرلینڈ میں مقدمات کو دوبارہ کھولنے کے لیے عدالتی حکم کے مطابق خط لکھنے سے انکار کر دیا جس پر 2012ء میں عدالت نے گیلانی کو توہین عدالت کے الزام میں طلب کر لیا۔ مگر گیلانی اپنے موقف پر اڑا رہا۔[22] جس پر عدالت نے اسے مجرم قرار دیتے ہوئے رسمی سزا سنا دی۔

مزید دیکھیں[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ "Rice reveals all about Benazir-Musharraf NRO deal Says Musharraf was imposing martial". دی نیوز. 15 دسمبر 2011ء. http://www.thenews.com.pk/Todays-News-13-10996-Rice-reveals-all-about-Benazir-Musharraf-NRO-deal-Says-Musharraf-was-imposing-martial.
  2. ^ بی بی سی، 1 نومبر 2009ء
  3. ^ روزنامہ نیشن، 1 نومبر 2009ء، "اداریہ:Making NRO universal"
  4. ^ روزنامہ ڈان، 21 نومبر 2009ء، "Govt presents NRO beneficiaries’ list to media "
  5. ^ روزنامی ڈان، 28 نومبر 2009ء، "NRO, eight other ordinances cease to exist "
  6. ^ روزنامہ جنگ، 1 دسمبر 2009ء، "این آراو کیخلاف درخواستیں، سپریم کورٹ کا لارجر بینچ تشکیل دے دیا گیا"
  7. ^ روزنامہ جنگ، 1 دسمبر 2009ء، "سوئس منی لانڈرنگ کیس کے اصلی دستاویزات اور شواہد کی پراسرار منتقلی"
  8. ^ روزنامہ نیشن، 8 دسمبر 2009ء، "NAB submits list of NRO beneficiaries in SC"
  9. ^ روزنامہ ڈان، 16 دسمبر 2009ء، "SC asks govt to elaborate on ‘GHQ threats’ "
  10. ^ بی‌بی‌سی، 15 دسمبر 2009ء، "ایوانِ صدر عدلیہ کیلیے محترم ہے:چیف جسٹس"
  11. ^ روزنامہ نیشن، 17 دسمبر 2009ء، "SC strikes down NRO"
  12. ^ نیویارک ٹائمز، 16 دسمبر 2009ء، "Pakistan Strikes Down Amnesty for Politicians "
  13. ^ ڈان 19 دسمبر 2009ء، "Monitoring cells for NRO cases "
  14. ^ بی‌بی‌سی 19 دسمبر 2009ء، "عدلیہ دائرہ کار سے تجاوز کر گئی ہے"
  15. ^ روزنامہ نیشن، 21 دسمبر 2009ء، اداریہ، "Malicious campaign"
  16. ^ روزنامہ جنگ، اداریہ، 20 دسمبر 2009ء، "اداروں میں تصادم سے گریز کریں"
  17. ^ بی بی سی موقع، 7 جولائی 2010ء، "نگرانی کرنے کا کوئی اختیار نہیں"
  18. ^ نیوز، 21 ستمبر 2010ء، "Secretary Law ordered to submit fresh summary on NRO within 3 days"
  19. ^ "SC invalidates Deedar Shah’s appointment as NAB chief". ڈان. 10 مارچ 2011ء. http://www.dawn.com/2011/03/10/sc-outlaws-deedar-shahs-appointment-as-nab-chief.html. Retrieved 12 March 2011.
  20. ^ "SC takes notice of Sindh strike". ڈان. 12 مارچ 2011ء. http://www.dawn.com/2011/03/13/sc-takes-notice-of-sindh-strike.html. Retrieved 12 March 2011.
  21. ^ اداریہ (12 مارچ 2011ء). "تصادم سے بچ کر مفاہمت کا راستہ اختیار کیا جائے". روزنامہ جنگ. http://jang.net/urdu/details.asp?nid=512291. Retrieved 13 March 2011.
  22. ^ "PM Gilani says will not take advice to write letter to Swiss officials". نیشن. 11 مارچ 2012ء. http://www.nation.com.pk/pakistan-news-newspaper-daily-english-online/national/11-Mar-2012/pm-gilani-says-will-not-take-advice-to-write-letter-to-swiss-officials.

اخباری مدونہ[ترمیم]