قیس عبدالراشد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

قیس عبدالراشدؓ ، نبی محمدؐ کے ایک پشتون صحابی تھے۔آپ ؓ کو پشتونوں کا جدالامجد کہاجاتا ہے۔عبدالراشدؓ وہ پہلے پشتون تھے جنہوں نے اسلام کے ابتدائی دنوں میں مکہ اور مدینہ شریفین تشریف لے گئے اور وہاں خاتم النبین محمدؐ سے ملاقات فرمائی۔
تاریخی اعتبار سے عبدالراشدؓ پشتون قوم کے بانی اور باپ اور سردار مانے جاتے ہے اور کہا جاتا ہے کہ یہ جناب طالوت (بنی اسرائیل کا بادشاہ) کے 37 ویں پشت پہ آتے ہیں۔حالانکہ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ 101ویں پشت پہ ہیں۔

ملاقاتِ مدینہ[ترمیم]

مورخین کے مطابق،جب ابتدائی دورِ اسلام میں اسلام کے بارے میں خبر دور دور تک پھیل گئی تو پشتونوں نے بھی اپنے سردار جناب عبدالراشدؓ کو مدینہ یا مکہ بھیجا تاکہ اسلام کے بارے میں معلومات دردست کرے تو جناب قیس ؓ کو محمدﷺ سے خالد بن ولیدؓ نے ملوایا۔اور جب محمدؐ سے ان کی ملاقات ہوئی تو اسی وقت انہوں نے اسلام قبول کیا اور جب واپس اپنے پشتون قبائیل کے پاس آئے تو انہیں بھی اسلام کی تائد کی اور پشتونوں نے اسلام قبول کیا ، حالانکہ کہا جاتا ہے کہ پشتون بنی اسرائیل تھے اور تبلیغِ اسلام سےپہلے بھی ان کا مذہب توحید پر مبنی تھا اور وہ ہمیشہ سے ایک اللہ کی عبادت کرتے آرہے ہیں۔

وفات[ترمیم]

کہاجاتا ہے کہ جب عبدالراشدؓ کو یہ محسوس ہوا کہ ان کے وفات قریب ہے تو انہوں نے اپنے بیٹوں سے کہا کہ وہ انہیں غور کے علاقے سے کوہ سلیمان لے کر دفنائے جہاں پر ان کی جد او تمام پشتون قوم کا جد افغانہ مدفن تھے،یہ پہاڑ ڈیرہ اسماعیل خان کے قریب موقوع ہے۔ اور ان کو وہاں دفن کیا گیا۔ آج کل اکثر پشتون قبائل کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ذیادہ تر قبائل ان کے اولاد ہیں۔

مزید دیکھئے[ترمیم]