لارڈ رودر فورڈ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
لارڈ رودر فورڈ

پیدائش:30 اگست 1871ء

انتقال:19 اکتوبر 1937ء

مشہور انگریز ماہر طبعیات ۔ نیوزی لینڈ میں پیدا ہوا۔ 1898ء سے 1907ء تک میک گل یونیورسٹی مونٹریال میں طبعیات کا پروفیسر رہا ۔ 1907ء سے 1919ء تک مانچسٹر یونیورسٹی میں پروفیسر اور طبعیات کی لیبارٹری کا ڈائریکٹر رہا۔ 1919ء سے وفات تک کیمرج یونیورسٹی میں تجربی طبعیات کا پروفیسر رہا ۔ 1908ء میں کیمیا کا نوبل پرائز ملا ۔ تاب کاری کے میدان میں اپنے تجربوں کے باعث عالمگیر شہرت حاصل کی۔ سب سے پہلے اسی نے یہ نظریہ پیش کیا تھا کہ ایٹم کے وسط میں ایک مرکزہ ہوتا جس کے گرد ذرات مختلف مدار میں گھومتے ہیں۔ مداروں کی کمی بیشی اور پیچیدگی کا انحصار اس ایٹم کے عنصر پر ہے۔ ایٹم کے اس نمونے کا سائنسی نام بھی ’’رودر فورڈ ایٹم ‘‘ پڑ گیا ہے۔ 1902ء میں تاب کارفرسودگی کا نظریہ بھی پیش کیا جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ذرات سے تابکار عناصر خارج کرنے سے تاب کار مادہ از خود ختم ہو جاتا ہے۔ 1904ء میں اس نے الفا ذرہ دریافت کیا جس کا دوسرا نام ہائیڈروجن ایٹم کا مرکزہ ہے۔ 1919 میں اس نے نائٹروجن کے ایٹموں پر الفا زرات کی بوچھاڑ کرکے دنیا پر یہ ظاہر کیا کہ ایٹم طبعی کائنات کا آخری جزو نہیں ہے۔ اس طرح اس نے طبعیات کا ایک نیا دروازہ کھولا ۔ایٹم کے مرکزے میں کام کرنے والے ایک مثبت ذرے ’’پروٹون‘‘ کا سراغ اس نے 1920ء میں لگایا ۔ اس نے اپنے موضوعات پر بے شمار مضامین اور کئی کتابیں تصنیف کیں۔