ایرنسٹ ردرفورڈ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(لارڈ رودر فورڈ سے رجوع مکرر)
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
The Right Honourable
The Lord Rutherford of Nelson
FRS OM
Ernest Rutherford cropped.jpg
Lord Rutherford of Nelson
پیدائش 30 اگست 1871 (1871-08-30)
Brightwater, Tasman District, New Zealand
وفات 19 اکتوبر 1937 (عمر 66 سال)
Cambridge, England, UK
سکونت New Zealand, United Kingdom
شہریت New Zealand, United Kingdom
میدان Physics and Chemistry
ادارے McGill University
University of Manchester
مادر علمی University of Canterbury
جامعہ کیمبرج
تعلیمی مشیر Alexander Bickerton
J. J. Thomson
علمائی طلباء Nazir Ahmed
Norman Alexander
Edward Victor Appleton
Robert William Boyle
Rafi Muhammad Chaudhry
Alexander MacAulay
Cecil Powell
Henry DeWolf Smyth
Ernest Walton
C. E. Wynn-Williams
Yulii Borisovich Khariton
Other قابل ذکر طلباء Edward Andrade
Edward Victor Appleton
Patrick Blackett
Niels Bohr
Bertram Boltwood
Harriet Brooks
Teddy Bullard
James Chadwick
John Cockcroft
Charles Galton Darwin
Charles Drummond Ellis
Kazimierz Fajans
Hans Geiger
Otto Hahn
Douglas Hartree
Pyotr Kapitsa
George Laurence
Iven Mackay
Ernest Marsden
Mark Oliphant
Thomas Royds
Frederick Soddy
وجہِ معروفیت برائے Father of nuclear physics
Rutherford model
Rutherford scattering
Rutherford backscattering spectroscopy
Discovery of proton
Rutherford (unit)
Coining the term 'artificial disintegration'
متاثر Henry Moseley
Hans Geiger
Albert Beaumont Wood
اہم انعامات Rumford Medal (1905)
Nobel Prize in Chemistry (1908)
Elliott Cresson Medal (1910)
Matteucci Medal (1913)
Copley Medal (1922)
Franklin Medal (1924)
دستخط

ایک مشہور کیمیادان (کیمسٹ) تھے جنہوں کیمیاء میں اہم کردار ادا کیا۔

لارڈ رودر فورڈ


مشہور انگریز ماہر طبعیات ۔ نیوزی لینڈ میں پیدا ہوا۔ 1898ء سے 1907ء تک میک گل یونیورسٹی مونٹریال میں طبعیات کا پروفیسر رہا ۔ 1907ء سے 1919ء تک مانچسٹر یونیورسٹی میں پروفیسر اور طبعیات کی لیبارٹری کا ڈائریکٹر رہا۔ 1919ء سے وفات تک کیمرج یونیورسٹی میں تجربی طبعیات کا پروفیسر رہا ۔ 1908ء میں کیمیا کا نوبل پرائز ملا ۔ تاب کاری کے میدان میں اپنے تجربوں کے باعث عالمگیر شہرت حاصل کی۔ سب سے پہلے اسی نے یہ نظریہ پیش کیا تھا کہ ایٹم کے وسط میں ایک مرکزہ ہوتا جس کے گرد ذرات مختلف مدار میں گھومتے ہیں۔ مداروں کی کمی بیشی اور پیچیدگی کا انحصار اس ایٹم کے عنصر پر ہے۔ ایٹم کے اس نمونے کا سائنسی نام بھی ’’رودر فورڈ ایٹم ‘‘ پڑ گیا ہے۔ 1902ء میں تاب کارفرسودگی کا نظریہ بھی پیش کیا جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ذرات سے تابکار عناصر خارج کرنے سے تاب کار مادہ از خود ختم ہو جاتا ہے۔ 1904ء میں اس نے الفا ذرہ دریافت کیا جس کا دوسرا نام ہائیڈروجن ایٹم کا مرکزہ ہے۔ 1919 میں اس نے نائٹروجن کے ایٹموں پر الفا زرات کی بوچھاڑ کرکے دنیا پر یہ ظاہر کیا کہ ایٹم طبعی کائنات کا آخری جزو نہیں ہے۔ اس طرح اس نے طبعیات کا ایک نیا دروازہ کھولا ۔ایٹم کے مرکزے میں کام کرنے والے ایک مثبت ذرے ’’پروٹون‘‘ کا سراغ اس نے 1920ء میں لگایا ۔ اس نے اپنے موضوعات پر بے شمار مضامین اور کئی کتابیں تصنیف کیں۔


سونے پر تجربہ[ترمیم]

مہدف مقالہ: ردرفورڈ ماڈل
ردرفورد کے تجربے کا ایک تصویرِ عام

یہ اس وقت کی بات ہے جب ایٹم کا نیوکلس دریافت نہیں ہوا تھا۔ ردرفورڈ صاحب نے سونے کا ایک انتہائی باریک تکڑا لیا جس کا سائز تقریباً 0.0004 سینٹی مٹر تھا۔آپ نے نے اس کے اوپر 20000 الفا پارٹیکل کو نمٹایا۔ اس وقت آپ نے تین باتیں نوٹ کی۔

  1. ذیادہ تر پارٹیکل ایٹموں سے گزرگئے
  2. تھوڑے سے پارٹیکل جب ایٹم کے بیچ (نیوکلس) سے ٹکرائے تو انہوں نے اپنا پوزیشن یا طرف تبدیل کرلیا۔
  3. دو چار پارٹیکل جب ایٹم کے بالکل درمیان (نیوکلس کے درمیان) ٹکرا گئے تو وہ جیسے گئے تھے ویسے ہی واپس آگئے۔

ان تین نقطوں کے بعد یہ بات ثابت ہوئی کہ جوہر (ایٹم) کے بیچ میں کوئی سخت جگہ ہے جس کو نیوکلس کا نام دیا گیا۔اس تجربے کا ایک تصویر بائیں طرف دیکھایا گیا ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

مزید دیکھئے[ترمیم]