لال مسجد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
لال مسجد
مقام اسلام آباد, پاکستان
سال تاسیس تعمیر – 1966
مرمت – 2010
امام امام:
عبدالعزیز غازی
معلومات طرزِ تعمیر

لال مسجد پاکستان کے دار الحکومت اسلام آباد کے قلب میں آبپارہ کے علاقہ میں [1] 1965 میں تعمیر کی گئی ہے۔ سرخ پتھر سے تعمیر کے باعث یہ "لال مسجد" کے نام سے مشہور ہے۔ اس کے قریب وزات ماحولیات اور وزارت مذہبی امور کی عمارتوں کے علاوہ ایک عالی شان ہوٹل بھی واقع ہے۔

پاکستان کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کا صدر دفتر مسجد سے صرف ایک کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے ۔ مسجد اور مدرسے کے مہتمم دو بھائی غازی عبد الرشید اور مولانا عبد العزیز ہیں جن کے والد مولانا عبداللہ تھے۔ مولانا عبد اللہ سابق صدر پاکستان فیلڈ مارشل ایوب خان اور جنرل ضیا الحق کے قریب سمجھے جاتے تھے۔ مولانا عبد اللہ غازی مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے سربراہ بھی رہے تھے۔

وجہ شہرت[ترمیم]

لال مسجد کا سب سے پہلے باقی ملک کے لوگوں نے اس وقت نام سنا جب اکتوبر دو ہزار ایک میں افغانستان پر حملے کے بعد یہاں سے طالبان کی حمائت میں جلوس نکلنے شروع ہوئے۔لیکن یہاں کے منتظمین نے سیاسی طاقت کا پہلا بھر پور مظاہرہ 2007 میں کیا جب مسجد سے متصل مدرسے کی طالبات نے مبینہ غیر قانونی مساجد کے انہدام کے جواب میں بچوں کی لائبریری پر قبضہ کرلیا۔ بعض تجزیہ نگاروں کے خیال میں لال مسجد والوں نے یہ کاروائی اس بات سے توجہ ہٹانے کے لیے کی کہ انہوں نے سرکاری زمین پر ناجائز قبضہ کر کے جامعہ حفصہ کی تعمیر کی اور کچھ زمین لال مسجد کے احاطہ میں شامل کی۔ لال مسجد والے زمین پر ناجائز قبضہ سے انکار نہیں کرتے بلکہ اس کا جواز یہ پیش کرتے ہیں کہ اور لوگوں نے بھی سرکاری زمینوں پر قبضہ کر رکھا ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے سربراہ ڈاکٹر خالد مسعود نے کہا ہے کہ لال مسجد تنازعہ کے پس منظر میں انہوں نے حکومت سے کہا ہے کہ غیر قانونی اور قابض جگہ پر تعمیر کردہ مساجد بھی غیر قانونی ہوتی ہیں اور ان کی کوئی شرعی حیثیت نہیں ہے۔[2]

اس دوران لال مسجد اور کچھ جامعہ فریدیہ کے طلباء نے وڈیو دوکانوں کے چکر لگانے شروع کردیئے۔لٹھ بازی کی تربیت شروع ہوگئی اور طالبات نے کمانڈو ایکشن کرکے تین عورتوں اور دو پولیس والوں کو پکڑ لیا۔ حکومت نے اس مرتبہ بھی مسجد اور مدرسے کی جانب سے پیش کردہ شرائط پر سمجھوتہ کرلیا۔اس سے مزید حوصلے بڑھے اور پھر نہ صرف شرعی عدالت قائم ہوگئی ہے بلکہ حکومت اور لوگوں کو تائب ہونے اور نفاز شریعت کا بھی الٹی میٹم مل گیا۔ لال مسجد کے طالبان نے کئی بار لوگوں کو یرغمال بنایا ہے۔ بی بی سی کے مطابق 18 مئی 2007 کو انھوں نے چار پولیس والوں کو قابو کر کے لال مسجد میں بند کر دیا۔ حکومت اس مسئلہ پر بظاہر بے بس نظر آتی ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ شاید یہ ایک ڈرامہ ہے۔ [3] 23 جون 2007ء کو لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے طلبا اور طالبات نے کچھ چینیوں کو بھی اغوا کیا۔ ان پر الزام لگایا کہ وہ فحاشی پھیلاتے تھے اور یہ الزامات ثابت بحی ہوگیے ہیں اہل محلہ کی گواہی سے۔ انہوں نے چینی لوگوں کو مارا پیٹا اور اغوا کر کے لال مسجد کے اندر لے گئے۔ کیونکہ وہ جسم فروشی کے مکروہ کاروبارمیں مبتالا تحا قابلِ غور بات یہ ہے کہ یہ اغوا اور تشدد صوبہ سرحد کے آفتاب احمد خان شیرپاؤ کے چین کے انتہائی اہم نوعیت کے دورے سے عین ایک دن پہلے کیا گیا۔[4]

تصادم[ترمیم]

جولائی 2007ء میں سرکاری رینجرز اور پولیس نے لال مسجد اور جامعہ حفصہ کو گھیرے میں لے کر ان کے خلاف کاروائی کا آغاز کر دیا جس میں 19 کے قریب افراد مارے گئے اور نامعلوم تعداد میں زخمی ہوئے۔ مبصرین نے لال مسجد کی مذہبی قیادت کی افسوسناک تاریخ اور کاروائی کو پرویز مشرف حکومت کی طرف سے کھیلے جانے والا ڈرامہ قرار دیا ہے جس میں دونوں اطراف کو اپنے مقاصد کیلئے آلہ کار بنایا گیا۔[5] چار سے زیادہ دنوں پر محیط اس کاروائی جس میں باقاعدہ فوج کے کمانڈوز نے بھی حصہ لیا، کو مبصرین نے فوجی انتظامیہ کی شدید پیشہ وارانہ نااہلی قرار دیا ہے۔[6][7] 4 جولائی 2007ء کو لال مسجد کے خطیب عبدالعزیز برقع میں فرار ہوتے ہوئے پکڑے گئے۔ وہ برقع پہن کر لال مسجد سے باہر آنے والی طالبات کے جھرمٹ میں عورت کا بہروپ بھر کر فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ [8] قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ لال مسجد کے خطیب عبد العزیز کی برقع میں گرفتاری تمام دینی علماء کے لیے ایک باعث شرم عمل ہے۔[9] مسجد کے خطیب عبدالعزیز کے برقع میں عورتوں کی طرح فرار سے ان کے ساتھیوں کو شدید مایوسی ہوئی جن کو وہ مرنے یا شہید ہونے کی تلقین کرتے تھے۔ فوجی ترجمان کے مطابق 7 اور 8 جولائی کی درمیانی شب کو مسجد کے اندر چھپے ہوئے دہشت گردوں کی فائرنگ سے فوجی کاروائی کے قائد لیفٹینینٹ کرنل ہارون اسلام مارے گئے۔ [10] وفاقی وزیر مذہبی امور اعجاز الحق نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ لال مسجد میں دو سے پانچ دہشت گرد موجود ہیں جو مختلف سنگین مقدمات میں حکومت کو مطلوب ہیں۔ اس کے علاوہ شبہ ہے کہ پاکستانیوں کے علاوہ غیر ملکی دھشت گرد بھی ہوں گے۔[11]
10 جولائی سے پہلے کی شب بڑا آپریشن شروع ہونے کے بعد، جو اگلی صبح بھی جاری رہا، آٹھ فوجی اور پچاس افراد ھلاک ہوگئے۔ لیکن مزے کی بات یہ کہ عبدالعزیز پہلے ہی برقعہ میں فرار ہوتے ہوئے پکڑا گیا ہے اور اس کی بیوی ام حسان نے 10 جولائی کو خود کو سیکیورٹی فورسز کے حوالے کر کے اپنی جان بچائی حالانکہ یہی دونوں معصوم طلبا اور طالبات کو دھشت گردی پر اکسانے والے تھے۔ یوں انہوں نے سینکڑوں بچوں کو مرنے کے لیے چھوڑ دیا۔[12]

عبد الرشید کا انتقال[ترمیم]

لال مسجد کے مہتمم عبدالرشید غازی 10 جولائی کوفوجی آپریشن کے دوران جاں بحق ہوگئے۔ اس بات کو وزارتِ داخلہ نے کنفرم کر دیا ہے۔ بعض مبصرین کے مطابق قائداعظم یونیورسٹی کے پڑھے ہوئے عبدالرشید غازی نے، جو روایتی مولوی نہیں تھے، شیر جیسے کردار کا مظاہرہ کیا جبکہ ان کے بھائی عبدالعزیز، جو اصل میں لال مسجد کے سب سے بڑے مولوی تھے، اور ان کی بیوی ام حسان نے ان جیسے کردار کا مظاہرہ نہیں کیا اور اپنی جان بچانے کو ترجیح دی۔ البتہ بعض مبصرین یہ سمجھتے ہیں کہ عبدالعزیز نے برقع میں گرفتاری بہت سی جانیں بچانے کے لیے دی۔ لیکن خود عبدالعزیز کے بیان کے مطابق اسلام میں اپنی جان بچانا جائز ہے اس لیے میں نے اپنی جان بچائی۔ مگر بعد میں ایک تبدیل شدہ بیان میں انہوں نے کہا کہ اصل میں وہ بیت اللہ محسود سے ملنے کے لیے برقعہ کا سہارا لے کر جا رہے تھے۔
اخبارات نے یہ بھی لکھا کہ عبدالعزیز نے دعویٰ کیا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تین سو مرتبہ ان کے خواب میں آئے اور جہاد کی تلقین کی۔۔ [13] غازی عبد الرشید کی ہلاکت شام سات بجے واقع ھوئی۔ برٹش کینیڈا یونیورسٹی کے ممتاز ماہرِسیاسیات حیدر نظامانی نےروزنامہ ٹائمز پاکستان میں اپنے تبصرہ میں انکشاف کیا کہ حکام کی طرف سے عام معافی اور غیر ملکی (دہشت گرد) مہمانوں کے لیئے محفوظ راستہ نہ ملنے پر مولانا عبد الرشید غازی نے موت کو ترجیح دی.[1] جبکہ عینی گواہوں اور تجزیہ کاروں نے عبد الرشید غازی کی ہلاکت کو لال مسجد کے دھشت گردوں کی کارروائی قرار دی. جو ہتھیار ڈالنے کی پیشکش پر اُس کے مخالف ہو گئے تھے.[2] اس سے قبل اُسکی والدہ بھی دم گھٹنے سے ہلاک ہوئی تھی۔

بعد از فوجی کاروائی[ترمیم]

12 جولائی 2007ء کو بالاخر ذرائع ابلاغ کو لال مسجد اور جامعہ حفصہ کا دورہ کروایا گیا۔ یہاں فوجی حکومت کے بیانات کے برعکس نہ تو کوئی غار دریافت ہوئی، نہ سرنگ، نہ ہی بڑے دہشت گردوں کا کوئی سراغ۔ تہ خانے جن کا بڑا چرچا تھا (جہاں شدت پسند کے چھپے ہونے کا بتایا جاتا رہا)، میں بھی جنوبی جانب کھڑکیاں تھیں، جس طرف سے فوج نے راکٹ داغے۔ فوجی جوان جوتوں سمیت مسجد میں دندناتے پھر رہے تھے۔ پھر بھی اخبار نویسوں کو عمارات کے تمام حصوں میں نہیں جانے دیا گیا۔ [14][15][16]

عدالت اعظمٰی[ترمیم]

خونی فوجی کاروائی سے پہلے عدالت عظمٰی کے دو رکنی مَحکمہ نے حکومت کو بات چیت کے زریعے حل نکالنے کا حکم دیا تھا۔ حکومت کی طرف سے چودھری شجاعت حسین نے مذاکرات کیے اور خبروں کے مطاابق ایک معاہدہ کی شرائط پر اتفاق رائے ہو گیا تھا، مگر اطلاعات کے مطابق صدر جنرل پرویز مشرف نے شرائط بدل کر اس کوشش کو ناکام بنا دیا۔ فوجی کاروائی شروع ہونے کے بعد عدالت نے آئین کی رُو سے اس میں مداخلت سے معذوری ظاہر کی۔ کاورائی ختم ہونے کے بعد عدالت نے مدرسہ کے گرفتار شدہ طلباء کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا ہے اور گرفتار شدگان کی فہرست عدالت میں پیش نہ کرنے پر پولیس اور کمشنر اسلام آباد کی سرزنش کی۔ تاہم عدالت نے ہلاک شدگان کی صحیح تعداد کے بارے متضاد دعووں کی تحقیقات کرنے سے گریز کیا۔[17] 23 جولائی کو عدالت نے حکم دیا کہ لال مسجد میں مرنے، زخمی، اور لاپتہ افراد کی فہرست عدالت کو پیش کی جائے۔ منصفین نے حکومتی حرکتوں پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔[18] اس سے پہلے حکومت انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی عدالت سے سینکڑوں طلبہ کا جسمانی ریمانڈ لے کر جیل میں ڈال چکی ہے۔ 28 اگست 2007ء کو عدالت نے حکم دیا کہ جامع حفصہ کی جگہ کوئی دوسری تعمیر فی الحال نہ کی جائے۔[19]

ممکنہ اثرات[ترمیم]

دونوں طرف کی پارٹیوں کے غلط ہونے کے باوجود اس واقعہ کے پاکستان پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ جہاں اس کو سیاسی طور پر استعمال کیا جائے گا وہاں یہ عین ممکن ہے کہ یہ امریکہ کی خواہش کے عین مطابق پاکستان میں خانہ جنگی کی ابتداء ثابت ہو۔ یعنی مسلمانوں کی قوت امریکہ کے خلاف استعمال ہونے کی بجائے آپس ہی میں ضائع ہو جائے۔ صوبہ سرحد میں پہلے ہی مسائل شروع ہو چکے ہیں۔ بٹگرام میں فساد ہو چکا ہے جس میں کئی سرکاری دفاتر جلائے جا چکے ہیں۔ امکان ہے کہ 11 جولائی کو پاکستان میں شدید ردِ عمل سامنے آئے۔ اس کے علاوہ 13 جولائی بروز جمعہ بھی ھڑتالیں، توڑ پھوڑ اور احتجاج متوقع ہے۔

متحدہ مجلس عمل نے تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اس کے علاوہ لال مسجد کے واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔

رد عمل[ترمیم]

تمام واقعات مقامی اخبارات سے لیے گئے ہیں۔

  • 14 جولائی۔ پاکستان میں شمالی وزیرستان کے علاقے رزمک میں ایک خودکش حملے میں 24 سکیورٹی اہلکار ہلاک اور ستائیس زخمی ہوگئے۔
  • 15 جولائی۔ پاکستان کے علاقہ سوات کے صدر مقام مینگورہ کے قریب حملے میں11 فوجیوں سمیت 14 افراد ہلاک 39 زخمی ہو گئے۔
  • 15 جولائی۔ پاکستان کے شہر ڈیرہ اسماعیل خان کی پولیس لائینز میں ہونے والے ایک خود کش حملے میں سترہ افراد ہلاک اور پینتیس زخمی ہو گئے
  • 15 جولائی۔ پاکستان کےعلاقے شمالی وزیرستان کے طالبان نےگزشتہ برس حکومت کے ساتھ کیا جانے والا امن معاہدہ ختم کرنے کا اعلان کیا ہے ۔علاقے میں گوریلا کارروائیاں شروع کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔ جب سے یہ معاہدہ ہوا تھا ، امریکہ کی شدید خواہش تھی کہ یہ معاہدہ ختم ہو جائے۔
  • 17 جولائی۔ چیف جسٹس افتخار چوھدری کی اسلام آباد کی ریلی میں خود کش حملے سے 17 افراد ہلاک ہو گئے۔
  • 18 جولائی۔ شمالی وزیرستان، پاکستان میں دھشت گردوں کے ایک اور خود کش حملہ میں سترہ فوجی ہلاک اور گیارہ زخمی ہو گئے۔
  • 19 جولائی۔ ہنگو اور حب میں دھماکے، 33 ہلاک۔ حب میں اصل نشانہ چینی شہری تھے جو بچ گئے۔ اس حملہ کے بارے میں واضح نہیں کہ یہ لال مسجد کا رد عمل ہے یا کچھ اور مگر لال مسجد والوں کی مانند یہ بھی چینی شہریوں پر خاص مہربان نظر آتے ہیں۔
  • 19 جولائی۔ کوہاٹ چھاؤنی کی مسجد میں خود کش حملہ۔ چودہ افراد ہلاک

ویب سائٹس اور ویڈیو[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ لال مسجد کا تعارف
  2. ^ مفتی منیب الرحمان نے غیر قانونی قبضے سے مطالق کہا کہ اس میں بھی حکومت کا قصور کیونکہ جب مسجد یا مدرسہ تعمیر تعمیر ہوتے ہیں تو حکومت خاموش رہتی ہے مگر جب اسے اہل مساجد کو دھماکا نا ہوتا ہے تو پھر نوٹسز بھیجے جاتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر کسی ایسی جگہ ہر جو عوام الناس کی مشترکہ ملکیت یو پر اہل محلہ باہمی اشتراق سے مسجد و مدرسہ قائم کرلیں تو اس تو غیر قانونی قرار نہیں دیا جاسکتا۔بی بی سی اردو
  3. ^ بی بی سی اردو
  4. ^ بی بی سی اردو
  5. ^ روزنامہ ڈان، 6 جولائی 2007ء، ایاز امیر کا تبصرہ، "A drama to beat all dramas"
  6. ^ ڈیلی ایکسپریس، لاہور، 7 جولائی 2007ء، عبدالقادر حسن کا کالم، "ملا اور مجاہد"
  7. ^ روزنامہ ڈان، 8 جولائی 2007ء، "Questions raised as standoff drags on"
  8. ^ بی بی سی اردو 4 جولائی 2007ء
  9. ^ بی بی سی اردو
  10. ^ بی بی سی 8 جولائی 2007ء
  11. ^ بی بی سی 8 جولائی 2007ء
  12. ^ بی بی سی 10 جولائی 2007ء
  13. ^ نوائے وقت
  14. ^ بی بی سی، 12 جولائی 2007ء، "لال مسجد: سوالوں کے جواب ندار"
  15. ^ روزنامہ ڈان، 13 جولائی 2007ء، "Charred remains speak of fierce battles"
  16. ^ انڈیپنڈنٹ، برطانیہ، 13 جولائی 2007ء، " Pakistan quick to clean the blood from Red Mosque "
  17. ^ علمائے کرام جن میں ملک کے جید علماء مولانہ سلیم اللہ خان (صدر وفاق المدارس) مولانا رفیع ثمانی (مفتی اعظم پاکستان) و دیگر کا کہنا تھا کہ حکومت اور عبدالردشید غازی کے مزاکرات کامیاب ہوئے تھے مگر پرویز مشرف نے اسے ویٹو کردیا وہ مسجد میں خونی آپریشنن کے در پہ تھے جس کا مقصد آمریکی آشیر باد حاصل کرنا تھا۔ روزنامہ نیشن، 14 جولائی 2007ء، "SC orders govt to free students"
  18. ^ روزنامہ نیشن، 24 جولائی 2007ء، "SC seeks details of Lal Masjid operation "
  19. ^ 29 روزنام نیشن اگست 2007ء، "No construction at Hafsa site, orders SC"

بیرونی روابط[ترمیم]

بلاگ و چوپال[ترمیم]