لاپتہ افراد مقدمہ، پاکستان
لاپتہ افراد' مقدمہ ان افراد کو بازیاب کروانے کے لیے پاکستان کی عدالت اعظمی میں دائر کیا گیا جن کو 2001ء کی دہشت پر جنگ شروع ہونے کے بعد پاکستان کے مختلف شہروں اور قصبوں سے پولیس، خفیہ اداروں، اور ISI نے اغوا کر کے غیر قانونی طور پر مقید کیا ہوا تھا۔[1] ان میں سے بعض کو امریکہ کے حوالے کر دیا گیا جن کی اکثریت افغانستان میں امریکی فوجی عقوبت خانوں میں قید ہے۔ پاکستان میں قید ہونے والوں سے بھی امریکی اہلکار تشدد اور پوچھ گچھ میں ملوث ہیں۔ امریکیوں کا بظاہر مقصد طالبان کے رہنماوں کا پتہ چلانا ہے۔[2]
اغوا کندگان کی کچھ تعداد بلوچستان کی قومیتی جماعتوں سے تعلق رکھتی ہے جن کے بارے میں خفیہ اداروں کو بیرونی ممالک کی شئے پر وفاق کو نقصان پہنچانے کا شبہ ہے۔[3]
فہرست |
تحقیقاتی لجنہ [ترمیم]
لاپتہ افراد کے بارے تحقیق کرنے کے لیے عدالت اعظمی کے سابق منصف جاوید اقبال کی سربراہی میں لجنہ قائم کیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ لاپتہ افراد کی تعداد کے بارے میں بے بنیاد پراپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔ لاپتہ افراد کی کچھ تعداد بیرون ملک مقیم ہے۔[4] [5]
عوامی ردعمل [ترمیم]
ماروائے عدالت گرفتاریوں پر عوامی احتجاج ہوا۔[6]
مزید [ترمیم]
2011ء میں لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے وزارت داخلہ کا جاری کردہ گوشوارہ پُر کیا جا سکتا ہے۔[7]
اندرونی روابط [ترمیم]
- ^ روزنامہ ڈان، 18 مارچ 2010ء، "Lt. Col threatens SC lawyer in missing persons’ case "
- ^ انڈپنڈنت، 18 مارچ 2010ء، "Robert Fisk: Into the terrifying world of Pakistan's 'disappeared'"
- ^ بی بی سی، 18 مارچ 2010ء، "’لاپتہ بلوچوں کے مقدمات درج کیے جائیں‘"
- ^ "Foreign agencies behind missing persons: Justice Iqbal". ڈان. 9 جون 2012ء. http://dawn.com/2012/06/09/foreign-agencies-behind-missing-persons-justice-iqbal/.
- ^ "بیرونی خفیہ ادارے بلوچستان کے حالات خراب کر رہے ہیں‘". بی بی سی اردو موقع. 9 جون 2012ء. http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2012/06/120609_balochistan_judge_presser_sa.shtml.
- ^ "Pain hardens resolve of families of missing persons". ڈان. 16 فروری 2012ء. http://www.dawn.com/2012/02/16/pain-hardens-resolve-of-families-of-missing-persons-3.html.
- ^ وزات داخلہ پاکستان