لشکر طیبہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

پاکستان سے تعلق رکھنے والے سلفی مجاہدین کی تنظیم ہے ۔ جو افغانستان میں روس کے خلاف جہاد کے دوران وجودمیں آئی۔ افغانستان سے روس کی واپسی کے بعد اس جماعت نے کشمیر کا رخ کیا اور انڈین فوج کے خلاف عسکری کاروائیاں شروع کردیں۔ اپنے مخصوص انداز اور بہادری کی وجہ سے لشکر نے بہت جلد نام پیدا کیا اور اپنا نیٹ ورک وادی سے کشمیر کے ہندو اکثریت والے علاقے جموں تک وسیع کردیا۔ فدائی کاروائیوں کا اغاز کا اغاز بھی لشکر نے ہی کیا ۔ 2001میں صدر مشرف نے عالمی دبائو پر لشکر طیبہ پر پابندی عائد کردی۔ جس کے بعد اس نے اپنا تنظیمی ڈھانچہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں منتقل کردیا اور اپنی عسکری کاروائیاں جاری رکھیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق اب تک 5500کارکنان بھارت کیخلاف عسکری کاروائیوں میں شھید ہوچکے ہیں۔

پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کی کاروائیوں میں کبھی لشکر طیبہ یا اس کا کوئی کارکن ملوث نہیں پایاگیا۔ اس کے برعکس بھارت میں ہونے والی ہر کاروائی پر وہاں کا میڈیا اور سرکار لشکر کو موردالزام ٹھراتے ہیں۔

لشکر طیبہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں فوج کیخلاف عسکری جدوجہد کو جہاد قرار دیتی ہے اور کشمیریوں کی آزادی کا نعرہ بلند کرتی ہے ۔شاید یہی وجہ ہے کہ کشمیر کی سڑکوں پر کشمیری لشکر سے رشتہ کیا لا الہ الا اللہ کے نعرے لگاتے ہیں۔

لشکر پبلک مقامات ہر حملوں کو جائز نہیں سمجتی ۔لال قلعہ سمیت کئی بڑی کاروائیوں کی ذمہ داری لشکر نے قبول کی ہے۔ البتہ بھارت نے پارلیمنٹ پر حملہ،اور سانحہ چھٹی سنگھ پورہ جیسے واقعات کا الزام بھی لشکر پر لگایا جس میں بعد میں بھارتی فوج ہی ملوث نکلی

ممبئی حملے کے بعد لشکر طیبہ دنیا بھر کے میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گئی جب بھارت سرکار نے اس کا الزام عائد کیا اس واقعہ میں ملوث افراد کراچی کے راستہ ممبئی پہنچے اور ان کا تعلق لشکر طیبہ سے ہے۔پاکستان نے پہلے تو اس کا انکار کیا اور پھر کچھ ہی عرصہ کے بعد پاکستان نے اس بات کا اعتراف کرتےہوئے کہ ممبئ حملوں کی کچھ پلاننگ پاکستان میں ہوئی تھی لشکر کے کمانڈر ذکی الرحمان لکھوی ،ضرار شاہ،ابو علقمہ،حماد امین صادق اور دیگر کو گرفتار کرلیا۔

لشکر طیبہ نے ممبئی حملوں میں ملوث ہونے کی تردید کی تھی۔