للت
| راگ موسیقی | |
| فہرست ٹھاٹھ | |
| کلیان ٹھاٹھ: ایمن کلیان - بھوپالی | |
| بھیرویں ٹھاٹھ: بھیرویں - گن کلی - للت | |
| ٹوڈی ٹھاٹھ: میاں کی ٹوڈی - ملتانی | |
| کھلچ ٹھاٹھ: راگیشری - تلنگ - تلک کا مود - جھنجھوٹی | |
| بھیرویں ٹھاٹھ: بھیرویں - مالکونس | |
| ماروا ٹھاٹھ: ماروا - پوریا | |
| آساوری ٹھاٹھ: آساوری - درباری | |
| بلاول ٹھاٹھ: کیدارا - پہاڑی - بہاگ | |
| پوربی ٹھاٹھ: پوریا دھناسری - بسنت | |
| کافی ٹھاٹھ: شدھ بہار - پیلو - بھیم پلاس | |
للت بھیروں ٹھاٹھ کا کھاڈو بعنی بالترتیب آروہی امروہی کے چھ سر کا راگ ہے۔
فہرست |
دوسرے راگوں سے تعلق [ترمیم]
بعض گائک اس کو ماروا ٹھاٹھ کا راگ مانتے ہیں اور بعض کے نزدیک ٹوڈی ٹھاٹھ بھی ہے مگر مستند موسیقی کی کتابوں میں للت کو بھیروں ٹھاٹھ میں ہی دکھایا گیا ہے۔ للت میں چند ایک دوسرے راگ اور راگنیوں کی طرح دونوں مدھیں مستعمل ہیں مگر ان کے استعمال کا طریقہ راگ اور راگنیوں کی ترتیب کے مطابق ایک دوسرے سے بالکل جداگانہ ہے۔ چند راگ اور راگنیوں کے نام حسب ذیل ہیں، جن میں للت کی طرح دونوں مدھیں استعمال ہوتی ہں:
للت - رام کلی - کیدارا - شدھ سارنگ - آنندی؛ وغیرہ
تشکیل راگ [ترمیم]
للت کا وادی سر مدھم اور کھرج سوادی ہے۔ بعض استادان فن گندھار کو وادی اور نکھاد کو سموادی مانتے ہیں۔ پنچم سر اس میں ورج یعنی متروک ہے۔ پنچم کے اضافے سے یہ راگ للت پنچم بن جاتا ہے۔ دونوں مدھموں کی بار بار تکرار اور ملاپ للت کی صحیح شکل و صورت اور سروپ کی تشکیل میں نمایاں مدد دیتی ہے اور اس کی خوب صورتی اور دل کشی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
تاثر [ترمیم]
للت کو شام کے مروا ٹھاٹھ سے منسوب کیا گیا ہے۔حالانکہ اس کے گانے کا وقت بھٹیار کی طرح صبح ہی ہے۔
آروہی آمروہی [ترمیم]
اس راگ کی آروہی آمروہی یوں ہے:
آروہی سا - نی - رے - گا ما دھا - لی سا
امروہی سا - نی - دھا - ما - گا - رے - سا
آروہی میں کومل مدھم اور آمروہی میں دونوں مدھمیں استعمال کی جاتی ہیں۔
حوالہ جات [ترمیم]
اختر علی خان، ذاکر علی خان؛ نورنگ موسیقی۔ اردو سائنس بورڈ، لاہور؛ 299 اپر مال روڈ ۔ 1999ء باب دوم، صفہ 66-70۔