ایک روزہ کرکٹ
ایک روزہ کرکٹ میں دو ٹیمیں 50 اوور پر مشتمل میچ کھیلتی ہیں۔ دونوں ٹیمیں ایک اننگز کھیلتی ہے پھر دوسری ٹیم 50 اوور پو مشتمل دوسری اننگز۔ کرکٹ کا عالمی کپ بھی اسی طرز کی کرکٹ میں کھیلا جاتا ہے۔ ایک روزہ کرکٹ کو لمیٹیڈ اوور کرکٹ بھی کہتے ہیں کیوں کہ یہ مختصر اوور (50) پر مشتمل ہوتا ہے۔ اگر خراب موسم یا کسی وجہ سے میچ ایک دن میں مکمل نہ ہو سکے تو اکثر اگلے دن میچ مکمل کیا جا سکتا ہے لیکن وہ صرف اس صورت میں کہ جب میچ کے دن سے اگلا دن پہلے سے کھیل کے لیے مخصوص کیا ہو۔ یہ عموما کسی خاص ٹورنامنٹ کے لیے کیا جاتا ہے۔ جس کو ریزرو ڈے کہتے ہیں۔
سب سے پہلا ایک روزہ کرکٹ میچ 5 جنوری 1971 میں آسٹریلیا اور برطانیہ کی ٹیموں کے مابین میلبورن کرکٹ گراؤنڈ میں کھیلا گیا۔ ایک روزہ کرکٹ کی ابتدا بارش کی وجہ سے ہوئی جب ٹیسٹ میچ کے پہلے تین دن کوئی کھیل بارش کی وجہ سے نہ ہو سکا۔ تو دونوں ٹیموں نے آٹھ گیندوں کے چالیس چالیس اوور پر مشتمل میچ کھیلنے کا فیصلہ کیا۔ آسٹریلیا نے وہ میچ پانچ وکٹ سے جیتا۔
1970 کی دہائی میں کیری پیکر نےایک روزہ کرکٹ کے مقابل ورلڈ سیریز کرکٹ منعقد کرانے کا فیصلہ کیا۔ ایک روزہ کرکٹ میں استعمال ہونے والے اکثر قوانین اسی ورلڈ سیریز کرکٹ سے لیے گئے ہی۔ اس میں رنگین وردی، سفید گیند، کالی سائیڈ سکرین، مختلف کیمرے، اور مائکروفون کا استعمال کرنا شامل ہے۔
قوانین [ترمیم]
مزید معلومات کے لیے دیکھیے: قوانین کرکٹ
ایک روزہ میچ میں دونوں ٹیمیں مقررہ اوور (عموما 50 اوور) کی ایک ایک اننگز کھیلتی ہیں۔ ایک روزہ کرکٹ کے شروع میں ایک اننگز ساٹھ اوور پر مشتمل ہوتی تھی لیکن اب ایک اننگز پچاس پر مشتمل ہوتی ہے۔ ایک روزہ کرکٹ اس طرح کھیلی جاتی ہے:
- میچ گیارہ کھلاڑیوں پہ مشتمل دو ٹیموں کے درمیان کھیلا جاتا ہے۔
- جیتنے والی ٹیم کا کپتان، بلے بازی یا گیند بازی کا فیصلہ کرتا ہے۔
- ایک ٹیم پہلے کھیل کر جتنی دوڑیں بنا سکے بناتی ہے۔ ایک اننگز اس وقت ختم ہوتی ہے جب گیارہ میں سے دس کھلاڑی آؤٹ ہو جائیں۔یا مقررہ اوور ختم ہو جائیں۔
- ہر گیند بازصرف دس اوور کروا سکتا ہے۔
- دوسری اننگز میں بلے بازی کرنے والی ٹیم مقررہ سکور پورا کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ اور گیند بازی کرنے والی ٹیم بلے بازوں کو آؤٹ کر نے کی کوشش کرتی ہے۔
- اگر کسی وجہ سے کھیل روکنا پڑے تو ڈک ورتھ لوئیس کے تحت میچ کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔
ایک روزہ کرکٹ کھیلنے والے ممالک [ترمیم]
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل اس چیز کا فیصلہ کرتی ہے کہ کون ایک روزہ کرکٹ میچ کھیل سکتا ہے۔ ٹیسٹ کرکٹ کی حیثیت رکھنے والے ممالک ایک روزہ کرکٹ کھیلنے کے اہل بھی ہوتے ہیں۔ اس وقت دس ممالک ایک روزہ کرکٹ کھیلنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ وہ ممالک یہ ہیں۔ ( اس کے ساتھ تاریخ درج کی گئی ہے جب ان کو ایک روزہ کرکٹ کھیلنے کی اجازت ملی۔)
انگلستان (5 جنوری، 1971)
آسٹریلیا (5 جنوری، 1971)
نیوزی لینڈ (11 فروری، 1973)
پاکستان (11 فروری، 1973)
ویسٹ انڈیز (5 ستمبر، 1973)
بھارت (13 جولائی، 1974)
سری لنکا (7 جون، 1975)
زمبابوے (9 جون، 1983)
بنگلہ دیش (31 مارچ، 1986)
جنوبی افریقہ ( 10 نومبر، 1991)
ان ممالک کو عارضی طور پر ایک روزہ کرکٹ کھیلنے کی اجازت دی گئی ہے۔
کینیا (18 فروری، 1996 تا ICC ٹرافی 2009)
برمودا (1 جنوری، 2006 تا ICC ٹرافی 2009)
کینیڈا (1 جنوری، 2006 تا ICC ٹرافی 2009)
آئرلینڈ (1 جنوری، 2006 تا ICC ٹرافی 2009)
سکاٹ لینڈ (1 جنوری، 2006 تا ICC ٹرافی 2009)
آئس لینڈ (1 جنوری، 2006 تا ICC ٹرافی 2009)
کینیا کے علاوہ باقی ٹیموں کو اس کی اہلیت ٹرافی 2005 میں اچھی کارکردگی دکھنے پر ملی۔ بہترین کاکردگی دکھانے پر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل اکثر اچھی ٹیموں کو ایک روزا کرکٹ کھیلنے کی اجازت دیتی ہے تا کہ ان کو بین الاقوامی کرکٹ کا میعار دیکھنے کو ملے۔