لوف جسیم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
wikipedia:How to read a taxoboxHow to read a taxobox
لوفِ جسیم (ٹائٹان اروم)
لوفِ جسیم کا پھول
لوفِ جسیم کا پھول


قـواعـد اسـم بنـدی
ساحہ:
domain
حقیقی المرکزیہ
مملکہ:
kingdome
نباتات
شعبہ:
division
میگنولتات
‏Magnolio-phyta
جماعت:
class
سوسیتی
Liliopsida
طبقہ:
order
متبادل زیرتحقیق
Alismatales
خاندان:
family
لوفان
Araceae
جنس:
genus
ذکر بیشکل
Amorphophallus
نوع:
species
ذکر بیشکل جسیم
A.titanum

دو اسمی نام
Amorphophallus titanum
ذکر بیشکل جسیم

Becc. Becc. ex Arcang
اصطلاحات

Titan : جسیم
arum : لوف
Amorphous : بیشکل
phallus : عضوء مذکر (ذکر)
Amorphophallus : ذکربیشکل

لوفِ جسیم (Titan Arum) دنیا کا ایک تنے والا سب سے لمبا پودا ہے جس پر ایک پھول کھلتا ہے اور جس کی کوئی اور شاخ نہیں ہوتی۔ یہ اروم خاندان کا سب سے بڑا پودا ہے۔

  • وجۂ تسمیہ:
  1. عام نام : لوف (Arum) پودوں کے ایک ایسے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں جنکو انہی کے نام پر لوفان (Araceae) کہا جاتا ہے۔ اور چونکہ مذکورہ پھول جیسا کہ اوپر بیان ہوا arum خاندان کی سب سے بڑی پھولداری ہے اسی لیۓ اس لوف (arum) کے نام کے ساتھ Titan یعنی عظیم الجثہ یا جسیم لگایا جاتا ہے۔
  2. نباتاتی نام : لوفان خاندان کی ایک جنس ایسی ہوتی ہے جنکے پھولوں یا پھولداری کے درمیان میں ایک دستہ نما جسم نکلتا ہے جسکو طلع (spadix) کہا جاتا ہے۔ اس جسم کی یا دستے کی شکل کی بنا پر انکو نر کے عضؤ تناسل (penis) سے تشبیہ دی جاتی ہے اور اس موٹی سے ڈنڈی یا دستہ نما ساخت کو phallus کا لاحقہ لگا کر ظاہر کرا جاتا ہے۔ phallus کا مطلب penis یا عضؤ تناسل ہوتا ہے اور چونکہ انکی شکل بھدی سی بھی محسوس ہوتی ہے اور غیر معین بھی ہوتی ہے اسی وجہ سے اسکے ساتھ amorphous یعنی بے شکل کا سابقہ لگا کر Amorpho-phallus کہا جاتا ہے، اردو میں اسے ذکر بیشکل کہتے ہیں۔ amorphous میں morphous کا مطلب شکل ہے جبکہ a کا سابقہ بے ، لا اور نا وغیرہ کے مفہوم میں لگایا جاتا ہے۔

ٹائٹان اروم صرف وسطی سماٹرہ، انڈونیشیا کے بارش والے جنگلات میں پایا جاتا ہے۔ انڈونیشیا میں اسے بنگا بینکائی کہتے ہیں جس کا مطلب ہے مردہ پودا۔ یہ نام اس لیۓ اسے دیا گیا ہے کیونکہ اس میں سے مردہ جانوروں کی بو آتی ہے۔

دریافت[ترمیم]

اسے اطالوی ماہر نباتات ایڈوریڈ بکاری (Odoardo Beccari) نے 1878ء میں پہلی بار دیکھا اور یہ ریکارڈ پر آیا۔ اس نے جب اسکی جڑ کو کھودا تو یہ دیو قامت پھول ایک پیاز جیسی گانٹھ (Corm) میں سے نکل رہا تھا۔ یہ گانٹھ اسکی خوراک کا ذریعہ ہوتی ہے۔ اس گانٹھ کا گھیراؤ 5 فٹ تھا۔ دو آدمیوں نے اسے کھودا اور بڑی مشکل سے اسے باہر نکال سکے۔ ان میں سے ایک کا پاؤں پھسلا اور یہ عظیم الجثہ گانٹھ ٹوٹ گئی۔ یہ اسلۓ نازک تھی کیونکہ اس کا ڈھانچہ مکمل طور پر نباتاتی چربی سے بنا ہوا تھا۔ بکاری کو جنگل میں سے اروم کے کچھ چھوٹے پودے ملے جنھیں وہ یورپ کے نباتاتی باغوں میں بیجھنے میں کامیاب ہوا۔

ٹائٹان اروم

زندگی کا چکر[ترمیم]

اسکے بیج سے ایک پتا نکلتا ہے۔ جو ایک چھوٹے درخت کی طرح ہوتا ہے۔ یہ ایک سبز، مضبوط اور گول ستون کی طرح اوپر اٹھتا ہے۔ اپنی چوٹی پر یہ تین شاخوں میں بٹ جاتا ہے جس پر چھوٹے چھوٹے پتے ہوتے ہیں اور یہ ایک چھتری کی طرح پھیلا ہوتا ہے۔ ایک پورا اگا ہوا پتا 20 فٹ لمبا اور اسکی چھتری 15 فٹ کی ہوتی ہے۔ ہر سال پودا اپنے اس عظیم الجثہ پتے میں خوراک تیار کرتا ہے جو اسکی پھولتی ہوئی گانٹھ میں جمع ہوتی رہتی ہے۔ ہر سال پتہ ختم ہوجاتا ہے اور دوبارہ اگتا ہے 7 سالوں یا کئ سالوں بعد یہ پتہ آخری بار ختم ہوتا ہے اور پودہ 6 مہینے تک آرام کرتا ہے۔ جنگل کے فرش پر کوئی نشان نظر نہیں آتا کہ کہاں وہ گانٹھ موجود ہے پھر ایک بہت بڑی کونپل اس ننگی زمین سے نکلتی ہے یہ سال کے کس وقت یا کس مخصوص لمحے میں نکلتی ہے کوئی نہیں جانتا۔ کچھ دنوں تک بغیر کھلے یہ ایسے ہی رکی رہتی ہے۔ پھر اچانک بہت بڑی رفتار سے اپنی پوری بلندی تک یہ پھول کھل اٹھتا ہے۔ اس کا طلع (Spadix) پتی میں سے باہر نکلتا ہے اور پتی اپنے آپ کو کھولتی ہے۔ ٹائٹن اروم کا واحد تنا 3 میٹر (10 فٹ) اونچا ہوتا ہے۔ اسکا سٹا 9 فٹ لمبا اور اسکے ارد گرد اسکی رنگین پتی 4 فٹ اونچی ہوتی ہے اور اس گریبانہ (Spathe) کا ایک طرف سے سامنے کی طرف کا فاصلہ 3 فٹ ہے جس ميں گہری سلوٹیں بنی ہوئی ہوتی ہیں۔ پتی کا رنگ باہر کی طرف سے سبزی مائل کریم ہوتا ہے جبکہ اندر والا حصہ کلیجی رنگ کا ہوتا ہے۔ اس کا سٹا ہلکے پیلے رنگ کا ہوتا ہے اور اندر سے کھوکھلا ہوتا ہے۔ پتی کا رنگ دار حصہ جو باہر سے کلیجی کی طرح سرخ ہے پیندے کی طرف ہلکا ہوتا جاتا ہے اور اپنی گہرائی میں ایسے ہو جاتا ہے جیسے روشنی جل رہی ہو۔ سٹے کی بنیاد میں اسکے اردگرد تسبیح کے دانوں کی طرح نر حصے ہیں جبکہ اسکے نیچے بڑے اور گلابی رنگ کے دانے مادہ حصے ہیں جن کے اوپر والے حصے جامنی اور چوٹی پیلی ہوتی ہے۔ دو دن بعد پھول ختم ہونے لگتا ہے سٹا جھک جاتا ہے اور پتی اندر کو مڑتی ہے اور سٹے کو مضبوطی سے اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے اور ایک مضبوط تھیلی کی شکل اختیار کر لیتی ہے اس کے اندر محفوظ، پھول کے مادہ حصے پھولنے لگتے ہیں۔ اس کا نچلا تنا بڑھتا رہتا ہے اور اس ناشپاتی کی شکل کی تھیلی کو ہوا میں اونچا لے جاتا ہے کچھ وقت بعد یہ تھیلی ختم ہو جاتی ہے ہزاروں کی تعداد میں چھوٹے بیروں جتنے دانے ظاہر ہوتے ہیں جو 6 انچ لبے ہوتے ہیں اور تنے کے ارد گرد پٹی کی شکل میں پھیلے ہوتے ہیں۔ پھر یہ شوخ سرخ رنگ میں تبدیل ہوجاتے ہیں پرندے پھلوں کی اس شاندار دعوت کو کھانے آتے ہیں اور اسکے بیج بھی میلوں دور تک لے جاتے ہیں۔

اسکے سٹے میں ایک شگاف ہوتا ہے جس میں سے بو نکل کر پھیلتی ہے۔ یہ بو گلے سڑے گوشت جیسی ہوتی ہے اور گوشت کھانے والے کیڑوں اور مکھیوں کو اپنی طرف کھینچتی ہے اور یہ آکر اس کو بیج بنانے میں مدد دیتے ہیں۔ پھول کی عمر کیونکہ محض دو دن ہوتی ہے اس لیۓ اس مختصر عرصے میں کیڑوں کو اپنی طرف کھینچنے کے لیۓ پودے کو پورا زور لگانا پڑتا ہے چنانچہ اسکا سٹا ایک فیکٹری کی چمنی کی طرح کام کرتا ہے کا جس میں دھوان نکلتا ہے۔ جب یہ پھول کھلتا ہے تو اسکا درجہ حرارت انسانی درجہ حرارت کے برابر ہوتا ہے جو اسکی بو کو ہوا میں پھیلانے میں مدد دیتا ہے۔

نر اور مادہ دونوں حصے ایک ہی پودے میں ہوتے ہیں۔ مادہ حصہ پہلے کھلتا ہے پھر ایک یا دو دن بعد نر حصہ۔ اس طرح انکی آپس میں تولید نہیں ہو سکتی۔

کاشت[ترمیم]

جنگل میں یہ صرف سماٹرہ انڈونیشیا میں ہوتا ہے۔ باغ میں پہلی بار یہ 1889ء میں شاہی نباتاتی باغ، کیو، لندن میں کھلا۔ اس کے بعد سے اب تک یہ 100 بار کھل چکا ہے۔ دنیا میں کاشت شدہ پودوں کی تعداد بڑھ چکی ہے اور سال میں چار پانچ بار کہیں نہ کہیں کھل جاتا ہے۔

دنیا میں سب سے اونچا ٹائٹان اروم نباتاتی باغ، بون، جرمنی میں کھلا۔ اسکی اونچائی 2.74 میٹر تھی۔ اس ریکارڈ کو گینیز بک آف ورلڈ ریکارڈز میں بھی درج کیا گیا۔

اس ریکارڈ کو 20 اکتوبر 2005ء میں ایک اور ٹائٹان اروم نے توڑا جس کی اونچائی 2.91 میٹر تھی۔

ایوان تصویر[ترمیم]